حقیقت کا سامنا

پاپولسٹ فروٹ اتارتے وقت پہلے نیچے لٹکے ہوئے  پھلوں کی طرف جانا چاہیے۔اگر یہ اصول نہ بھی ہو تو بھی  پی ٹی آئی نے اپنے اقتدار کے آغاز کے دنوں میں یہ پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔

اس سے پہلے کہ عمران خان کے پرستار مجھے نشانہ بنائیں، مجھے واضح کرنے دیا جائے کہ میں سادگی پسند ہوں اور سادگی کے عمل کی حمایت کرتا ہوں۔ ۔ درحقیقت  جس طریقے سے ہمارے سیاست دان  اقتدار کے نشے میں جو طاقت کا مظاہرہ کرتے آئے ہیں وہ پاکستان جیسے ملک کے کیے بہت تکلیف دہ عمل رہا ہے۔  بہت امیر ممالک کے قائدین اپنی عوام کے ساتھ رویے میں زیادہ عقلمندی کا مظاہرہ کرتے  ہیں۔

تو جب عمران خان نے اعلان کیا کہ وہ وزیر اعظم ہاؤس میں نہیں رہیں گے، مجھے لگا کہ یہ دانشمندانہ انتخاب تھا،کیونکہ اس وزیر اعظم ہاو س کی شان و شوکت کے بارے میں سن کر اس کا تاثر بہت خراب ہو چکا ہے۔  لیکن سادگی  کا عمل یہیں تک محدود نہ رہا  بلکہ ایک پرانے دوست  شفقت محمود جن پر اب وزیر قومی تاریخ اور ادبی ڈویژن کا عہدہ بھی تھونپ دیا گیا ہے نے بتایا کہ ملک کی بہت سی دوسری سرکاری عمارتوں کو   دوسرے مقاصد کے لیے استعمال  کیا جائے گا۔

سب سے پہلے ، پی ایم ہاؤس کو سٹیٹ آف دی آرٹ یونیورسٹی میں تبدیل کیا جائے گا۔ 5 سال تک ایک نجی یونیورسٹی کے صدر کے طور پر خدمات انجام دینے کی وجہ سے میں جانتا ہوں کہ ایک اعلی تعلیمی ادارہ اینٹوں اور مصالحے  کی عمارت سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتا ہے  اور عمارت کی موجودگی محض ایک ابتدائیہ ہوتی ہے۔ قابل اساتذہ کو تلاش  اور بھرتی کرنا سب سے بڑا چیلنج ہے۔

ایک یونیورسٹی کو اپنی اہمیت ثابت کرنے کے لیے کئی سال کی محنت اور بہت سے وسائل درکار ہوتے ہیں۔ تو جب وزیر اعظم ہمیں بتاتے ہیں کہ پی ایم ہاؤس کو برقرار رکھنے کے لیے اس وقت 470 ملین روپے درکار ہیں، تو میں ان کو بتا دوں کہ  یونیورسٹی کو چلانے کے اخراجات اس سے کہیں زیادہ ہیں۔ ہمیں یہ معلومات بھی دی گئی کہ بہت سی سرکاری عمارات  دوسرے  اہم مقاصد کے لیے استعمال میں لائی جائیں گی۔ اگرچہ میں بھی اس چیز کا حامی ہوں کہ عوام کو بڑے بڑے محلات تک رسائی دی جانی چاہیے جیسا کہ کولونیل ازم کے دور میں ہوتا تھا لیکن حکومت کو بہت احتیاط برتنی ہو گی کہیں ایسا نہ ہو کہ بعد میں معلوم پڑے کہ کتنے سفید ہاتھی پالے جا چکے ہیں۔

مثال کے طور پر، لاہور میں بہت بڑے گورنر ہاؤس کو عجائب گھر اور آرٹ گیلری میں تبدیل کرنے کی  اور اس کے احاطے کو عوام کے لیے سیر گاہ کے طور پر تیار کرنے کی تجویز دی جا رہی ہے۔ یہ ایک اچھا خیال ہے لیکن اتنے بڑے عجائب گھر کے لیے بہت سا مواد بھی چاہیے ہوتا ہے جوا عوام کے سامنے پیش کیا جا سکے۔ ہمارے پاس پہلے ہی لاہور میوزیم موجود ہے جس میں گندھارا، مغل اور سکھوں کے دور کی چیزوں  موجود ہیں۔

ایک آرٹ گیلری کو دکھانے کے لیے نقشے اور مجسمے مطلوب ہوتے  ہیں۔ 1970 کی دہائی تک فنکاروں کی ایک کمیٹی ہوا کرتی تھی  جن کے پاس قومی گیلری کے لیے فن کے جدید فن پاروں کے حصول کے لیے بجٹ تھا۔ اسے ضیاء نے ختم کیا اور بینظیر بھٹو نے دوبارہ بحال کیا۔ میں نہیں جانتا کہ  اس کمیٹی نے کوئی پینٹنگ خریدی تھی  یا نہیں  جب بینظیر کی  جگہ نواز شریف  کو تخت پر پہنچا دیا گیا۔  اتفاقیہ طور پر، ان معاملات کے بارے  میں میری معلومات کی بنیادی وجہ میرا منسٹری آف کلچر کا کچھ تجربہ ہے۔

ان سب منصوبوں پر دی گئی رقوم کی تعداد 1.15 بلین روپے سے کہیں زیادہ  ہے جو وزیر اعظم ہاوس پر سالانہ خرچ ہوتی ہے  لیکن ان عمارتوں پر خرچ ہونے والی رقم سے کوئی غریب بھی نہیں ہوتا چاہے انہیں کسی دوسرے مقصد کے لیے بھی استعمال کیا یا نہ کیا جائے۔  تاہم، نتھیا گلی میں گورنر ہاؤس کو ہالی ڈے ریزورٹ میں تبدیل کرنے اور کراچی کے قصر ناز فیڈرل گیسٹ ہاوس کو فائیو سٹار ہوٹل میں تبدیل کرنے کی خواہش خطرے سے بھرپور ہے۔

لوگ 'فائیو سٹار ہوٹل' کی اصطلاح اس طرح استعمال کرتے ہیں جیسے وہ کسی مقامی ڈھابے  کی بات کر رہے ہوں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان میں ایسا ایک ہوٹل بھی نہیں ہے جو بین الاقوامی سطح پر فائیو سٹار کا درجہ پا سکے۔ اصل میں ایک خستہ حال حکومتی گیسٹ ہاؤس کو فائیو سٹار ہوٹل میں تبدیل کرنا ایک بہت بڑی انوسٹمنٹ کا تقاضا کرتا ہے  اور پر خطر منصوبہ ہے۔ کیا  کوئی فیز ایبلٹی رپورٹ پیش کی گئی ہے جس میں یہ تعین کیا گیا ہو کہ  کراچی میں معیاری ہوٹل کمروں کی کمی ہے جس کے لیے ایسا قدم اٹھایا جا سکتا ہے؟

یہ بات واضح ہے کہ حکومت کے پاس ہوٹلوں کو قائم کرنے اور چلانے کی کوئی مہارت نہیں ہے۔ پاکستان ٹورزم ڈویلپمنٹ کارپوریشن، جو حکومت کی ملکیت ہے، جو ملک میں سستے ہوٹل چلاتی ہے، نے فنڈز کی شدید کمی کی شکایت کی ہے، اور اس کے سٹاف کو اکثر مہینوں تک تنخواہ کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ تو ظاہر ہے کہ ہمیں پرائیویٹ ہوٹل کمپنیوں سے رابطہ کرنا پڑیگا  اور ان کی انویسٹ منٹ کے لیے ان کی شرائط کو بھی ماننا پڑے گا۔

میں پارکوں، عجائب گھروں، یونیورسٹیوں اور آرٹ گیلریوں کی تعداد بڑھانے کی حمایت کرتا ہوں اور میں خوش ہوں کہ یہ اقدامات اس حکومت کے لیے اہمیت رکھتے ہیں۔ تاہم، میں ایک مشورہ دے رہا ہوں کیوں کہ میں جانتا ہوں کہ ان خوابوں کو حقیقت کے رنگ میں لانے کے لیے وقت اور وسائل کی ضرورت ہے۔

جب عمران قوم کے بڑے مسائل کا جلدی حل نکالنے کی کوشش میں ہیں  تو انہیں یہ معلوم ہو رہا ہے کہ احتجاج کے ذریعے اور تشدد کی دھمکی سے حکومت کو عدم استحکام کا شکار کرنا آسان ہے لیکن  حکومت  کرنا بہت مشکل ہے۔اگر وہ باتوں سے زیادہ عمل سے کارکردگی دکھاتے تو اس سے زیادہ بہتر تاثر ملتا۔ آخر کار انہوں نے  اس لمحے کے لیے 20 سال تک تیاری کی تھی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *