گوگل سب جانتا ہے

کیا آپ جانتے ہیں کہ DuckDuckGo پر سرچ کرنے کے بر عکس آپ جب گوگل پر سرچ کرتے ہیں، وہ آپ کی سرچ ہسٹری ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیتا ہے؟ اس کا مطلب ہے  کہ زندگی میں آپ نے جو بھی سرچ کو ہو وہ گوگل کو معلوم ہوتی ہے۔  یہ چیز  بھی بہت خوفناک ہے لیکن یہ کوئی بڑی چیز نہیں۔ اصل چیز تو وہ  خفیہ ڈیٹا ہے جو وہ لوگوں کے بارے میں اکٹھا کرتے ہیں۔

جو چیز زیادہ تر لوگ سمجھ نہیں پاتے وہ یہ ہے کہ اگر وہ کوئی گوگل پروڈکٹ براہ راست استعمال نہ بھی کریں تو گوگل ان کے بارے میں زیاد ہ سے زیادہ معلومات اکٹھا کرنے کی کوشش میں رہتا ہے۔  گوگل ٹریکر تقریبا 75 فیصد لاکھوں اعلی سطح کی ویب سائٹس پر پایا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے آپ انٹرنیٹ پر جہاں بھی جاتے ہیں وہ ہاں بھی آپ کو ٹریک کرنے کی کوشش کرتے ہیں، آپ کی سرچ ہسٹری کو اڑا لینے کی کوشش کرتے ہیں۔

زیادہ تر لوگ یہ بھی نہیں جانتے کہ گوگل والے پورے انٹرنیٹ اور ایپلیکیشنز میں زیادہ تر اشتہار چلاتے ہیں جنہیں آپ دیکھتے ہیں، آپ جانتے ہیں کہ وہ ہر جگہ آپ کا پیچھا کرتے ہیں؟ جی ہاں، یہ بھی گوگل ہے۔ وہ اب ایک سرچ کمپنی نہیں ہیں، وہ اب ایک ٹریکنگ کمپنی ہیں۔ وہ ان تنگ کرنے والی اور مداخلت کرنے والی ایڈز کے لیے اتنا ٹریک کرتے ہیں جتنا وہ کر سکتے ہیں، اس میں وہ ریکارڈ بھی شامل ہوتا ہے جب آپ ان اشتہاروں کو دیکھتے ہیں ، کہاں دیکھتے ہیں ، کب آپ ان پر کلک کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

 بلکہ صرف یہی نہیں ہے۔

اگر آپ گوگل پراڈکٹ استعمال کرتے ہیں

اگر آپ گوگل پراڈکٹس استعمال کرتے ہیں، وہ اور زیادہ آپ کو ٹریک کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ اس ہر چیز کو ٹریک کرتے ہوئے جو آپ نے گوگل پر سرچ کی ہو، گوگل والے اس ویڈیو کو بھی ٹریک کرتے ہیں جو آپ نے کبھی یو ٹیوب پر دیکھی ہو۔ در اصل زیادہ تر لوگ نہیں جانتے کہ یو ٹیوب کا مالک گوگل والے ہی ہیں، اب آپ جانتے ہیں۔

اور اگر آپ انڈرائڈ استعمال کرتے ہیں (ہاں گوگل والے ان کے بھی مالک ہیں)، پھر بھی گوگل والے ٹریک کر رہے ہوتے ہیں :

                ہر جگہ جہاں آپ گوگل لوکیشن سروس کے ذریعے جاتے ہیں۔

آپ کتنی دفعہ اپنی ایپلیکیشن استعمال کرتے ہیں، جب بھی آپ انہیں استعمال کرتے ہیں، جہاں بھی آپ انہیں استعمال کرتے ہیں، اور جس کے ساتھ بات چیت کے لیے آپ استعمال کرتے ہیں۔ (یہ اندازے سے باہر ہے)

آپ کے تمام ٹیکسٹ میسج،  بائی ڈیفالٹ انکرپٹ نہیں ہوتے

آپ کی تصویریں (حتی کہ وہ بھی جو آپ نے کبھی مٹا دی ہوں)

اگر آپ Gmail استعمال کرتے ہیں تو بھی یقینا آپ کے تمام ای میل میسج ان کے پاس ہوتے ہیں۔ اگر آپ گوگل کیلینڈر استعمال کرتے ہیں تو وہ آپ کا پورا شیڈول جانتے ہیں۔ یہاں  یہ ترتیب ہے: تمام گوگل پراڈکٹس (ہینگ آؤٹ، میوزک، ڈرائیو وغیرہ) کے لیے، آپ ٹریکنگ کی اسی سطح کی توقع کر سکتے ہیں،  اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کسی چیز کو جتنا بھی ٹریک کر سکیں وہ کرتے ہیں۔

اوہ، اور اگر آپ گوگل ہوم استعمال کرتے ہیں، تو وہ اس کی لائیو ریکارڈنگ رکھتے ہیں جس چیز کی بھی آپ نے کمانڈ دی ہو (یا کوئی اور چیز) جو آپ کی ڈیوائس پر کی گئی ہو۔ جی ہاں، آپ نے صحیح سنا، (اوہ، انہوں نے بھی سنا) آپ یہ ریکارڈنگ گوگل ایکٹیویٹی پیج پر چیک کر سکتے ہیں۔

بنیادی طور پر، اگر آپ انہیں موقع دیں تو وہ مزید قریب سے ہر اس چیز کو ٹریک کرتے ہیں جو آپ انٹرنیٹ پر کرتے ہیں۔ در اصل، اگر آپ انہیں ٹریک کرنے سے رکنے کا بھی کہیں، گوگل نہ سننے کے لیے جانا جاتا ہے، مثال کے طور پر لوکیشن ہسٹری کے ساتھ۔

آپ پراڈکٹ بن جاتے ہیں

گوگل کو آپ کی تمام معلومات کیوں چاہییں؟ سادہ جواب یہ ہے کہ جیسا کہ میں بتا چکا ہوں،  گوگل اب سرچ کمپنی نہیں ہے، وہ ٹریکنگ کمپنی ہے۔ یہ تمام ڈیٹا پوائنٹس گوگل کو آپ کے بارے میں ایک بہترین مضبوط پروفائل بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ کئی معاملات میں تو وہ  آپ کو آپ سے بھی زیادہ جانتے ہیں۔

گوگل آپ کی ذاتی پروفائل کو اپنے اشتہار بیچنے کے لیے استعمال کرتا ہے ، نہ صرف اپنے سرچ انجن پر، بلکہ دوسری تین ملین ویب سائٹس اور ایپلیکیشنز پر بھی۔ ہر وقت جب آپ ان سائٹس یا ایپلیکیشنز پر جاتے ہیں، گوگل اپنے ہائپر ٹارگٹڈ اشتہارات کے ذریعے آپ کا پیچھا کرتا ہے ۔

یہ تباہ کن ہے، گوگل کو یہ تمام معلومات جمع کرنے کی اجازت دیتے ہوئے آپ سینکڑوں ہزاروں مشتہرین کو اپنے حساس ذاتی ڈیٹا پر اشتہارات کی بنیاد پر بولی لگانے کی اجازت دیتے ہیں۔ آپ کے سوا ہر کوئی آپ کی معلومات سے منافع حاصل کرنے میں ملوث ہے۔ آپ ایک پراڈکٹ ہیں۔ یہ اس طرح نہیں ہونا چاہیے۔ کسی بھی ویب پر مبنی کاروبار کے لیے آپ کو پراڈکٹ بنائے بغیر منافع کمانا بالکل ممکن ہے۔ 2014 سے DuckDuckGo لوگوں کی ذاتی معلومات اکٹھی کیے بغیر منافع بخش رہی ہے۔

''کچھ نہ چھپانے '' کی کہانی

کچھ لوگ کہتے ہوں گے کہ ان کے پاس ''چھپانے کو کچھ نہیں''، تو وہ اس سے لا تعلق ہیں کہ گوگل نے ان کے بارے میں کس قدر معلومات اکٹھی اور محفوظ کی ہیں، لیکن یہ بحث بنیادی طور پر بعض وجوہات کی  بنا پر غیر متوازن ہے۔

ہر کسی کے پاس معلومات ہوتی ہیں جنہیں وہ پرائیویٹ رکھنا چاہتے ہیں۔ جب آپ باتھ روم جاتے ہیں تو دروازہ بند کرتے ہیں؟ پرائیویسی آپ کی تمام نجی معلومات کو قابو کرنے سے تعلق رکھتی ہے۔ آپ اسے ہر ایک کے حوالے کرنا نہیں چاہتے، اور یقینا آپ یہ بھی نہیں چاہتے کہ لوگ ان سے منافع حاصل کریں آپ کی اجازت یا حصے کے بغیر۔

مزید یہ کہ پرائیویسی جمہوری اداروں جیسے ووٹنگ اور روز مرہ کے حالات جیسے علاج کروانا معاشی معاملات نمٹانا میں بنیادی چیز ہے۔ اس کے بغیر واضح نقصانات ہو سکتے ہیں۔

انفرادی سطح پر پرائیویسی کی کمی آپ کو فلٹر ببل میں رکھنے، اشتہارات کے زیر اثر، تفرقے، فراڈ اور شناخت  کھو جانے کی طرف لے جاتی ہے۔ معاشرتی سطح پر آپ کو گہری مخالفت اور معاشرتی تضاد جیسے کہ بدقسمتی سے آپ حالیہ سالوں میں اکثر دیکھتے رہے ہیں کی طرف لے جاتی ہے۔

آپ گوگل سے آزاد زندگی گزار سکتے ہیں

بنیادی طور پر گوگل بہت پیچھا کرنے کی کوشش کرتا  ہے ۔ سادہ الفاظ میں زیادہ سے زیادہ معلومات جتنی کسی دوسری کمپنی کے پاس ہو سکتی ہوں کے حصول کی کوشش کی جاتی ہے۔

اچھی بات یہ ہے کہ گوگل کے اثرات کو کم کرنے کے، بلکہ ختم کرنے کے بہت سے اچھے طریقے ہیں۔ اگر آپ گوگل کے بغیر رہنے کے لیے تیار ہیں، ہمارے پاس ان کی پراڈکٹس کے مقابلے میں سروسز کے لیے  تجاویز ہیں اسی طرح گوگل سرچ ہسٹری کو صاف کرنے کی ہدایات بھی ہیں۔شاید آپ کو ایسا محسوس ہو کہ آپ گوگل میں پھنس چکے ہیں لیکن اس سے آزاد ہونا ممکن ہے۔

نئے لوگوں کے لیے، اپنی تمام سرچز کے لیے سرچ انجن کو تبدیل کرنے میں لمبا وقت درکار ہے۔ آخر کار، آپ اپنا انتہائی ذاتی سوال اپنے سرچ انجن کے ساتھ بیان کرتے ہیں، کم از کم کیا  ایسے سوالات کو پرائیویٹ نہیں رکھنا چاہیے؟ اگر آپ DuckDuckGo ایپلیکیشن یا ایکسٹینشن استعمال کرتے ہیں تو   آپ نہ صرف اپنی سرچز کو  محفوظ  بناتے ہیں بلکہ گوگل کے پھیلے ہوئے ٹریکرز کو بھی بلاک کر سکتے ہیں  ۔

اگر DuckDuckGo سے آپ ناواقف ہیں، ہم انٹرنیٹ  پرائیویسی کمپنی ہیں جو آپ کو بغیر کسی اخراجات کے آپ کی ذاتی معلومات کو قابو میں رکھنے کے قابل بناتی ہے۔ ہم گوگل کے مقابلے میں اپنا ایک سرچ انجن http://duckduckgo.com, پر چلاتے ہیں اورآپ کو گوگل اور فیس بک اور دوسرے ٹریکرز سے محفوظ رکھنے کے لیے  ایک موبائل ایپلیکیشن اور ڈیسک ٹاپ براؤزر ایکسٹینشن پیش کرتے ہیں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *