انڈیا میں اب بدکاری جرم نہیں ہے

پہلے کوئی مرد اگر کسی شادی شدہ عورت کے ساتھ اس کے شوہر کی اجازت کے بغیر بدکاری کرتا تھا تو وہ جرم کرتا تھا۔

ایک درخواست دہندہ نے قانون کو یہ کہتے ہوئے چیلنج کیا کہ یہ مردوں اور عورتوں کے خلاف ستم اور تفرقہ ہے۔

یہ واضح نہیں کہ اس قانون کے تحت کتنے مردوں کو سزا ہوئی۔ اس کا کوئی ڈیٹا موجود نہیں ہے۔

یہ دوسرا نو آبادیاتی دور کا قانون ہے جو کہ اس ماہ ہندوستانی سپریم کورٹ کی طرف سے لاگو کیا گیا ہے۔ اس نے 157 سال پرانے قانون کو بھی بدل دیا ہے جس نے ہندوستان میں ہم جنسی کو جرم قرار دیا تھا۔

بدکاری پر چیف جسٹس دیپک مشرا کا فیصلہ پڑھتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سول معاملات کے لیے ایسی بنیادیں ہو سکتی تھیں جیسے طلاق، ''یہ قانونی جرم نہیں ہو سکتا''۔

قانون کو کس نے چیلنج کیا؟

پچھلے اگست، اٹلی میں رہنے والے 41 سالہ ہندوستانی بزنس مین جوزف شائن نے اس قانون کو ختم کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دی۔ اس نے کہا کہ اس  قانون کو صرف مردوں پر لاگو کیا جاتا ہے اور عورتوں کو محض مظلوم تصور کیا جاتا ہے۔ اس  طرح مردوں سے امتیازی سلوک ہوتا ہے۔

''شادی شدہ عورتیں بدکاری کی سزا کے مقصد کے لیے کوئی خاص  مقام نہیں رکھتیں کہ انہیں رعایت دی جائے ۔ وہ کسی بھی طرح مردوں سے مختلف نہیں ہیں،'' اس کی درخواست میں کہا گیا۔

مسٹر شائن نے کہا، '' بلواسطہ طور پر یہ قانون خواتین کے خلاف بھی امتیازی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس کے تحت خواتین مردوں کی جاگیر قرار پاتی ہیں جو درست نہیں ہے۔ ''

ان کی 45 صفحات پر مبنی درخواست میں مسٹر شائن آزادانہ طور پر امریکی شاعر رالف والڈو ایمرسن، حقوق نسواں کے کارکن میری والسٹن کرافٹ اور سابق یو این سیکریٹری جنرل کوفی عنان کی جنسی مساوات اور عورتوں کے حقوق سے حوالے دیتے ہیں۔

تاہم، ہندوستان کی حکومتی پارٹی بی جے پی کی سرکار نے اس درخواست کی مخالفت کی، یہ اصرار کرتے ہوئے کہ بدکاری کو ایک قانونی جرم ہی رہنا چاہیے۔

''بدکاری قانون کا کمزور کرنا شادیوں کی حرمت پر اثر انداز ہو گا۔ بدکاری کو قانونی کرنا شادی کے تعلقات کو تکلیف پہنچائے گا،'' ایک حکومتی کونسل نے عدالت کو بتایا، انہوں نے مزید کہا کہ  ''ہندوستانی اخلاقیات اس ادارے اور شادی کی حرمت کو بہت اہمیت دیتی ہیں۔''

بدکاری کا قانون کیا کہتا ہے؟

یہ قانون حکم دیتا ہے کہ عورت کو ایک مددگار کی حیثیت سے سزا نہیں دی جا سکتی۔ اس کی بجائے، مرد کو بہکانے والا سمجھا جاتا تھا۔

اس نے عورتوں کو یہ اجازت بھی نہیں دی کہ وہ اپنے شوہر کی بدکاری کی درخواست درج کروائیں۔

بدکاری کے ملزم ایک مرد کو زیادہ سے زیادہ 5 سال تک جیل میں بھیجا جا سکتا ہے، اس سے جرمانہ لیا جاسکتا ہے یا دونوں کام کیے جا سکتے ہیں۔

اگرچہ قانون کے تحت کسی خاص سزا کا ذکر نہیں ہے لیکن پٹیشنر کے وکیل کا کہنا تھا کہ اس قانون کا غلط استعمال کیا جاتا ہے ، خاص طور پر ایسے اوقات میں جب خواتین بیماری کے ایام میں ہوں۔ اس کو طلاق اور دوسرے سول کیسز کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے  کہا کہ مرد حضرات کسی پر بھی اپنی بیوی سے ناجائز تعلقات کا الزام لگا دیتے ہیں جسے ثابت کرناممکن نہیں ہوتا لیکن دونوں خاندانوں کی عزت معاشرے میں نہیں رہتی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ، ہندوستان کے گھریلو قصے اور نظمیں  آشنا کی محبت کی داستانوں سے  بھری  پڑی ہیں۔ سنسکرت میں زیادہ تر نظمیں، جے موسیف میسن، ایک سکالر کے مطابق، ''غیر قانونی محبت'' کے بارے میں ہیں۔

لیکن منسمریتی، ایک قدیم ہندو کتاب میں لکھا ہے: ''اگر مرد دوسرے مردوں کی بیویوں کے ساتھ ناجائز رشتہ بنانے کی کوشش کرے  تو بادشاہ کو چاہیے کہ ان  کو مثالی  اور دردناک سزائیں دے ۔

ججوں نے کیا کہا؟

کیس سنوائی میں سپریم کورٹ کے تمام پانج ججوں نے کہا کہ یہ قانون فرسودہ، ستمگرانہ اور غیر آئینی تھا۔

''شوہر بیوی کا مالک نہیں ہوتا۔ عورتوں کے ساتھ مردوں جیسا مساوی سلوک کرنا چاہیے،'' چیف جسٹس مشرا نے کہا۔

جج روہنٹن ناریمان نے کہا کہ مرد کے عادی مجرم ہونے اور عورت کے مظلوم ہونے کے قدیم تصورات اب اچھی شہرت نہیں رکھتے۔''

جسٹس ڈی وائی چندرا چود نے کہا کہ یہ قانون ''عورت کی ماتحتی کو برقرار کرتا ہے، عظمت سے انکار کرتا ہے، جنسی خود اختیاری جنسی دائرہ کار پر ہے۔''

انہوں نے کہا  کہ ''اس قانون نے عورت کے زنا کو قابو کرنے کی اور عورت کی خود اختیاری اور عظمت پر وار کرنے کی کوشش کی ہے۔''

ناقدین نے قانون کو ''اصل زنا کار، بے ڈھنگ، عورت مخالف اور مساوات کے حقوق کی خلاف ورزی کہا۔

''قانونی نظام کو یہ  طے نہیں کرنا چاہیے کہ کون کس کے ساتھ سوتا ہے،'' رشمی کالیا نے لکھا جو قانون پڑھاتی ہیں۔

اکناک اینڈ پولیٹیکل ویک لی کے مطابق  اصل مسئلہ یہ نہیں کہ شادی میں وفا کی توقع کرنا غلط ہے یا درست، بلکہ یہ ہے کہ  کیا زنا جنسی آزادی کے مساوی قرار دیا جاسکتا ہے یا نہیں۔

اس کے علاوہ بدکاری کہاں قانونی جرم ہے؟

بدکاری 21 امریکی ریاستوں میں غیر قانونی ہے، بشمول نیو یارک کے، اگرچہ سروے دکھاتے ہیں کہ زیادہ تر امریکی زناکاری کو ناپسند  تو کرتے ہیں لیکن اسے جرم کے طور پر نہیں دیکھتے۔

شریعت اور اسلامی قانون میں بدکاری گناہ ہے، اس لیے یہ اسلامی ممالک جیسے ایران، سعودی عرب، افغانستان، پاکستان، بنگلہ دیش اور سومالیہ میں ایک قانونی جرم ہے۔

تائیوان بدکاری کی سزا میں ایک سال سے زیادہ قید میں رکھتا ہے  اور یہ انڈو نیشیا میں بھی جرم سمجھا جاتا ہے۔ در اصل  انڈونیشیا قوانین بنا رہا ہے جو شادی کے بغیر کسی بھی طرح کی جنسی تسکین کو ممنوع قرار دیتے ہیں۔

2015 میں، جنوبی کوریا کی سپریم کورٹ نے ایسا ہی ایک قانون بدلا جس میں ایک مرد کو بدکاری کے لیے 2 سال یا اس سے کم قید میں بھیجا جا سکتا تھا۔

ہندوستانی وکیل کلیس وارام راج کے مطابق پوری دنیا کے 60 سے زیادہ ممالک ایسے قوانین بنا چکے ہیں جو بدکاری کو جرم قرار دیتے ہیں۔

یو کے میں بدکاری قانونی جرم نہیں ہے اور بہت سے دوسرے ممالک کی طرح  اسے تمام وجوہات میں سے طلاق کے لیے ایک وجہ بتایا گیا ہے۔

کیا اس قانون کو کوئی پرانے چیلنجز بھی درپیش رہے ہیں؟

1954 میں اس قانون کو پہلی بار ایک درخواست دہندہ کی طرف سے چیلنج کیا گیا یہ سوال کرتے ہوئے کہ عورتوں کو اس جرم کے لیے سزا کیوں نہیں دی جا سکتی،  اور یہ کہ ایسی ''معافی  امتیازی سلوک کے زمرے میں آتی تھی''۔

سپریم کورٹ نے اس اپیل کو مسترد کر دیا۔

اس کے بعد سپریم کورٹ نے اسی طرح کی دو درخواستیں 1985 اور 1988 میں مسترد کیں۔

1985 میں ایک جج نے کہا: شادی کے استحکام  کو ایک سادہ مسئلہ تصور نہیں کیا جا سکتا۔

ایک شادی شدہ عورت نے عدالت آ کر یہ اجازت مانگنا چاہی کہ وہ اپنے خاون کی محبوبہ کے خلاف بدکاری کا مقدمہ درج کروا سکے۔ عدالت نے  اس درخواست کوعورت کی عورت دشمنی  قرار دے دیا۔

عدالت نے کہا کہ قانون  ''باہروالے'' کی سزا کے بارے میں تھا جو ''شادی شدہ گھر میں نقب لگائے'' اور ''اس کے تقدس کو پامال کرے''۔

1971 اور 2003  میں قانونی ماہرین نے تجاویز دیں کہ عورت کو بھی اس جرم کی سزا دی جانی چاہیے۔

2003 پینل کے رہنما جج نے کہا۔''معاشرہ شادی کے بعد بے وفائی سے نفرت کرتا ہے۔ اس لیے بیوی کو بھی اپنے خاوند کے علاوہ کسی شادی شدرہ مرد سے ہم بستری پر یہ سزا دی جانی چاہیے۔

2011 میں اعلیٰ عدالت نے ایک کیس کی  سماعت کرتے ہوئے کہا کہ قانون  صنفی مساوات کی وجہ سے تنقید کا شکار ہے  کیونکہ اس کے مطابق ایک خاتون اپنے خاوند کے اثاثوں جیسی حیثیت اختیار کر لیتی ہے۔

آخری حکومت کا کیا رد عمل رہا؟

بہت سے ہندوستانیوں کو پتا بھی نہیں تھا کہ ایسا قانون بھی موجود تھا۔ تاہم اس فیصلے کے بعد عوام کی اکثریت اس کے حق میں ہے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *