تبدیلی زندہ باد

موروثی یا خاندانی سیاست ہماری سیاسی پارٹیوں کا نہیں بلکہ شاید ہمارا ''جینیاتی‘‘ مسئلہ ہے۔ ہم اس کے بغیر شاید رہ ہی نہیں سکتے۔ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں۔ بادشاہ مر گیا۔ اب نئے بادشاہ کا انتخاب آن پڑا۔ ظاہر ہے نیا بادشاہ اس کا ولی عہد ہوگا۔ ولی عہد نہ ہوا تو کوئی سا بیٹا بن گیا۔ بیٹا نہ ہوا تو بھائی ہو گیا۔ اب اگر بیٹا نہ ہوا یا بھائی بھی نہ ہوا‘ اور یہ نہ ہونا بھی کوئی انہونی بات نہیں تھی کہ خود بادشاہ سلامت نے ہی اپنی زندگی میں بہت سے بھائیوں سے چھٹکارا حاصل کر لیا ہوتا تھا۔ شہزادگان نے بھی خاندان کو مختصر رکھنے کے لیے باہمی قتل و غارت کو خاندانی منصوبہ بندی کا متبادل بنا رکھا تھا۔ سو ایسے میں قرعہ فال بادشاہ کی بیٹی کے نام نکلنے کی باقاعدہ روایت موجود ہے۔ بادشاہ کے ولی عہد‘ کسی غیر ولی عہد بیٹے یا بھائی وغیرہ کے دارالسلطنت میں بوقت وفات موجود نہ ہونے کی صورت میں کسی دور دراز کے صوبے سے آمد تک درباری مصاحب اور وزیر صاحبان ان کی آمد کا انتظار کرتے تھے اور نئے بادشاہ کی تاج پوشی کئی کئی دن رکی رہتی تھی۔ باقی باتیں تو چھوڑیں۔ بادشاہ کے مرنے کے بعد اگر اور کوئی نہیں ملتا تھا تو مرحوم بادشاہ کے عزیز ترین غلام کو بادشاہ بنا لیا جاتا تھا۔ یہ موروثی اور خاندانی حکمرانی کی ارذل ترین شکل تھی جسے اس خطے کے لوگوں نے قبول کیا ہوا تھا۔
صرف ہم نہیں۔ پورا خطہ یہی کچھ کرتا رہا ہے اور کر رہا ہے۔ ایک سرے سے چل کر دیکھ لیں۔ بنگلہ دیش 1971ء میں وجود میں آیا۔ مجیب الرحمان نے باگ ڈور سنبھال لی۔ مجیب سارے خاندان سمیت علاوہ حسینہ واجد مارا گیا۔ مارنے والا جنرل ضیاء تھا۔ اقتدار اس نے سنبھال لیا۔ اس کے بعد انہی دو خاندانوں کی خواتین یعنی خالدہ ضیاء اور حسینہ واجد نے حکمرانی کے مزے لوٹے ‘ باقی سارا بنگلہ دیش فارغ تھا۔ ہندوستان میں پہلے نہرو، پھر اندرا گاندھی اور آخر میں راجیو گاندھی۔ اگر سونیا گاندھی کا مسئلہ غیر ملکی ہونا نہ ہوتا تو اقتدار ابھی تک نہرو خاندان کے پاس ہوتا۔ ہندوستان ویسے بھی بہت بڑا ملک ہے اور جمہوریت کے باعث بہت سی علاقائی پارٹیاں بھی سیاست میں ہیں لہٰذا کئی صوبوں میں لوکل سیاسی پارٹیوں نے بھی اپنا حصہ وصول کر رکھا ہے۔ وہاں بھی یہ عالم ہے کہ بہار میں لالو پرشاد یادیو کے بعد اس کے ''چٹی اَن پڑھ‘‘ بیوی رابڑی دیوی وزارت اعلیٰ پر براجمان ہو جاتی ہے۔ پاکستان کا حال آپ کے سامنے ہے۔ دو پارٹی سسٹم تھا اور دو پارٹی بھی کہاں؟ دو فیملی سسٹم تھا اور اس دو فیملی سسٹم کی چھتری تلے ہر علاقے میں ایک دو خاندان اپنی چھوٹی چھوٹی ریاستیں بنائے بیٹھے تھے۔ یہ لفظ ''تھے‘‘ بھی ایسے ہی روانی میں لکھ دیا ہے اصل لفظ ''ہے‘‘ ہی سمجھیں۔
کسی نے لکھا تھا کہ بابا گورونانک دراصل اس خطے میں قدیم ترین مذہب ہندو ازم اور باہر سے آ کر تیزی سے پھیلنے والے مذہب اسلام کے درمیان موجود اختلافات کو ختم کر کے درمیانی راہ نکالنا چاہتے تھے، اور ان کی خواہش تھی کہ ان دو مذاہب کے ماننے والوں کو باہمی اختلافات سے نکال کر ایک کر دیں۔ مگر ہوا یہ کہ وہ دو کو ایک کرنے کے بجائے دو کو تین کر گئے۔ سو اب اس خطے میں اسلام اور ہندو ازم کے علاوہ سکھ ازم بھی موجود ہے۔ دو نے ایک کیا ہونا تھا۔ الٹا تین ہو گئے۔ یہی حال ہماری ملکی سیاست کا ہے۔ پہلے خاندانی اور موروثی سیاست مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے حوالے سے ہم پر مسلط تھی، اب معاملہ دو سے نکل کر تین ہو گیا ہے۔ تحریک انصاف تبدیلی کی دعویدار تھی۔ کرپشن اور خاندانی سیاست جیسے ناسوروں کو ختم کرنے کا دعویٰ اُس کی سیاسی جدوجہد کے دو بنیادی ستون تھے۔ عمران خان کی نوے فیصد سیاسی جنگ انہی دو نکات پر مبنی تھی۔ سو جنگ اپنے منطقی انجام کو پہنچی۔ دیگر پارٹیوں کے فارغ التحصیل کرپٹ سیاستدانوں کا کافی بڑا حصہ اب تحریک انصاف میں ہے۔ اللہ کرپشن کے خلاف عمران خان کی جنگ کا حامی و ناصر ہو۔
رہ گئی بات موروثی اور خاندانی سیاست کی‘ تو فرق صرف اتنا پڑا ہے کہ اب حکمرانی کی خاندانی یا موروثی لسٹ میں مسمی قاسم خان نیازی اور مسمی سلمان عیسیٰ خان نیازی ولد عمران خان نیازی بہرحال اس لسٹ میں شامل نہیں ہیں۔ باقی سارا آوے کا آوا وہی ہے جو اس تیسری پارٹی کی حکمرانی سے پہلے تھا۔ اس پارٹی میں آنے والا ہر لیڈر اپنی خاندانی سیاست سمیت آیا ہے تاہم ان کا نام الیکشن سے پہلے ''الیکٹ ایبلز‘‘ تھا۔ یہ الیکٹ ایبلز جب پاکستان تحریک انصاف میں آئے تو اپنے کنبے سمیت آئے۔ کس کس کا نام لیں؟ جہانگیر ترین نااہل ہو کر لودھراں سے فارغ ہوئے تو ان کا ضمنی الیکشن ان کے بیٹے علی ترین نے لڑا۔ وہ تو خیر ہوئی موصوف کا معاملہ ''سرمنڈواتے ہی اولے پڑے‘‘ والا ہوا اور اقبال شاہ کے مقابلے میں خاصی بری شکست نے مستقبل کے منصوبوں پر شروع میں ہی پانی پھیر دیا وگرنہ ایک اور ''شہزادہ‘‘ تحریک انصاف میں اگلی صف پر جگہ پا چکا ہوتا۔ اب شاہ محمود قریشی کو دیکھ لیں۔ اللہ زندگی رکھے اور عمر دراز کرے۔ ان کا اکلوتا بیٹا زین قریشی بھی ماشاء اللہ سے ایم این اے ہے۔ سابقہ وزیراعلیٰ کے پی کے پرویز خٹک کا آدھا خاندان اسمبلی میں ہے۔ جہلم کی دو سیٹوں پر فرسٹ کزن یعنی فواد چوہدری اور فرخ الطاف براجمان ہیں۔
تحریک انصاف اور دیگر پارٹیوں میں فرق صرف اور صرف یہ ہے کہ باقی پارٹیوں کے سربراہان کا سارے کا سارا خاندان حکمرانی کے مزے لوٹ رہا ہے جبکہ عمران خان کے بچے سیاست سے قطعاً دور ہیں اور حکمرانی سے ہزاروں کلو میٹر دور برطانیہ میں تشریف فرما ہیں جبکہ دیگر پارٹیوں کا یہ حال ہے کہ میاں نواز شریف، مریم نواز شریف، شہباز شریف، حمزہ شہباز، سہیل ضیا بٹ، عابد شیر علی، بلال یٰسین اور کیپٹن صفدر مسلم لیگ ن کی نمائندگی کرتے ہیں۔ دوسری طرف آصف علی زرداری، فریال تالپور، عذرا پیجوہو، بلاول بھٹو اور آصفہ زرداری بھٹو کے علاوہ زرداری صاحب کا منہ بولا بھائی اویس مظفر ٹپی تک اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں۔ باقی چھوڑیں، اپنے مولانا فضل الرحمان صاحب کو ہی دیکھ لیں۔ وہ خود تو خیر اس بار بفضل تعالیٰ اسمبلی میں آنے سے محروم رہ گئے ،لیکن ان کے سارے کے سارے بھائی‘ علاوہ ایک سرکاری ملازم‘ سیاست میں ہیں اور اسمبلیوں کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ حتیٰ کہ اب تو ان کے برخوردار بھی سیاست میں ہیں اور اس بار قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کے امیدوار تھے۔ ان کے سرکاری افسر بھائی بھی پہلے پی ٹی سی ایل میں تھے پھر خصوصی حکم نامے کے ذریعے 2007ء میں صوبائی ایڈمنسٹریٹو سروس میں پہنچا دیئے گئے۔ موصوف ڈپٹی کمشنر خوشاب سے لے کر کمشنر مہاجرین تک رہے۔ سنا ہے اب تھوڑی مشکل میں ہیں۔
بات کہیں سے کہیں چلی گئی۔ الیکشن 2018ء سے پہلے یہ کہا جا رہا تھا کہ تحریک انصاف کو الیکشن جیتنے کے لیے ایک بار تو الیکٹ ایبلز کو آگے لانا پڑے گا لیکن الیکشن جیتنے کے بعد بھی صورتحال جوں کی توں ہے۔ ضمنی الیکشن کی ساری فہرست پہلے سے اسمبلی میں موجود لوگوں کے گھر والوں پر مشتمل ہے۔ جنوبی پنجاب میں پانچ نشستوں پر ضمنی الیکشن ہونا تھا۔ طارق دریشک مرحوم کی نشست پر اس کا بھائی اویس دریشک بلامقابلہ منتخب ہو گیا ہے۔ باقی چار کی صورتحال یوں ہے کہ رحیم یار خان میں قومی اسمبلی کی ایک نشست سے مخدوم خسرو بختیار اور دو صوبائی نشستوں سے ان کا بھائی ہاشم جواں بخت جیتا۔ ایک صوبائی سیٹ چھوڑنی پڑی۔ اس پر خسرو بختیار کا بھتیجا مخدوم فواد امیدوار ہے۔ مظفر گڑھ کی ایک صوبائی نشست پر مسماۃ زہرہ بتول امیدوار ہیں۔ موصوفہ ایم این اے باسط بخاری کی والدہ ہیں۔ ڈیرہ غازیخان سے سردار مقصود لغاری صوبائی اسمبلی کی نشست پر پی ٹی آئی کے امیدوار ہیں۔ یہ سیٹ ان کے برخوردار احمد خان لغاری نے چھوڑی تھی جو قومی اور صوبائی دونوں پر کامیاب ہوا تھا۔ آخری سیٹ پی پی 222ہے جہاں سے غلام عباس کھاکھی جیتا تھا۔ حلف اٹھانے سے قبل ہمارا یہ دوست دنیا سے رخصت ہو گیا۔ اس نشست پر ساتھ والے صوبائی حلقے سے جنرل الیکشن 2018ء میں شکست خوردہ میرا پرانا کلاس فیلو رانا سہیل نون اب امیدوار ہے۔ اس کا چھوٹا بھائی اسی صوبائی نشست پر رکن قومی اسمبلی ہے۔مرحوم غلام عباس کھاکھی عام آدمی اور سیلف میڈ سیاستدان تھا۔ اس کا کوئی خاندانی سیاسی بیک گراؤنڈ نہیں تھا۔ وہ تیس سالہ سیاسی جدوجہد کے بعد پہلی بار اسمبلی کا الیکشن جیتا تھا۔ اس کی اس نشست کو پی ٹی آئی کے خاندانی اور موروثی سیاستدانوں نے ہتھیا لیا ہے۔ کیا خوب تبدیلی آئی ہے؟ آؤ نعرہ لگائیں۔ تبدیلی زندہ باد۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *