الیکشن کمیشن نے آئی جی پنجاب کی تبدیلی کا حکومتی نوٹیفکیشن معطل کردیا

اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے آئی جی پنجاب طاہر خان کو ہٹا کر امجد جاوید سلیمی کو نیا آئی جی لگانے کا حکومتی نوٹی فکیشن معطل کردیا۔

عام اتنخابات 2018 کے موقع پر چاروں صوبوں کے پولیس سربراہان کو تبدیل کیا گیا تھا جس کے تحت پنجاب میں خدمات انجام دینے والے گریڈ 22 کے افسر امجد جاوید سلیمی کو آئی جی سندھ تعینات کیا گیا تھا تاہم الیکشن کے بعد امجد جاوید کو ہٹا کر آئی جی پنجاب کلیم امام کو آئی جی سندھ تعینات کیا گیا۔

وفاقی حکومت نے پنجاب کے آئی جی پولیس طاہر خان کو ایک ماہ دو دن بعد ہی تبدیل کردیا اور ان کی جگہ سابق آئی جی سندھ امجد جاوید سلیمی کو تعینات کیا جس کا نوٹی فکیشن بھی جاری کردیاگیا۔

الیکشن کمیشن کا ایکشن

دوسری جانب الیکشن کمیشن نے وفاقی حکومت  کے اس نوٹی فکیشن کو معطل کردیا ہے اور چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار رضا نے انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب پولیس طاہر خان کی تبدیلی کا نوٹس لے کر الیکشن کمیشن سیکریٹریٹ سے تفصیلات طلب کرلی ہیں۔

الیکشن کمیشن نے آئی جی پنجاب کاتبادلہ رکوانے کے لیے سیکریٹری اسٹیبشلمنٹ کو بھی خط لکھ دیا ہے۔

الیکشن کمیشن حکام کے مطابق ضمنی انتخاب کے باعث آئی جی کی تبدیلی نہیں ہوسکتی، آئی جی پنجاب کا تبادلہ کرکے الیکشن کمیشن کے احکامات کی خلاف ورزی کی گئی۔

الیکشن کمیشن سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے 2 روز میں وضاحت طلب کرلی۔

طاہر خان نے حکومتی ٹاسک کو پورا نہیں کیا: فواد چوہدری

علاوہ ازیں اس حوالے سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہاکہ آئی جی پنجاب طاہر خان کو حکومتی احکامات پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے ہٹایا، آئی جی پنجاب سے ادارہ جاتی معاملات پر تساہل ہوا ہے، طاہر خان نے حکومتی ٹاسک کو پورا نہیں کیا۔

وزیر  اطلاعات کا کہنا تھاکہ ہم نے بیوروکریسی کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ ہمیں صرف کام چاہیے، موجودہ حکومت میں عہدے پر وہی رہے گا جو کام کرے گا۔

امجد جاوید سلیمی کے کیرئیر پر ایک نظر

امجد جاوید سلیمی پولیس سروسز کے 14ویں کامنتھ سے تعلق رکھتے ہیں۔

یکم نومبر 1986کو انہوں نے بطور اے ایس پی پولیس سروس جوائن کی، ان کی سب سے پہلی تعیناتی اے ایس پی اوگی ضلع مانسہرہ تھی۔

ایس پی کے طور پر انہوں نے اے آئی جی ٹریننگ اور گوجرانوالہ اور میانوالی کے ڈی پی اوز کے طور پر خدمات انجام دیں اور پھر اقوام متحدہ کے امن مشن پر بوسنیا میں ڈیڑھ سال تعینات رہے۔

اقوام متحدہ امن مشن سے واپسی پر ڈی پی او ساہیوال اور سیالکوٹ رہے جس کے بعد ان کی تعیناتی اسپیشل برانچ پنجاب میں ہوگئی۔

امجد جاوید سلیمی ڈی پی او جھنگ، اے آئی جی فائنانس پنجاب، ڈی آئی جی ایلیٹ پنجاب، ڈی آئی جی آپریشنز لاہور، آر پی او ساہیوال، آر پی او سرگودھا، سی سی پی او لاہور، ڈی آئی جی اسٹیبلشمنٹ، آر پی او ملتان اور ایڈیشنل آئی جی پٹرولنگ ہائی ویز رہے۔

امجد جاوید سلیمی کی تعیناتیوں کے دوران سیالکوٹ جیل میں 7ججز کا قتل، لاہور میں سری لنکن ٹیم پر حملہ اور بادامی باغ میں مسیحی بستی جلانے کےواقعات بھی پیش آئے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *