ریاست کی آمدن میں اضافہ ؟

ھمیں یہ بتائیں ۔ آپ نے ریاست کی آمدن بڑھانے کے لیے اب تک کیا عملی اقدامات اٹھاے ھیں ۔ اگر عملی اقدامات نہیں اٹھاے تو آمدن بڑھانے کی پلاننگ کیا کی ھے۔ آپ نے اب تک 260 ارب روپے ٹیکسز اور ڈیوٹیز کے ذریعے اکھٹے کیے ھیں ۔ 250 ارب ترقیاتی فنڈ میں کٹوتی کے ذریعے اکھٹے کیے ھیں ۔ یعنی 260 ارب روپے جو ترقیاتی فنڈ کی شکل میں عوام تک جانے تھے۔ وہ رک گئے۔ مزید 250 ارب روپے آپ نے ٹیکسز کی شکل میں عوام کی جیب سے نکال لیے۔ گیس ، بجلی ، پٹرول ، کھاد ، تمام روزمرہ ضروری اشیاء اور اجناس مہنگی ھو گئیں ۔ ڈالر 137 اور پاونڈ 168 روپے کا ھو گیا۔ سٹاک مارکیٹ کریش کر گئ۔ زرمبادلہ کے ذخائر 8 ارب ڈالر رہ گئے۔ ابھی آپ آئی ایم ایف سے دس سے بارہ بلین ڈالر کا بیل آوٹ پیکیج لے رھے ھیں ۔ آئ ایم ایف کڑی شرائط لگاتا ھے۔ اس سے لامحالہ مہنگائی مزید بڑھے گی۔ مہنگائی بڑھے گی۔ ٹیکسز میں اضافہ ھو گا۔ تو لوگوں کی قوت خرید میں کمی ھو گی۔ قوت خرید میں کمی کی وجہ سے پرائیویٹ سیکٹر کا منافع کم ھو گا۔ منافع بڑھانے اور اپنے خرچے پورے کرنے کے لیے پرائیویٹ سیکٹر دو کام کرے گا۔ اشیاء مہنگی کرے گا۔ اور اپنے ملازمین کو نوکری سے نکالے گا۔ اس سے مزید مہنگائی اور بےروزگاری پھیلے گی۔ یہ ایک شیطانی چکر ھے۔ رکے گا نہیں ۔ پیلک سیکٹر یعنی حکومت پہلے ھی بجلی ، گیس، پٹرول ، کھاد ، پانی اور ضروری اشیاء کی قیمتیں بڑھا رھی ھے۔ ریاست کی آمدن ایسے نہیں بڑھتی۔ ایکسپورٹ بڑھانا پڑتی ھے۔ تجارتی خسارہ کم کرنا ھو گا۔ ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری لانا ھو گی۔ اس کے لیے سرمایہ دار اور کارخانہ دار اور تاجر کے ساتھ بیٹھنا ھو گا۔ اس کے مطالبات ماننا ھوں گے۔ دوست ممالک اور بین الاقوامی مالی فورمز کو اعتماد میں لینا ھو گا۔ ہمسایہ ممالک کے ساتھ اعتماد سازی کرنی ھو گی۔ فرینڈلی پالیسز بنانا ھوں گی۔ کیا آپ اور آپ کے ادارے اس کے لیے تیار ھیں ؟ نئ مالیاتی اور معاشی پالیسیاں لانی ھوں گی۔ معاشی حجم بڑھانا ھو گا۔ کیا آپ اس پر کام کر رھے ھیں؟
پاکستان کو اس وقت فوری طور پر 30 ارب ڈالر سے زائد رقم کی ضرورت ھے۔ آپ کیا کر رھے ھیں؟ سرمایہ دار کو کرپشن کے نام پر ڈرا رھے ھیں ۔ سی پیک دینے والے چین کو ناراض کر رھے ھیں ۔ آپ اپنے ھی لوگوں اور غیر ملکی دوستوں کو ڈرا دھمکا کر ان کی جیبوں سے پیسے نکلوانا چاہ رھے ھیں؟ یہ تو ھر فوجی ڈکٹیٹر کرتا آیا ھے ۔ آپ کی یہ سوچ محض لغو اور غیر منطقی ھے۔ کہ جب تک لوٹ کا پیسہ واپس نہیں آتا۔ مہنگائی کم نہیں ھو گی۔ یا ملک ترقی نہیں کرے گا۔ اس سلوگن سے آپ اپنے فالوورز کو مزید کچھ دن تو احمق بنا سکتے ھیں لیکن اس سے ملک نہیں چلے گا۔ امیروں سے چھین کر غریبوں کو دینے کا تصور معاشی اور اشتراکی دنیا میں بھی ناکام ھو چکا ھے۔ آپ ماڈرن رابن ھڈ نہیں ھیں ۔ نہ ھی آپ جگا ھیں ۔ اور نہ ھی کسی گھٹیا فلم کے ھیرو ھیں ۔ پانچ سال آپ نے بڑکیں مار لیں۔ اب کام کرکے دکھائیں ۔ کب تک اپنا ملبہ پچھلی حکومت پر ڈالتے رھیں گے ؟ میں آپ کو بتاوں ۔ ملکی ترقی اور جنگی ماحول ساتھ ساتھ نہیں چل سکتا۔ ترقی کرنی ھے۔ تو ہمسائیوں سے دوستی کریں ۔ کراس بارڈر دھشت گردی پر قابو پائیں ۔ پالیسیاں تبدیل کیے بغیر تبدیلی نہیں آنے والی۔ جنگ کا خرچہ بہت ھے۔ اسلحے کی خریداری، لاجسٹک کے خرچے اور گولہ بارود وغیرہ وغیرہ ۔ ملکی معیشت یہ جنگی بوجھ مزید نہیں اٹھا سکتی۔ آپ سارا ترقیاتی بجٹ انہیں دے دیں ۔ سارے ٹھیکے انہیں دے دیں ۔ آئی ایم ایف کا قرض انہیں دے دیں ۔ جتنے مرضی ٹیکسز لگا لیں ۔ اس سفید ھاتھی کا پیٹ نہیں بھرنے والا۔ اور اگر آپ یہ نہیں کر سکتے۔ پالیسیاں تبدیل نہیں کر سکتے۔ نئ مالیاتی اور معاشی پالیسیاں نہیں لا سکتے۔ نئے ٹیکس دہندگان میں اضافہ نہیں کر سکتے۔ نئ سرمایہ کاری نہیں لا سکتے۔ تجارتی خسارہ کم نہیں کر سکتے، معاشی حجم میں اضافہ نہیں کر سکتے، دوست ممالک سے تجارتی رعیاتیں نہیں لے سکتے۔ ترقیاتی بجٹ میں اضافہ نہیں کر سکتے۔ تو آپ بتائیں آپ ریاست کی آمدن میں اضافہ کیسے کریں گے ؟ ٹیکسز میں اضافہ، ڈیوٹیز میں اضافہ اور آئی ایم ایف سے قرضہ تو اس کا علاج نہیں ۔ یہ تو مرض میں اضافہ کا باعث ھے۔ ، آپ نے کہا تھا۔ آپ تارکین وطن سے 20 کھرب اکٹھا کریں گے۔ نئے ٹیکس دہندگان سے 8 کھرب کا اضافہ کریں گے۔ کرپشن پر قابو کے ذریعے اربوں بچائیں گے۔ کچھ اس کا بھی حساب کتاب بتائیں حضور والا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *