عدالت کا بیرونِ ملک سے تعلیم یافتہ ڈاکٹروں کو پریکٹس کی اجازت دینے کا حکم

لاہور: ہائی کورٹ نے بیرون ملک سے تعلیم حاصل کر کے ڈاکٹر بننے والے افراد کو ملک کے ہسپتالوں میں پریکٹس کرنے کی اجازت دینے کا حکم دے دیا۔

لاہورہائی کورٹ کے جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے 24 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا جو 19 جولائی 2018 کو محفوظ کیا گیا تھا۔

تفصیلی فیصلے میں عدالت نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے ریگولیشن 48 اور 60 جبکہ پی ایم ڈی سی کے سیکشن 15 کو بھی غیر قانونی قرار دیا۔

اس کے علاوہ عدالت نے پی ایم ڈی سی کو بیرونِ ملک سے میڈیکل کی تعلیم حاصل کے ڈاکٹر بننے والے افراد سے امتحان لینے اور کامیاب ہونے والوں کو پریکٹس کے لیے 'این او سی' جاری کرنے کا حکم بھی دیا۔

واضح رہے کہ کرن شہزادی سمیت دیگر ڈاکٹرز نے ہسپتالوں میں پریکٹس کی اجازت نہ ملنے پر لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

ہائی کورٹ میں دائر اپیل میں درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا تھا کہ ہم نے بیرون ملک سے میڈیکل کی تعلیم حاصل کی ہے, لیکن پی ایم ڈی سی پریکٹس کی اجازت نہیں دے رہی۔

درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ پی ایم ڈی سی کو میڈیکل پریکٹس کرنے کی اجازت دینے کا حکم دیا جائے۔

دوسری جانب پی ایم ڈی سی نے یہ موقف اپنایا تھا کہ میرٹ کے مطابق میڈیکل پریکٹس کرنے کی اجازت دی جاتی ہے جبکہ بیرون ملک سے تعلیم حاصل کرکے آنے والوں کے نمبرز کم ہونے کے باعث یہ میرٹ پر پورا نہیں اترتے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *