میں بولوں کہ نہ بولوں؟

کچھ لوگوں کو کچھ لوگوں سے بلاوجہ عناد ہوتا ہے اور وہ اس کا اظہار کرتے رہتے ہیں، مگر اظہار بھی سلیقہ مانگتا ہے، ان بندوں کے ہاتھ میں استرے آئے ہوئے ہیں جس کا استعمال اتنی بے احتیاطی سے کرتے ہیں کہ بسااوقاف اپنے ہی کسی ضروری عضو جسمانی سے محروم ہوجاتے ہیں۔اس سانحہ کے بعد ان کا غصہ اور عناد وہی شکل اختیار کرلیتا ہے جو کوئی ادھورا شخص کسی پورے شخص کے لئے محسوس کرتا ہے۔ یہ عجیب و غریب مخلوق ہے، اپنے عناد کے اظہار کی ان پاس کوئی وجہ نہیں ہوتی، نہ آپ کی دکان ان کی دکان کے سامنے ہوتی ہے، نہ آپ ایک ہی ادارے میں کام کرتے ہیں کہ رنجیدگی کا کوئی موقع آیا ہو، ساس بہو والی کوئی بات بھی نہیں ہوتی، دشمنی کے لئے رقابت بھی ایک وجہ ہوتی ہے، یہ آپ کے رقیب بھی نہیں ہوتے، آپ نے ان کی پیٹھ پیچھے کبھی برائی بھی نہیں کی ہوتی، آپ نے ان میں سے کسی کے گھر کی دیوار بھی نہیں پھلانگی ہوتی، آپ نے ان کے چھابے میں جو کافی بڑا ہوتا ہے، کبھی ہاتھ بھی نہیں ڈالا ہوتا، آپ نے ان کے بارے میں کبھی کھراسچ بھی نہیں بولا ہوتا، یہ آپ کے ہم مرتبہ بھی نہیں ہوتے کہ اپنی عزت افزائی نہ ہونے کا گلہ بھی کرسکیں۔ آپ ان کے شجرۂ نسب سے واقف تک نہیں ہوتے کہ ان کے والد محترم کے بارے میں کبھی کوئی گستاخی ہی کربیٹھے ہوں، یہ کبھی کسی کو کسی دور میں ابو بنا لیتے ہیں اور کبھی کسی اور کو کسی دوسرے دور میں ڈیڈی کہنا شروع کردیتے ہیں۔ ان کے لئے کسی کو گالی دینا کوئی بڑی یا بری بات نہیں ہوتی کیونکہ یہ تو اپنی ڈیوٹی ادا کر رہے ہوتے ہیں اور ڈیوٹی کی ادائیگی میں ان کی ایمانداری شک وشبہ سے بالا ہے۔ ایک دفعہ میں نے اس کے ادارے کے مالک سے اس کی تعریف کی کہ یہ آپ کابہت تابع فرمان ہے، آپ نے اس کے ذمے جو ڈیوٹی لگائی ہے یہ بہت ایمانداری سے اسے انجام دیتا ہے، اس پر مالک نے اس کی جوابی تعریف کے بجائے ہنسنا شروع کردیا اور پھر ہنستا ہی چلا گیا۔ مجھے اس کی سمجھ نہیں آئی، ممکن ہے میں غلطی سے اس شخص کو ادارے کا مالک سمجھ بیٹھا ہوں!

میں نے کالم میں کچھ لوگوں کے عمومی رویے کا ذکر کیا تھا، مگر میں نے آخر میں جس ’’دوست‘‘ کا ذکر کیا اس میں وہ جملہ علامات موجود ہیں جن کی طرف میں نے اشارہ کیا ہے۔ کسی زمانے میں میری اس سے خاصی جان پہچان تھی، یہ موٹر سائیکل پر سوار مختلف دفاتر میں معمولی نوکری کے لئے چکر لگایا کرتا تھا، اب خیر وہ ہوائوں میں اڑتا ہے، پہلے میرے ساتھ اس کا رویہ دوستانہ ہوتا تھا، جو اب بھی ہے تبھی تو آئے روز میرا تذکرہ کرتا ہے، بعض اوقات گالی بھی محبت ہی کے اظہار کا ایک طریقہ ہوتا ہے، میں بھی اس کالم میں محبت کے اظہار کا وہی طریقہ استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہوں جو وہ کرتا ہے، مگر جائے استاد خالی است۔ میں لاکھ کوشش کروں اس کی گالی کی خاک تک بھی نہیں پہنچ سکتا۔ اس کے لئے بہت زیادہ بے حیا ہونا پڑتا ہے، تاہم کوشش کرنا تو میرا فرض ہے۔ ایک دن اس نے مجھ سے کہا مجھے کوئی ترقی کا طریقہ بتائو، میں نے کہا میں اپنے ایک دوست سے پوچھ کر بتائوں گا۔ میرے دیکھتے دیکھتے اس نے اتنی ترقی کی ہے کہ تنزلی کی آخری حدوں کو چھونے لگا ہے۔ چنانچہ ایک دن میں اس دوست کے پاس گیا اور اس کی ترقی کا راز پوچھا، اس نے کہا انسان کو پرلے درجے کا بے غیرت اور بے ضمیر ہونا چاہیے۔ اسے چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے حلق میں رزق حلال کا ایک لقمہ بھی نہ اترنے دے۔ ایک دور میں اگر کسی کے قصیدے پڑھو تو اگلے دور میں ہر گندہ الزام اس پر کھل کر لگائو اور دل میں رتی بھر شرمندگی محسوس نہ کرو۔تمہیں معاشرے میں جو پاک دامن بھی نظر آئے، اسے ضرور ٹارگٹ بنائوتاکہ تمہاری ذلالتوں کی طرف کسی کا دھیان ہی نہ جائے۔ جو لوگ خود بھی گندگیوں میں ملوث ہوں ان میں سے کچھ لوگ کبھی کبھی دل میں شرمندہ ضرور ہوتے ہیں، مگر جب تم بے داغ لوگوں پر بے بنیاد اور سمجھ سے بھی بالاتر الزام لگائو گے تو یہ لوگ خوش ہوں گے، ان کے ضمیر کا بوجھ ہلکا ہوگا کہ اچھا یہ بھی ہمارے ہی جیسا ہے۔ میرے دوست نے مجھے کہا اپنے دوست کو البتہ ایک نصیحت ضرور کرنا اور وہ یہ کہ صرف اس طبقے پر کیچڑ اچھالنا جس کے بارے میں تمہیں یقین ہو کہ یہ طبقہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑسکتا، اگر اس نے کبھی اس گلی کا رخ کیا جہاں کے مکین چاقو چھریاں تیز کرکے بیٹھے ہوتے ہیں تو پھر جو اس کا انجام ہوگا اس کا الزام مجھے نہ دینا۔ میرے دوست نے مجھے ان حاجی صاحب کا قصہ بھی سنایا جو نماز کے دوران سجدے میں گئے تو ایک بدتمیزنے ان کی ٹانگ کھینچ دی، حاجی صاحب نے سلام پھیرا تو اسے پیار کرتے ہوئے کہا تم بہت شرارتی ہو اور پھر جیب سے پانچ سو روپے کا نوٹ نکال کر اسے دیا جس پر وہ بہت خوش ہوا اور اس ہلا شیری کے نتیجے میں اس نے ایک پٹھان کے ساتھ یہی حرکت کی جب وہ نماز کے دوران سجدے میں تھا۔ خان صاحب نے سلام پھیرتے ہی اپنی صدری میں سے پستول نکال کر اس کی کنپٹی پر چار گولیاں ماریں اور وہ وہیں ڈھیر ہوگیا۔

میں نے اپنے اس تجربہ کار بے غیرت دوست کے یہ سارے مشورے اس ’’دوست‘‘ کو بتائے جو ترقی کرنے کا خواہش مند تھا۔ بس اس دن سے وہ اس راہ پر چل پڑا اور اب وہ اس مقام پر پہنچ گیا ہے کہ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اس کا نام دنیا بھر کے بے غیرتوں کی فہرست میں پہلے نمبر پر آگیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *