ہیلمٹ اِس کام بھی آ سکتا ہے

ہیلمٹ کی اہمیت کا اندازہ اِس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ شیکسپیئر کے ایک معروف ڈرامے کا نام بھی 'ہیلمٹ‘ ہے۔ جو لوگ اسے 'ہملٹ‘ پڑھتے ہیں وہ یقینا ہیلمٹ کے خلاف ہیں حالانکہ صاف ظاہر ہے کہ شیکسپیئر بھی سکوٹر چلاتے ہوئے ہیلمٹ استعمال کیا کرتا تھا۔ جب سے ہیلمٹ پر پابندی کی سختی ہوئی ہے کئی دوست احباب پریشان نظر آتے ہیں لیکن شائد وہ نہیں جانتے کہ ہیلمٹ صرف جان ہی نہیں بچاتا بلکہ اِس کے اور اتنے فائدے ہیں کہ سن کر آپ کا دل چاہے گا کہ گاڑی میں بھی ایک ہیلمٹ ضرور رکھیں۔ یاد رہے کہ یہ فائدے موٹر سائیکل کے بغیر ہیلمٹ کے ہیں مثلاً آپ نے منہ نہ دھویا ہو‘ بالوں میں کنگھی نہ کی ہو‘ شیو بڑھی ہوئی ہو تو ہیلمٹ کی بدولت کوئی آپ کی قلندرانہ شخصیت کو سرعام نہیں دیکھ سکتا۔ فرض کیا آپ بازار میں ہیں اور وہاں اچانک چنے والے چاولوں کی دیگ بٹنا شروع ہو جاتی ہے، آپ کے پاس کوئی شاپنگ بیگ وغیرہ نہیں تو ہیلمٹ کو سیدھا کر کے آپ اچھی خاصی نیاز لے سکتے ہیں۔
کسی سے لڑائی کی صورت میں ہیلمٹ بہترین ہتھیار کا کام دے سکتا ہے۔ اس سے سانپ وغیرہ بھی مارا جا سکتا ہے۔ بادام اور اخروٹ وغیرہ توڑے جا سکتے ہیں۔ دوستوں کی محفل میں اگر موسیقی شروع ہو جائے تو ہیلمٹ سے اچھا طبلہ کوئی نہیں۔ شادی بیاہ میں ڈھولکی کے طور پر بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ لائٹ گئی ہو اور آپ کے دروازہ کھٹکھٹانے پر اندر آواز نہ جائے تو ہیلمٹ گھما کر اندر پھینکنے سے سب کے کان کھولے جا سکتے ہیں۔ اگر آپ کو شک ہے کہ کسی جگہ رش میں آپ کا بٹوہ چوری ہو سکتا ہے تو اسے ہیلمٹ کے اندر رکھ لیجئے اور ہیلمٹ پہن کر بے فکری سے شاپنگ کیجئے۔ صحافی دوست ہیلمٹ کے پیچھے 'پریس‘ لکھوا لیں تو ہاتھ میں پکڑے ہیلمٹ کی بدولت بھی دہشت کی فضا پیدا کر سکتے ہیں۔ اِس سے کیل بھی ٹھونکا جا سکتا ہے۔
میرے ایک دوست نے ہیلمٹ کی اندرونی سائڈ پر ایک جیب بنوائی ہوئی ہے جس میں وہ کیش رکھتا ہے‘ اس کا کہنا ہے کہ ہیلمٹ واحد چیز ہے جس پر ڈاکو اور بیوی کی نظر نہیں جاتی۔ پیاس لگنے کی صورت میں ہیلمٹ الٹا کر کے کٹورے کا کام بھی لیا جا سکتا ہے۔ خراب ہیلمٹ کو پھینکنے کی بجائے اس میں مٹی ڈال کر گملا بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے سامنے شیشے والی جگہ پر موبائل رکھنے کی جگہ بنا کر 'وی آر گیئر‘ کے مزے لوٹے جا سکتے ہیں۔ محلے کی دکان پر اگر آپ کا ادھار زیادہ ہو گیا ہے اور خطرہ ہے کہ دکان دار آپ کے ہاتھ میں کیش دیکھ کر سامان دینے کی بجائے یہ پیسے اُسی اُدھار کے کھاتے میں ڈال لے گا تو ہیلمٹ پہن کر اطمینان سے خریداری کی جا سکتی ہے۔ اِس سے بہترین مچھر دانی کوئی نہیں۔
بوقتِ ضرورت اِسے پارک میں ایک دوسرے کی طرف اچھال کر گیم بھی کھیلی جا سکتی ہے۔ بلا خوف و خطر مکھیوں کے چھتے سے شہد نکالا جا سکتا ہے۔ گیزر کام نہ کر رہا ہو اور نہانا ضروری ہو تو سخت سردی میں بھی ہیلمٹ پہن کر یہ رسم پوری کی جا سکتی ہے۔ جیب میں پیسے نہ ہوں تو سڑک کنارے ہیلمٹ پہن کر 'اللہ کے نام پہ بابا‘ کی صدا بھی لگائی جا سکتی ہے۔ بطور کشکول استعمال کیا جا سکتا ہے۔ احتجاجی جلسوں میں لاٹھی چارج سے بچنے کے لیے بھی یہ کارآمد مانا جاتا ہے۔ گائو تکیہ بھی بنایا جا سکتا ہے۔ کسی کھانے پینے کی چیز کو ڈھکنے کے لیے بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ ٹی وی دیکھتے ہوئے اس پر پائوں رکھے جا سکتے ہیں۔ اس کے اندر موبائل فون رکھ کر میوزک سنا جائے تو سپیکر جیسے سائونڈ سے لطف اندوز ہوا جا سکتا ہے۔
اسے زور سے دیوار پر مار کر بیوی پر رعب طاری کیا جا سکتا ہے۔ کوئی شیشہ توڑنا مقصود ہو تو اسے پہن کر زور سے شیشے میں ٹکر ماری جا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ رسی باندھ کر کمند بنائی جا سکتی ہے۔ دو ہیلمٹ ہوں تو اِن کے درمیان رسی باندھ کر ترازو کا کام لیا جا سکتا ہے۔ جن بچوں کو سبق یاد نہیں ہوتا اُنہیں ہیلمٹ پہنا کر سامنے والے شیشے کی طرف اگر ان کا سبق لکھ کر چپکا دیا جائے تو رٹا زیادہ اچھا لگ سکتا ہے۔ موٹر سائیکل کے ٹائروں کے ساتھ اگر ہیلمٹ کو لاک کر دیا جائے تو موٹر سائیکل کسی صورت چوری نہیں ہو سکتا؛ البتہ ہیلمٹ کی کوئی گارنٹی نہیں۔ ایک تازہ ترین تحقیق کے مطابق ہیلمٹ پہن کر بال کٹوائے جائیں تو ایک بال بھی کم نہیں ہوتا۔ اسے پہن کر محبوبہ کی شادی میں دُکھی گیت بھی گائے جا سکتے ہیں۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ موبائل پر آپ کی گفتگو کوئی نہ سنے تو کانوں پر ہینڈز فری لگائیے‘ ہیلمٹ پہنئے اور شیشہ نیچے کر کے دُنیا جہان کی میٹھی باتیں کیجئے۔ کمر کے نیچے ہیلمٹ رکھ کر درد سے بھی آرام پایا جا سکتا ہے۔ اسے پہننے سے پہلے اوپر تیل مل کر دشمن کو بھرے مجمع میں گھونسہ مار کر بھاگا جا سکتا ہے۔ امریکہ کے شہر افریقہ کے دارالحکومت دوبئی کے یورپ میڈیکل ریسرچ سنٹر آف رشیا کی رپورٹ کے مطابق اگر ٹانگوں پر ہلکا ہلکا ہیلمٹ مارا جائے تو جوڑوں کے درد میں افاقہ ہوتا ہے۔ جن لوگوں کی کمر میں چُک پڑ جائے وہ بھی پیچھے کی طرف ہیلمٹ لٹکا کر سیدھا چل سکتے ہیں۔ اگر کسی جگہ بم پڑا ہو اور یقین ہو جائے کہ کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے تو اُس پر فوری طور پر ہیلمٹ رکھ کر اوپر تشریف رکھی جا سکتی ہے۔ بم پھٹنے کی صورت نہ صرف نقصان کم سے کم ہو گا بلکہ خلائی سفر کا شوق بھی پورا ہو جائے گا۔ بکرا عید کے دِنوں میں بکرے کو سیر کرواتے وقت ہاتھ میں چارہ پکڑنا پڑتا ہے‘ ہیلمٹ کی بدولت اس کی بھی کوئی ضرورت نہیں، بس بکرے کے گلے میں ہیلمٹ باندھیں اور اندر چارہ رکھ دیں۔ بکرا چلتا بھی جائے گا اور چرتا بھی جائے گا۔ کھیتوں میں اِسے ڈنڈے کے اوپر لگا کر رکھ دیا جائے تو 'باوا‘ بنایا جا سکتا ہے۔ ہیلمٹ کی ایک سائیڈ پر آنکھیں اور کان ناک وغیرہ بنا اسے کر گھر کے مین گیٹ کے اوپر باندھ دیا جائے تو دور سے چوروں ڈاکوئوں کو ایسا لگے گا جیسے کوئی گنجا بندہ جھانک رہا ہے۔
کئی لوگ سمجھتے ہیں کہ شائد ہیلمٹ صرف مردانہ استعمال کی چیز ہے حالانکہ یہ غلط ہے خواتین بھی اِس سے خاطر خواہ فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ اِس کے اوپر رکھ کر سبزی کاٹی جا سکتی ہے۔ گول روٹی بنائی جا سکتی ہے۔ آنکھوں میں آنسو لائے بغیر پیاز چھیلے جا سکتے ہیں۔ شامی کباب بڑے اچھے بن سکتے ہیں۔ سوّیاں بڑی اچھی 'وٹی‘ جا سکتی ہیں۔ بچے اِسے بطور پینٹنگ بورڈ بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ اِس کے اندر انڈے رکھے جا سکتے ہیں۔ شوہر اگر صبح دفتر جاتے وقت گلی میں تھوڑا آگے تک چلا جائے اور اونچی آواز دینا بد شگونی خیال ہو تو ہیلمٹ گھما کر اُس کی 'پڑپڑی‘ پر مسڈ کال بھی دی جا سکتی ہے۔ خواتین کے پاس ہیلمٹ ہو تو شوہر کے ساتھ لڑائی کے دوران گھر کے برتن ٹوٹنے سے محفوظ رہتے ہیں... اور تو اور ایک ریسرچ کے مطابق شوہر اگر دوسری شادی کے بارے میں سوچ رہا ہو تو ہیلمٹ کی بدولت اسے ایک ہی رات میں اس کے ارادے سے باز رکھا جا سکتا ہے؛ تاہم رپورٹ میں اس کا طریقہ نہیں بتایا گیا...!!!
کسی سے لڑائی کی صورت میں ہیلمٹ بہترین ہتھیار کا کام دے سکتا ہے۔ اس سے سانپ وغیرہ بھی مارا جا سکتا ہے۔ بادام اور اخروٹ وغیرہ توڑے جا سکتے ہیں۔ دوستوں کی محفل میں اگر موسیقی شروع ہو جائے تو ہیلمٹ سے اچھا طبلہ کوئی نہیں۔ شادی بیاہ میں ڈھولکی کے طور پر بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ لائٹ گئی ہو اور آپ کے دروازہ کھٹکھٹانے پر اندر آواز نہ جائے تو ہیلمٹ گھما کر اندر پھینکنے سے سب کے کان کھولے جا سکتے ہیں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *