نیب، اساتذہ پرغضبناک

انسان بھی عجب مخلوق ہے۔ جب میرا آتش جوان تھا تو ڈرامے اور ناول لکھنے کو جی چاہتا تھا۔ ذہن مگر کافی بانجھ تھا۔ مایوسی میں مہا تخلیق کاروں کی زندگیوں کے بارے میں پڑھنا شروع کر دیا۔ دریافت ہوا کہ ایک شے ہوتی ہے ’’مالیخولیا‘‘۔مطلب تو اس کا خاص سمجھ نہیں آیالیکن اندازہ ہوا کہ شاید کوئی نفسیاتی بیماری ہوتی ہے۔ غالبؔ نے جس شخص کو بڑی عاجزی سے ’’…کوئی میرؔ بھی تھا‘‘ کہا اسے لاحق تھی۔ اداسی کی بے پناہ لہر جو کسی شاعرپر طاری ہوجائے تو اسے کیٹس (Keats)بنادیتی ہے۔خود کو یہ بیماری لاحق ہونے کی دُعا مانگنے لگا۔ لاہور کی گلیوں میں لیکن ان دنوں اداس ہونے کا بہت کوششوں کے باوجود کوئی بہانہ نہ مل سکا۔زندگی گرچہ جہد مسلسل کا تقاضہ کئے جارہی تھی۔

مالیخولیا سے محفوظ رہ کر ڈرامے اور ناول تو تخلیق نہ کرپایا مگر لکھ بول کر ہی زندگی گزارلی ہے اور اپنے شعبے میں بہت ناکام بھی نہیں ہوں۔تن خواہ معقول اور معاشی حوالوں سے تھوڑی راحت کے ہوتے ہوئے قانع دل کو اپنے ربّ سے شکایت کی کوئی وجہ ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔

اس سب کے باوجود دل چند دنوں سے بہت اداس ہے۔ انگریزی میں جسے Depressionکہا جاتا ہے،اس کی کتابوں میں بتائی تمام کیفیات سے گزررہا ہوں۔ یہ حالت مگر وہ مالیخولیا نہیں جس نے میرؔ بنادیا تھا۔ میرا اصرار ہے کہ ایک وقتی کیفیت ہے۔ ستمبر کے ساتھ وارد ہوئی ہے۔ انگریزی میں اسے Winter's Bluesکہا جاتا ہے۔ سردیوں کے ساتھ آئی اداسی جو اسلام آباد میں شدت سے محسوس کی جاسکتی ہے۔ یہ جانے کے لئے آئی اداسی ہے مگر اس وقت کافی تکلیف دہ محسوس ہورہی ہے اور اداسی کی اس کیفیت میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی وہ کلپ دیکھ لی جس میں نیب والے چند اساتذہ کو ہتھکڑیوں کے بوجھ تلے قدم اٹھاکر ندامت سے عدالت کی طرف چلنے کو مجبور کررہے ہیں۔

جن اساتذہ کے ساتھ بڑھاپے میں یہ سلوک ہوا ان میں سے کسی ایک کے ساتھ میرا کوئی ذاتی تعلق نہیں رہا۔مجھے خبر نہیں کہ ان پر لگائے الزامات کی حقیقت کیا ہے۔ جو الزام لگے ہیں ان کی سنگینی مگر اس قدر نظر نہیں آتی کہ اپنی زندگیاں فروغ تعلیم کے لئے مامور کئے جانے والوں کو اس انداز میں ذلیل ورسوا کرنے کا جواز بن سکے۔ واقعہ مگر ہوچکا ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحب نے اس کا نوٹس بھی لے لیا ہے۔ لاہور نیب کے ڈی جی اس ضمن میں معافی کے طلب گار ہوئے۔ کہانی یہ بھی پھیلائی گئی ہے کہ سپریم کور ٹ کے روبرو پیش ہونے کے بعد آنکھوں میں آنسو چھپاتے رخصت ہوئے۔ تاثر یہ دیا جارہا ہے کہ نیب ہی کے کچھ افسران نے جو شاید شریف خاندان سے ’’لفافے‘‘ لے کر اپنے ادارے کی ’’ساکھ‘‘ کو مجروح کرنا چاہ رہے ہیں اساتذہ کو ہتھکڑیاں لگانے کا ’’ڈرامہ‘‘ رچایا تاکہ لوگوں کے دلوں میں اس ملک کو کرپشن سے پاک کرنے کے مشن پر مامور ادارے کی بدنامی ہو۔

وائرل ہوئی ویڈیو میں اساتذہ کے ساتھ ہوئے سلوک کو وقتی طورپر بہت اداس اور پریشان ہونے کے بعد بھلادیا گیا ہے۔ نیب کی پھیلائی یہ کہانی مجھے لیکن مستقل اشتعال دلائے جارہی ہے کہ ستی ساوتری نیب کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی سازشیں ہورہی ہیں۔ رعونت اس ادارے کی سرشت میں شامل ہے۔ اس سے وابستہ افسران کو قانون کی مدد سے ہلاکو خان جیسے اختیارات میسر نہ ہوتے تو جنرل مشرف کی سہولت کے لئے پاکستان مسلم لیگ میں سے ’’قاف‘‘ برآمد کرنا ناممکن ہوتا۔ پاکستان پیپلز پارٹی سے ’’محبانِ وطن‘‘ دریافت نہ ہوپاتے۔

فرانس پر دوسری جنگ عظیم کے دوران نازیوں نے قبضہ کیا تو مزاحمت کی لہرنے دومہالکھاری پیدا کئے۔ژاں پال سارتر اور البرٹ کامیو ان کے نام تھے۔کامیو کو احتیاطاََ یاد آیا فرانسیسی کاموکہتے ہیں اور میں بھی اسے اسی نام سے پکاروں گا۔’’اجنبی‘‘ کامو کا شہرئہ آفاق ناول ہے۔ اس کے ہیرو کو اپنی ماں کے مرجانے کی خبر ملتی ہے تو بالکل اداس نہیں ہوتا۔ کسی بھی تاسف یا یادوں کی برسات کے بغیر تدفین کے مراحل سے رسوم دنیا کو میکانکی انداز سے نبھاتا ہے۔ روزمرہّ زندگی کو ایک دیوہیکل مشین کی طرح لیتا آدمی جو خود کو محض اس مشین کا ایک پرزہ سمجھتا ہے۔جس کے کوئی جذبات نہیں ہوتے۔ بس جئے چلے جارہا ہے۔

انسان کی سرشت میں موجود بے حسی کا شدت سے ادراک کرتے ہوئے بھی کامو ان لکھاریوں میں شامل تھا جو ادب میں مقصدیت ڈھونڈتے تھے۔خود کو انسانیت کی ا جتماعی بہتری کے لئے سوچ سمجھ کر اپنائے کسی تصور کے فروغ کا ذمہ دار سمجھتے تھے۔ سچ اور جھوٹ کے درمیان جاری جنگ میں انہیں کسی ایک فریق کے ساتھ ڈٹ کر کھڑا ہونا تھا۔ خود کو Commitکرنا تھا۔

اپنی زندگی کے کئی برس ’’مقصدیت‘‘ کی نذرکردینے کے بعد مگر کامو نے Rebel(باغی) نام کی ایک کتاب لکھ ڈالی۔ اس کتاب کے ذریعے وہ اپنی کسی ’’بڑے مقصد‘‘ کی خاطر گزاری زندگی کے بارے میں پشیمان نظر آیا۔ کامو پر الزام لگا کہ وہ ’’بک‘‘ گیا۔ بکانہیں تو بہک گیا۔

کامو مگر بہکا نہیں تھا۔ بکنے کی اسے ضرورت نہیں تھی۔تاریخ انسانی کے گہرے مطالعے کے بعد ٹھوس دلائل سے اس نے ثابت کیا کہ مخلوق انسانی کو تباہی اور وحشت سے دو چار کرنے والے ’’جرائم‘‘ درحقیقت Crimes of Reasonہوتے ہیں۔انسان کا ایک گروہ معاشرے کو سنوارنے کے بہانے ’’اعلیٰ اخلاقی قدروں‘‘ کے نام پر ایک نظریہ تشکیل دیتا ہے۔ اس نظریے کو ٹھونسنے کی کوشش ہوتی ہے اور چونکہ اس نظریے کے پرچارکوں کو اپنے حق پر ہونے کا یقین ہوتا ہے کہ اس لئے وہ مخالف انسانوں کو وحشیانہ اذیتوں سے گزارتے ہوئے کوئی شرمندگی محسوس نہیں کرتے۔

سادہ ترین لفظوں میں کامو کے بیان کردہ Crimes of Reasonsسمجھنا ہو تو اپنے ان ’’دہشت گردوں‘‘ کی کارستانیوں کو یاد کرلیجئے جو ہمارے دین مبین کی من مانی تشریح کے ذریعے خودکش بمبار پیدا کرتے ہیں۔ مساجد اور صوفیاء کے مزاروں میں بیٹھے بے گناہ انسانوں کو نشانہ بناتے ہیں۔

نیب نام کا ادارہ ہمہ وقت کرپشن کی دہائی مچاتے پاک بازوں کی تسکین کے لئے بنایا گیا ہے۔ اسے ’’خودمختار‘‘ اور ’’مؤثر‘‘ بنانے کے لئے جوقوانین موجود ہیں وہ دنیا بھر میں کتابوں کی حد تک تسلیم ہوئے اصولوں کی نفی کرتے ہیں۔مثال کے طورپر قانون کی بنیادی روح یہ تقاضہ کرتی ہے کہ مجھ پر الزام لگانے والا میرا جرم ثابت کرے۔نیب مگر کسی کو گرفتار کرلے تو محبوس ہوئے شخص کو اپنی بے گناہی ثابت کرنا ہوگی۔نیب کو اس ضمن میں قانون نافذ کرنے والے دوسرے اداروں کی طرح ٹھوس تحقیق وتفتیش کے ذریعے فردِ جرم میں لگائے الزامات کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں۔

کرپشن کے خلاف دہائی مچاتے اور سینہ کوبی پر مامور افراد نیب کی ہلاکو خانیوں کو اخلاقی جواز فراہم کرتے ہیں۔کرپشن کے خلاف شوروغوغا کے ہوتے ہوئے نیب کے اختیارات پر سوالات اٹھانے کی کسی صاحبِ دل و اولاد کو فرصت نہیں۔ اساتذہ کے ساتھ ہوا سلوک بھی جلد بھلادیا جائے گا۔زلفی بخاری کے ساتھ مگر ایسا سلوک ہو نہیں پائے گا نہ ہی ایسی ذلت علیم خان کو بھگتنا ہوگی۔نیب کا ’’خودمختار‘‘ ادارہ پنجابی محاورے والا پاگل تو ہے مگر اتنا بھی نہیں۔ خوب جانتا ہے کہ ان دنوں کسے ہاتھ ڈالنا ہے۔

چند ماہ قبل تک پاکستان کے سارے ’’بدعنوان‘‘ افراد کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے ہوا کرتا تھا۔ ان دنوں ایسے افراد کا تعلق کسی نہ کسی طرح شریف خاندان سے ہونا ضروری ہے۔ وقت بدلا تو نیب میں بیٹھے ہلاکو خانوں کے طیش کا نشانہ آج کے طاقت ور دِکھتے افراد ہوں گے ۔ وطنِ عزیز کو کرپشن سے پاک کرنے کے مشن پر مامور ہوئے افراد انسانوں کی تذلیل کا کاروبار جاری رکھیں گے۔ نیب نامی ادارہ ہمارے پاک بازوں کے دلوں میں اُبلتے غصے کی تسکین کے لئے بنایا ایک جلادی کارخانہ ہے۔ جسے ’’قانونی‘‘ حوالوں سے انسانوں کی تذلیل کا اختیار بخشا گیا ہے۔ اس کے غضب سے اللہ کی پناہ مانگنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *