دایاں اور بایاں بازو؟

وہ دن دور نہیں جب انسانی اعضاءکے سپیئر پارٹس بھی بازار سے اسی طرح دستیاب ہو ا کریں گے جس طرح ان دنوں پرچون کی دکان سے ضرورت کی چھوٹی موٹی چیزیں اور مارکیٹ سے کاریا موٹر سائیکل کے سپیئر پارٹس دستیاب ہوتے ہیں۔ اس صورت میں ٹانگیں اور بازو وغیرہ تو باہر کسی کنڈے کے ساتھ لٹکے ہوں گے جبکہ آنکھ، کان اور دل وغیرہ چھوٹے چھوٹے پیکٹوں میں بند شوکیسوں میں سجے نظر آئیں گے۔ گاہک دکاندار سے کوئی عضو طلب کرے گا تو وہ فوراًکپڑے سے لشکا کر اس کی خدمت میں پیش کر دے گا ۔گاہک اگر دل کا خریدار ہے تو قارئین یہ منظر آنکھوں کے سامنے لائیں کہ دل دینے اور دل لینے والا مول تول میں مصروف ہیں۔ دل دینے والا زیادہ سے زیادہ دام کھرے کرنے کے چکر میں ہے اور دل لینے والا سو پچاس روپے کم کرانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ممکن ہے عشاق یہ منظر دیکھنا پسند نہ کریں۔ایک تو اس لئے کہ اس میں ان کی توہین کا پہلو نکلتا ہے اور دوسرے یوں کہ بازاروں میں دلوں کی یوں کھلے عام خرید و فروخت سے ان کے لئے ممکن نہ رہے گا کہ وہ کسی سے کہہ سکیں۔

ابھی کم سن ہو رہنے دو کہیں کھو دو گے دل میرا

تمہارے ہی لئے رکھا ہے لے لینا جواں ہو کر

کیونکہ اس کے جواب میں وہ بہت کم سن ناک بھوں چڑھا کر کہے گا کہ تھوڑے سے پیسوں کے لئے مرے جا رہے ہو ۔ اگر دل گم ہو گیا تو کونسی قیامت آ جائے گی۔ بازار سے ایک اور لے آنا۔

باقی سپیئر پارٹس کا ذکر تو ہم بعد میں کریں گے اب اگر دل کا ذکر چھڑ ہی گیا ہے تو پہلے یہ قصہ نمٹا لیں معاملہ کچھ یوں ہے کہ متذکرہ صورت میں جہاں دل والوں کے لئے گونا گوں پریشانیاں پیدا ہوںگی۔ وہاں ان کے لئے ایک مسئلہ یہ بھی ہو گا کہ جذبہ صادق نہ ہو نے کی صورت میں وہ لمبے چوڑے دعوے نہیں کر سکیں گے۔مثلاً ان کے لئے ممکن نہ ہو گا کہ وہ کہیں اگر یقین نہیں آتا تو میرا دل چیر کر دیکھ لو۔

کیونکہ اس کے جواب میں دوسرے نے فوراً چاقو نکالنا ہے اور دل چیر کے دیکھ لینا ہے۔ اسی طرح ایک تو دعویٰ کنندہ خواہ مخواہ شرمسار ہو گا کیونکہ دل میں سے تو ایک قطرہ خون کے سوا کچھ نہیں نکلنا اور دوسرے نیا دل خریدنے کے ضمن میں بیٹھے بٹھائے اسے ایک اچھی خاصی رقم کی ’’ڈز‘‘ پڑ جائے گی تاہم اس میں دل والوں کا ایک فائدہ بھی ہے وہ یوں کہ اگر کوئی ان کا دل توڑ دیتا ہے تو وہ سر میں خاک ڈال کر اور گریبان چاک کر کے جنگلوں کی طرف نکل جانے کی بجائے سپیئرپارٹس کی دکان پر جائیں گے اور نیا دل خرید لائیں گے یعنی

اور لے آئیں گے بازار سے گر ٹوٹ گیا

اسی طرح اگر کوئی مفلس و نادار ہے اور وہ نیا دل افورڈ نہیں کر سکتا تو وہ بلال گنج جائے گا سیکنڈ ہینڈ دل خرید کر گزاراکرلے گا لیکن اس میں اگر کوئی خدشہ مضمر ہے تو یہ کہ سیکنڈ ہینڈدل کہیں پہلے سے بھی زیادہ کشتہ تیغ ستم نہ نکلے کیونکہ اس صورت میں بچارے اہل دل کی زندگی مزید اجیرن ہو جائے گی۔ اسی خدشے سے محفوظ رہنے کا یہی ایک طریقہ ہے کہ سکینڈ ہینڈ دل خریدتے وقت کسی عادی دل شکستہ کو ساتھ لے جایا جائے تاکہ وہ دل کے لنڈا بازار میں پوری چھان پھٹک کے بعد کوئی اچھا دانہ ڈھونڈنے میں کامیاب ہو جائے۔

ظاہر ہے انسانی سپیئر پارٹس کی مارکیٹ میں صرف دل ہی نہیں دستیاب ہوں گے بلکہ جیسا کہ میں نے شروع میں بیان کیا وہاں کان، آنکھیں، ہونٹ،بازو اور ٹانگیں وغیرہ بھی سستے داموں فروخت ہوں گی۔ کئی لوگ کانوں کے بہت کچے ہوتے ہیں وہ اگر چاہیں گے تو بازار سے ایک جوڑی کانوں کی خرید کر اپنی اور دوسروں کی زندگی آرام دہ بنا دیں گے ۔ کچھ لوگوں کو آنکھوں کی بہت سخت ضرورت ہوتی ہے کیونکہ وہ تمام عمرآنکھیں بند کر کے گزارتے ہیں جس سے وہ آہستہ آہستہ ایک دن بصیرت اور بصارت دونوں سے محروم ہو جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے آنکھوں کا تحفہ نعمت غیر مترقبہ ثابت ہو گا کیونکہ آئندہ کے لئے آنکھیں کھلی رکھنے کی صورت میں و ہ بہت سے جذباتی حادثوں سے بچ جائیں گے۔ تاہم تمام اعضاء میں سب سے زیادہ منافع بخش خرید و فروخت غالباً بازوئوں کی ہو گی چنانچہ لوگ اپنے لئے دایاں اور بایاں دونوں بازوحاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے اور اس کے منہ مانگے دام ادا کریں گے کیونکہ یہ ان کی روزی کا معاملہ ہے ۔ ہمارے ہاں دائیں بازو والے کی کمائی اس کے دائیں بازو کی وجہ سے ہےاور بائیں بازوکا رازق اس کا بایاں بازو ہی ہے۔ اب اگرچہ دائیں اور بائیں بازو کو مختلف نام دے دیا گیا ہے لیکن اس سےکوئی فرق نہیں پڑتا ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *