سوشل میڈیا سینسر شپ: ’لکھنے والا انسان خاتون ہو تو یہ دوہرا جرم ہوتا ہے‘

"افشاں مصعب"

بچپن میں بھائی کو پتنگ بازی سے روکا جاتا تو وہ باغیچے سے جانے کِس طرح ایک ٹِڈا پکڑ لاتا تھا۔ جس کو ہم دیسی بچے ان دنوں ’ہیلی کاپٹر‘ کہا کرتے تھے۔۔۔ اس کی دُم کے ساتھ دھاگہ باندھ کر اڑاتے اور ایک حد کے بعد اڑنے کی کوشش میں وہ کبھی اپنا پَر گنوا بیٹھتا تو کبھی دُم ٹوٹ جاتی ۔

بچپن تھا سو بیت گیا لیکن اس ’پرواز‘ کے دوران ایک مدہم سی آواز سے لے کر کٹے پھٹے اختتام تک کا معاملہ مجھے اس روز بہت یاد آیا جب مشال خان قتل کیس پر میرا بلاگ لگانے سے ایڈیٹر صاحب کی معذرت ان الفاظ میں موصول ہوئی ’آپ کی تحریر میں کوئی خامی نہیں لیکن ہمارا ادارہ ابھی اس معاملے پر خبر کے علاوہ کوئی تحریر یا تبصرہ شائع نہیں کر رہا۔‘

یہی معاملہ پھر ڈان لیکس کے تازہ شور میں لکھی گئی ایک تحریر کے ساتھ درپیش ہوا تو اندازہ ہوگیا کہ آزادئ اظہارِ رائے میں ہماری سوچ نہ سہی لیکن اس کے پھیلاؤ کی حد قائم رکھنے کو کہیں کسی نے اَن دیکھا دھاگہ ضرور باندھا ہوا ہے۔

’سرکاری اشتہارات کا سنسرشپ کے ہتھیار کے طور پر استعمال‘ایک عام سوشل میڈیا صارف کی طرح کبھی میں بھی بہت چہکا کرتی تھی اور اپنے معاشرتی مشغلے کے تحت ہر بات یا خبر پر اظہارِ رائے کی آزادی سمجھتے سوشل میڈیا پر بغیر لگی لپٹی بول دیا کرتی تھی لیکن پھر ایک روز احساس ہوا کہ ہمارے بیشتر بدنما معاشرتی رویوں کے تضاد، مذہبی منافرت، جنسی ہراسگی یا سرحد کے ہر جانب امن کی خواہش کرنے جیسے معاملات میں مناسب الفاظ کا چناؤ کر بھی لیا جائے تو بات بنتی نہیں ہے۔

آپ اگر چھاتی یا بچہ دانی کے سرطان پر چند حروف ہی گھسیٹ لیں۔ بڑھتی آبادی، کسی ریپ کیس یا گستاخی کارڈ کا شکار کسی مقتول کے بارے میں بولنے کا حوصلہ دکھا دیں اور پھر لکھنے والا انسان خاتون ہو تو یہ دوہرا جرم بنا دیا جاتا ہے۔ اس ’بےشرم و بےحیا‘ عورت کو اخلاقیات سے لے کر معاشرتی اصول تک پڑھانے سر توڑ کوشش کی جاتی ہے۔ کسی نے کہا تھا کہ بولتی ہوئی اپنی سوچ میں آزاد عورت ہمارے ہاں مسائل کی جڑ سمجھی جاتی ہے۔

ٹوئٹر

سینسرشپ پالیسی ہر صحافتی ادارے میں مختلف ہوسکتی ہے بالکل جیسے ہم عام شہری خود کو ایک مقررہ حد کے اندر رہتے ہوئے مختلف موضوعات تک محدود رکھتے ہیں، جن میں ہماری دلچسپی یا معلومات سے زیادہ اب اُس کو پڑھنے والوں کی جانب سے قبولیت کا پیمانہ ذہن میں رکھا جانے لگا ہے یا پھر بعض اوقات صرف اس لیے کسی مسئلے پر لکھ بول نہیں پاتے کہ اس پر موصول ہونے والے ممکنہ ردِعمل کی شدت و حدت کیسے قابو ہو گی۔

میں لیکن کسی آرگنائزیشن کو اس جواز کے ساتھ زیادہ مارجن نہیں دے پاتی کیونکہ پہلے سامع و ناظر کو تیار کیا جاتا ہے کہ یہ پراڈکٹ خریدے بغیر آپ کی زندگی میں خالی پن رہے گا اور پھر وہ سودا بِک جاتا ہے، سادہ مارکیٹنگ نسخہ۔ پاکستان میں گذشتہ کچھ برسوں کے دوران سینسر شپ پالیسی کو اگر اس سے باہر رہ کر دیکھا جائے تو پوسٹ کارڈ پر لکھے عید مبارک شعر کی تفسیر معلوم ہوتی ہے ’ڈبے میں ڈبہ، ڈبے میں کیک۔۔۔ میرا دوست غلام رسول لاکھوں میں ایک‘۔ یہ ہماری پالیسی ہے لیکن اس میں فلاں فلاں کو چھونے کی ضرورت نہیں، یہ صاحب کا ڈبہ ہے اور اس کے اندر والا ڈبہ ہم نے کیک کی حفاظت کے لیے خود وضع کر رکھا ہے۔

سینسر شپ سیریز کی مزید تحاریر

انفرادی سطح پر دائرہ اس قدر تنگ ہوچکا ہے کہ اگر ایک پل میں آپ احمدی عبادت گاہ پر کسی ہجوم کے حملے کی مذمت کر رہے ہیں تو پانچ سات دوست فوری رابطہ کریں گے کہ کچھ دیر بعد اس کو بیلنس کردو۔۔۔ بیلنس بولے تو کوئی قوالی، نعتیہ کلام، حمدیہ اشعار یا پھر کوئی ’اسلامی پوسٹ‘ اور اگر آپ یہ توازن قائم کرنے سے کنی کتراتے ہیں تو ایک دو روز میں ہی قریب ترین دوست باتوں باتوں میں آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ فلاں نے مجھے قائل کرنے کی کوشش تو بہت کی لیکن میں نے بتا دیا ہے کہ افشاں کے عقیدے بارے ایک لفظ نہیں سننا مجھے۔ ویسے افشاں آپس کی بات ہے،مجھے تو کوئی مسئلہ نہیں لیکن آپ صرف ہمدردی میں ایسی ٹوئٹس کرتی ہیں نا؟

سینسر شپ

یعنی سیلف سینسرشپ کو نظرثانی کی حاجت ہو گئی۔ اجتماعی سطح پر یا بڑے پیمانے پر آپ انتخابی عمل سے پہلے کے حالات یا سرگودھا، بٹگرام، مری وغیرہ میں ہوئے گھیراؤ دھرنوں پر مقامی افراد کی رائے لکھ کر بھجوا بھی دیں، نہیں چھپے گا۔ دھرنے دھرنے میں بھی فرق ہوتا ہے ۔ موچی گیٹ میں ہوئے پشتون تحفظ تحریک کے جلسے میں شرکت کا آنکھوں دیکھا حال بیان کریں تو کوئی نہیں چھاپے گا ۔ عمومی جواب ہوتا ہے پنگا لینے سے دنگا ہوسکتا ہے، ہَتھ ہولا رکھو۔

کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ہم اپنے مقامی میڈیا میں کسی خبر یا شخصیت کو سننا اور اس پر ماہرین کی رائے جاننا چاہیں بھی تو مجبور و بےکس انتظامیہ اس ہفتے پرانے شوز نشر کرنے جتنی ہی قدرت حاصل کر پاتے ہیں۔ سیاستدان ہمارے ہاں آسان ہدف ہے اور اس کی بیخ کنی پر سینسر شپ بہت فیاضی دکھاتی ہے۔ وہ بھی خود کو عوامی نمائندہ سمجھتے ہوئے بخوشی اس عمل میں مزاحمت کیے بغیر اب تو محظوظ ہونے لگے ہیں۔

ہماری سکرینوں پر سینسر شپ میں کافی لچکیلے انداز بھی پائے جاتے ہیں جیسا کہ ’مسوجنی‘ سے لے کر کسی کے نقوش، قد یا رنگت کا مذاق اِس کی نذر نہیں ہوتا۔ مذہبی منافرت کسی خاص زاویے پر پھیلا کر دوسروں کی زندگیاں خطرے میں ڈالنے پر بھی پالیسی نرم رہتی ہے۔ حتیٰ کہ سوشل میڈیا ایکٹوسٹس یا بلاگرز کسی شام اپنے گیجٹس سمیت کہیں چلے جائیں تو ان کے خلاف بھی مہم چلانے سے کوئی روک ٹوک کا سامنا نہیں ہوتا لیکن اس ملک میں لاپتہ افراد کے لواحقین کا احوال دکھانے پر کالا پردہ ڈالے اللہ جانے کون پہرہ دیے بیٹھا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *