خلائی مخلوق سے محکمۂ زراعت تک: سینسر شپ کی پاکستانی ڈکشنری

"آصف فاروقی"

پاکستانی میڈیا پر عائد مبینہ پابندیوں یا سنسر شپ کا جائزہ لینے کے لیے چند دن صحافیوں سے یہ پوچھتے گزرے کہ انھیں کس قسم کی پابندیوں کا سامنا ہے۔ کچھ نے صاف انکار کیا کہ انھیں کسی قسم کی بھی پابندی کا سامنا ہے اور کسی نے اپنے نیوز روم میں میرے اس سوال کے جواب میں ہونٹوں پر انگلی رکھی اور آنکھ کے اشارے سے باہر چلنے کو کہا کہ اس موضوع پر ان کے نیوز روم میں بات کرنے پر پابندی ہے۔

ان ملاقاتوں کے دوران مجھے پہلی بار اندازہ ہوا کہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران ایسے الفاظ کا ایک ذخیرہ بن چکا ہے جن کو پاکستانی اخبارات اور نیوز چینلز پر استعمال کرنے پر اعلانیہ یا غیر اعلانیہ پابندی لگ چکی ہے۔ ان میں کچھ الفاظ اور ان کی تشریح یہ ہے۔

خلائی مخلوق

دنیا بھر میں خلائی مخلوق سے مراد وہ مخلوق ہے جو انسانوں کے رہنے کے سیارہ یعنی زمین کےعلاوہ کسی اور سیارے پر رہتی ہے۔ اس مخلوق کے ہونے یا نہ ہونے پر کئی دہائیوں سے نا صرف بحث چل رہی ہے بلکہ دنیا کے مختلف ملکوں میں اس بارے میں باقاعدہ تحقیق بھی چل رہی ہے۔ لیکن پاکستان میں یہ عالم ہے کہ اس خلائی مخلوق کے ذکر پر ہی پابندی عائد کی جا چکی ہے۔

خلائی مخلوق
بی بی سی کی مشہور سیریز ’ڈاکٹر ہو‘ میں ’سائبر مین‘ نامی خلائی مخلوق مرکزی کردار کے پیچھے پڑی نظر آتی ہے

اس غیر اعلانیہ پابندی کا سیاسی پس منظر یہ ہے کہ سپریم کورٹ سے نااہل ہونے اور وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھونے کے بعد سابق وزیر اعظم نواز شریف نے عوامی جلسوں کا ایک سلسلہ شروع کیا اور جوں جوں عام انتخابات کے دن قریب آتے گئے ان کے لہجے کی تلخی بڑھتی گئی۔ ایک دن اسی جوش خطابت میں انہوں نے عوامی جلسے میں موجود حاضرین سے مخاطب ہوتے کہا کہ آپ کو معلوم ہے کہ ان انتخابات میں ہمارا مقابلہ کس سے ہے؟ ظاہر ہے لوگوں نے کہا کہ آپ بتائیں۔ اس موقعے پر نواز شریف اپنے مخصوص انداز میں بولے ہمارے مقابلہ عمران خان سے نہیں ہے۔ اس کے بعد ایک عجیب انداز میں ہاتھ اونچا کیا اور بولے ہمارا مقابلہ ’ان‘ سے ہے۔ مجمعے میں قہقہہ لگا تو انہیں اندازہ ہوا کہ ان کے اس جملے کو شاید لوگوں نے غلط مطلب پہنا دیے ہیں لہٰذا انہوں نے فوراً اضافہ کیا کہ ان کا مقابلہ خلائی مخلوق سے ہے جو دکھائی نہیں دیتی۔

وہ غالباً فرشتے کا لفظ استعمال کرنا چاہ رہے تھے کیونکہ پاکستان میں فرشتے سیاسی اصطلاح میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کے لوگوں کو کہا جاتا ہے لیکن نواز شریف نے اس روز ان کے لیے ایک نئی سیاسی اصطلاح ایجاد کر دی جو پاکستانی صحافیوں اور ٹی وی اینکرز کو بھا گئی۔

بس پھر کیا تھا سب نے یہ لفظ استعمال کرنا شروع کر دیا اور اتنی کثرت سے کیا کہ جن لوگوں کے بارے میں یہ اصطلاح استعمال ہو رہی تھی انہیں بھی خبر ہو گئی کہ یہ سب ان کا مذاق بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ بس پھر قومی سلامتی کے معاملات بیچ میں آ گئے اور یوں صحافیوں کے خلائی مخلوق کے سائنسی کے علاوہ کسی بھی استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی۔

محکمہ زراعت

بچپن میں سکول کی کتابوں میں پڑھا تھا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اس کی ترقی کے لیے محکمہ زراعت شب و روز مصروف عمل ہے۔ پھر اس محکمے سے تعلق رکھنے والے چند اہلکاروں کے لکھے ہوئے مضمون بھی درسی کتب میں شامل رہے جن کے ذریعے ہمیں کھیتی باڑی اور مرغبانی کے طریقے بھی بتائے گئے لیکن آج کل سنا ہے کہ پاکستانی صحافی محکمہ زراعت کا ذکر کریں تو خبر یا کالم میں سے یہ لفظ حذف ہو جاتا ہے۔

محکمہ زراعت کے ساتھ اس زیادتی کا پس منظر یہ ہے کہ عام انتخابات کے دوران مسلم لیگ ن کے ایک امیدوار نے ایک بھری پریس کانفرنس میں کہا کہ ایجنسیوں کے بعض اہلکار انہیں سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے پر زور دے رہے ہیں اور ان کی جاسوسی کی جا رہی ہے۔ انھوں نے اسی پریس ٹاک کے دوران موجود ان مبینہ انٹیلی جنس اہلکاروں کی نشاندہی بھی کر دی۔ یہ معاملہ اس روز تمام دن میڈیا کی زینت بنا رہا۔

پاکستانی فوج
پاکستان میں فرشتے سیاسی اصطلاح میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کے لوگوں کو کہا جاتا رپا ہے

اگلے روز وہی صاحب ایک بار پھر میڈیا کے سامنے آئے اور گذشتہ روز پیش آنے والی ’غلط فہمی‘ کے بارے میں وضاحت دیتے ہوئے بتایا کہ جن افراد کو وہ انٹیلی جنس ایجنسی کا اہلکار سمجھتے رہے وہ دراصل محکمہ زراعت کے اہلکار تھے جن کے ساتھ ان کے اپنی کھیتی باڑی کے بارے میں کچھ معاملات چل رہے تھے۔ انہوں نے حلفاً کہا کہ اس سارے معاملے کا کسی انٹیلی جنس ایجنسی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

معاملہ اس بات پر ختم ہو جانا چاہیے تھا لیکن صحافی کہاں چپ بیٹھنے والے تھے، اسی شام ٹیلی وژن چینلز پر شور مچ گیا کہ کس طرح ’محکمہ زراعت‘ کے ان اہلکاروں نے اس مسلم لیگی امیدوار کو اس کے گودام میں بند کر کے مکوں اور لاتوں کے ذریعے ملکی زراعت بہتر کرنے کے نسخے سمجھائے جس کے بعد امیدوار موصوف نے اپنا وہ مشہور زمانہ محکمہ زراعت والا بیان جاری کیا جو پاکستان کی سیاسی لغت کا حصہ تو بن چکا ہے لیکن اس کے استعمال پر پابندی ہے۔

’لڑکی کے بھائی‘

ہوا یوں کہ پاکستانی سیاست میں فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے کردار پر بار بار خبر لکھنے والے مشہور صحافی احمد نورانی پر دن دیہاڑے اسلام آباد میں حملہ ہوا۔ چند افراد نے انہیں گاڑی سے اتار کر خوب مارا پیٹا اور زخمی حالت میں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔

وہ ان دنوں پانامہ تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی میں فوج اور اس کے انٹیلی جنس اداروں کے کردار پر تنقیدی اور تحقیقاتی خبریں کرنے کی وجہ سے تازہ تازہ مشہور ہوئے تھے۔ لہذا ان کے بعض واقف حال صحافیوں نے اس حملے کے تانے بانے انھی اداروں سے جوڑنے شروع کر دیے۔

اس شور شرابے میں کچھ ایسے صحافیوں نے بھی اپنی آواز شامل کی جو ان اداروں کے دفاع میں سامنے آئے تھے۔ انھوں نے جوابی نظریہ پیش کیا اور یہ نظریہ خبروں کی شکل میں بعض اخباروں میں چھپا بھی کہ احمد نورانی نے ایک لڑکی کو چھیڑا تھا اور اس لڑکی کے بھائیوں نے ان کی پٹائی کر دی۔ یہ کہانی اتنی دلچسپ فلمی انداز میں پیش کی گئی تھی کہ فوری طور پر ہٹ ہو گئی اور ’بدتمیز‘ صحافیوں نے ہر معاملہ جس میں کسی انٹیلی جنس ادارے کے کردار کا ذرہ برابر بھی شک ہوا، اسے لڑکیوں کے بھائیوں سے منسوب کر دیا۔ مثلاً پشاور سے لڑکی کے بھائیوں نے را کے ایجنٹ کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ کراچی سے ٹارگٹ کلر لڑکی کے بھائیوں کے خفیہ آپریشن میں گرفتار وغیرہ وغیرہ۔

بات اتنی بڑھی کہ یہ اصطلاح، یعنی لڑکی کے بھائی بھی سنسر شپ کی زد میں آ گئی اور اب اگر واقعی میں کسی لڑکی کے بھائی کو کچھ کہنا ہو تو وہ بھی ناقابل اشاعت ہو جاتا ہے۔

ووٹوں کی گنتی
انتخابی عمل میں مبینہ بےقاعدگیوں یا مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کرنے کے لیے حزب اختلاف کے مطالبے پر ایک پارلیمانی کمیشن بھی بن چکا ہے

دھاندلی

25 جولائی کی شام کو پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد جو کچھ پاکستان کے لاتعداد پولنگ سٹیشنز پر ہوا اور اس کے بعد الیکشن کمیشن کے بدنام زمانہ الیکشن ٹرانسمیشن سسٹم نے ووٹرز کے ساتھ کیا الیکشنز کی رات سے ہی اس معاملے پر ہونے والی پریس کانفرنسز اور ٹاک شوز پر غیر اعلانیہ پابندی ہے۔

کئی سیاستدانوں نے اس رات شکوہ کیا کہ جب انہوں نے اس بارے میں بات کی تو ان کی لائیو پریس کانفرنس کو نشر کرنے سے روک دیا گیا۔

صرف سیاستدان ہی نہیں، اس شام بہت سے صحافیوں کا بھی کہنا تھا کہ انھیں اس رات الیکشنز کے لیے چلنے والی لائیو نشریات سے ہٹا دیا گیا جب انہوں نے ان انتخابات میں دھاندلی کے الزامات پر بات کرنے کی کوشش کی۔

نواز شریف کا بیانیہ

جب نواز شریف سپریم کورٹ کے ہاتھوں وزارت عظمیٰ سے محروم ہونے کے بعد براستہ جی ٹی روڈ لاھور کی جانب عازم سفر ہوئے تو اس دو روزہ سفر کے دوران انھوں نے عوامی جلسوں میں جو تقاریر کیں انہیں نواز شریف کا بیانیہ کہا جاتا ہے۔ یہ بیانیہ بنیادی طور پریہ سوال تھا کہ ’مجھے کیوں نکالا؟‘

نواز شریف اور مریم نواز
مریم نواز شریف کے سیاسی مستقبل کے بارے میں زیادہ حوصلہ افزا گفتگو کرنا آج کل پاکستانی میڈیا کی روایات کے خلاف ہے

وہ یہ سوال تو بھرے مجمعے میں کر دیتے تھے لیکن اس کا سیدھا جواب وہ نہیں دیتے تھے۔ گول مول باتیں کر کے اپنی وزارت عظمیٰ سے علیحدگی کو کبھی وہ اپنی خارجہ پالیسی اور کبھی شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کرنے کی ضرورت پر زور دینے سے جوڑ دیتے۔ جس کے بعد میڈیا پر چہ مہ گوئیاں شروع ہو جاتیں کہ نواز شریف دراصل اپنے نکالے جانے کا ذمہ دار فوج اور اس کے انٹیلی جنس اداروں کو قرار دے رہے ہیں۔

یہ ساری گفتگو نواز شریف کے اسی بیانیے کی طرف گھومنے لگی جو ظاہر ہے ’ملکی مفاد‘ کے دائرے سے باہر نکلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے لہذا پاکستانی صحافیوں کو مقامی میڈیاپر اس طرح کی بے سروپا باتوں سے پرہیز بتایا گیا ہے۔

مریم نواز کا سیاسی مستقبل

مشرقی روایات میں لڑکیوں کا نام لے کر ان کے بارے میں گفتگو کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے، چاہے وہ لڑکی محلے کی ہو یا خاندان کی۔ بالکل اسی طرح مریم نواز شریف کے سیاسی مستقبل کے بارے میں زیادہ حوصلہ افزا گفتگو کرنا آج کل پاکستانی میڈیا کی روایات کے خلاف ہے۔

اگر کوئی صحافی لکھے یا تجزیہ کار کہے کہ عدالت سے سزا یافتہ اور نااہل ہونے اور کسی بھی وقت جیل جانے کے خطرے سے دوچار ہونے کے باوجود پاکستانی سیاست کے مستقبل سے مریم نواز کو خارج نہیں کیا جا سکتا، تو یہ بات نہ ’دماغ‘ تسلیم کرتا ہے اور نہ ایڈیٹر۔

آپ سکہ بند صحافی اور تجزیہ کار اسی وقت بنیں گے اور بلاروک ٹوک اپنے مؤقف کا اظہار کر سکیں گے جب آپ اپنے صحافتی تجربے اور عالمی سیاسی نظام سے ملنے والی مثالوں سے واضح کر سکیں کہ پاکستانی سیاست میں شریفوں کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔

سینسر شپ

سینسر شپ

وہ لطیفہ تو آپ نے سن رکھا ہو گا کہ ایک گدھے کو پاکستانی پولیس تھانے میں لے گئی اور تھوڑی دیر بعد گدھا یہ کہتا باہر نکلا کہ ہاں میں ہاتھی ہوں۔ مقصد اس لطیفے کا یہ بتانا ہے کہ پاکستانی پولیس جس سے چاہے اور جو چاہے اعتراف کروانے کی ’وحشیانہ‘ صلاحیت رکھتی ہے۔

یہی حال کچھ ہمارے صحافی دوستوں اور ان کے مالکان کا ہے جو سرعام تو یہی کہتے ہیں کہ ان پر کوئی پابندی نہیں ہے لیکن سرگوشی میں آپ کو یہ بھی بتا دیتے ہیں کہ سنسر شپ کے موضوع پر بات کرنے پر بھی سنسر شپ لگی ہے۔

اس کا ذکر ہمارے دوست طلعت حسین نے اپنے کالم میں کیا جس میں انہوں نے لکھا کہ جس روز ملک بھر کے صحافیوں نے مبینہ سنسر شپ کے خلاف مظاہرے کیے، وہ خبر ہی سنسر شپ کی نظر ہو گئی۔

بشکریہ بی بی سی اُردو

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *