صبح انگریزی اور شام میں جرمن زبان بولنے کی انوکھی بیماری میں مبتلا لڑکی

بعض اوقات انسان اس طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ جسے سن کر نا صرف انسان حیران ہو جاتے ہیں بلکہ ماہرین طب بھی پریشان ہو جاتے ہیں۔

انگلینڈ کی رہائشی ہنا جینیکس ایک ایسی عجیب و غریب بیماری میں مبتلا ہے کہ جس میں وہ صبح کے وقت انگریزی اور شام میں جرمن زبان میں بات کرتی ہے۔

ہنا جینکنس کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ وہ یہ کسی مہارت کے تحت نہیں کرتی بلکہ وہ ایک بیماری میں مبتلا ہے جس میں اس کا ذہن اُسے ایسا کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

کتوں کو تربیت دینے کے پیشے سے منسلک ہنا جینکس جرمن زبان سے بخوبی واقف ہے لیکن اپنے پارٹنر اینڈریو سے اس کی بات چیت انگریزی زبان میں ہوتی تھی۔

انگلش لڑکی کی بیماری کو پہلی بار اس کے پارٹنر انڈریو نے اس وقت محسوس کیا جب امریکہ میں اسے متاثرہ لڑکی کا ایک چونکا دینے والا موبائل میسیج موصول ہوا۔

اینڈریو کے مطابق اس میسیج میں اسے انگلش کے صرف دو لفظ سمجھ میں آئے "ڈاگ اور ہاسپٹل،"باقی میسیج جرمن زبان میں تھا۔

اینڈریو کو میسیج بھیجنے سے ایک دن پہلے ہنا جینکس گھر کے قریب ایک پارک میں سائیکلنگ کرتے ہوئے حادثے کا شکار ہو کر زخمی ہوئی جس کے باعث اسے اسپتال منتقل کرنا پڑا۔

ہوش میں آنے کے بعد ہنا جینکس اپنے ارد گرد بولی والی جانے والی انگلش زبان کو سمجھنے سے قاصر رہی جس پر اسپتال انتظامیہ نے اس کی بہن مارگریٹ سے رابطہ کیا اور اسے ہنا سے بات کرنے کو کہا۔

بہن سے جرمن زبان میں بات چیت کے دوران ہنا جینکس کو اندازہ ہوا کہ ڈاکٹر اس کی بات کیوں نہیں سمجھ پا رہے تھے۔

ہنا نے بتایا کہ جرمن زبان اس کی اولین بولے جانے والی زبان ہے اور حادثے کے نتیجے میں اس کے دماغ سے انگلش زبان کی سمجھ ختم ہو گئی تھی۔

نیو رو سرجن کے مطابق ہنا جینکس کو ثانوی زبان بھولنے کا عارضہ لاحق ہے اور متاثرہ لڑکی کی واحد رابطہ کار اس کی بہن ہے۔

ہنا نے انگلش زبان دوبارہ کافی حد تک سیکھ لی ہے لیکن اب یہ اس کی دوسری زبان بن چکی ہے۔

ہنا کے مطابق دن بھر اسے انگلش زبان بولنے میں کوئی مسئلہ پیش نہیں آتا لیکن شام ہو تے ہی وہ جرمن زبان میں سوچنا شروع کر دیتی ہے۔

حادثے کے نتیجے میں ہو جانے والی معذوری نے اس کی شخصیت پر بھی اثرات مرتب کیے ہیں اور ہنا جینکس اس معذوری کے ساتھ بھی اپنی زندگی نارمل گزارنے کے لیے پُرعزم ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *