18 اکتوبر 2007 کو بینظیر کی پاکستان واپسی کی یادیں

"ریاض سہیل"

18 اکتوبر کو دبئی ایئرپورٹ سے امارات ایئرلائن کے طیارے نے جیسے ہی پرواز بھری اندر ’گو مشرف گو‘ کے اور جمہوریت کے حق میں نعرے لگنے لگے اور مسافر اپنی نشستوں پر بیٹھنے کی بجائے بزنس کلاس کی طرف چل پڑے، جہاں بینظیر بھٹو موجود تھیں۔

کپتان مسافروں کو بار بار نشستوں پر بیٹھنے کے لیے اعلانات کرتا رہا لیکن کسی پر کوئی اثر نہیں ہوا بالاخر بینظیر بھٹو نے خود مائیک پر آکر اعلان کیا کہ وہ خود آ کر مسافروں سے ان کی نشستوں پر ملاقات کریں گی۔

اکتوبر 2007 میں بینظیر بھٹو کی طویل خود ساختہ جلاوطنی کے بعد پاکستان واپسی کے دن کا یہ منظر بیرسٹر صبغت اللہ قادری نے اپنی یادداشتوں کی کتاب ’بکھری یادیں اور باتیں‘ میں قلم بند کیا ہے، یہ کتاب حال میں ہی شائع ہوئی ہے۔

بیرسٹر صبغت اللہ قادری کراچی میں ترقی پسند طلبہ تنظیم ڈیموکریٹک سٹوڈنٹس فیڈریشن سے وابستہ رہے۔ 1958 کے مارشل لا میں گرفتار اور بعد میں شہر بدر کیے گئے۔ 1960 میں وہ لندن چلے گئے، جہاں کچھ عرصہ بی بی سی سے منسلک رہے اور بعد میں وکالت کا پیشہ اختیار کر لیا۔

ترقی پسندی اور جمہوریت کی حمایت انہیں پیپلز پارٹی کے قریب لے گئی، انھوں نے لندن میں ذوالقفار علی بھٹو کی رہائی کے لیے جدوجہد کی اور ان کا شمار بینظیر بھٹو کے رفقا میں کیا جاتا ہے۔

بیرسٹر قادری لکھتے ہیں کہ دبئی سے کراچی جانے والی اس پرواز میں انہوں نے اپنی سیٹ بزنس کلاس میں ٹرانسفر کرانے کی کوشش کی تاکہ بینظیر بھٹو کے ساتھ سفر کر سکیں لیکن بدقسمتی سے بزنس کلاس میں کوئی نشست خالی نہیں تھی۔ اس جہاز میں بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں کے علاوہ مختلف ممالک سے آئے ہوئے پی پی کے کارکن بھی موجود تھے۔

وہ رقم طراز ہیں کہ ’بینظیر بھٹو بزنس کلاس سے باہر آئیں اور سب سے فرداً فرد اً جا کر ملیں۔ بزنس کلاس ختم ہوتے ہی میری دوسری نشست تھی، بی بی میری طرف آئیں اور مجھ دیکھ کر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قادری صاحب آپ ہمارے ساتھ چل رہے ہیں مجھے اچھا لگا۔‘

ان کے بقول بینظیر نے انھیں بتایا کہ کراچی پہنچنے پر وہ ایک ٹرک پر آگے جائیں گی اور انھوں نے بیرسٹر قادری کو بھی اس ٹرک پر ساتھ سوار ہونے کی دعوت دی اور ناہید خان اور خصوصا رحمان ملک سے مخاطب ہوکر کہا کہ وہ اس بات کا خیال رکھیں کہ ’قادری صاحب ہمارے ساتھ ٹرک پر سوار ہوں۔‘

صبغت قادری کی یادداشت نامے کے مطابق کراچی ایئرپورٹ پر اترنے کے بعد رحمان ملک نے بی بی کی ہدایت کے باوجود انھیں یہ نہیں بتایا کہ ٹرک کہاں کھڑا ہو گا اور وہاں کیسے پہنچنا ہے؟ انھوں نے اپنے دوست کو فون کیا اور پچھلے راستے سے قصرِ ناز پہنچ گئے اور وہاں سے ایک دوست ثاقب سومرو کے گھر چلے گئے۔

بیرسٹر قادری لکھتے ہیں کہ ان کی چھٹی حس انھیں کسی انھونی کے ہونے کا احساس دلا رہی تھی۔ ’میرے خدشات کی کچھ وجوہات تھیں جنرل پرویز مشرف نے قومی مفاہمتی آرڈیننس پر دستخط کر دیے تھے، آصف زرداری کو بھی رہا کر دیا مگر وہ بینظیر کو پاکستان میں دیکھنا نہیں چاہتے تھے۔‘

بینظیر بھٹو کا قافلہ جیسے ہی شاہراہِ فیصل پر کارساز کے قریب پہنچا تو ان کے ٹرک کے قریب زوردار دھماکہ ہوا۔ اس رات ہونے والے دو دھماکوں میں 150 سے زیادہ افراد ہلاک اور 300 کے قریب زخمی ہوئے تھے۔

بینظیر بھٹو
بینظیر بھٹو کا قافلہ جیسے ہی شاہراہِ فیصل پر کارساز کے قریب پہنچا تو ان کے ٹرک کے قریب زوردار دھماکہ ہوا تھا

بیرسٹر قادری کے مطابق انھیں محترمہ کی خیریت معلوم نہیں ہو رہی تھی اور بعد میں علم ہوا کہ وہ بلاول ہاؤس پہنچ گئی ہیں۔

دبئی سے پاکستان واپسی کے اس سفر میں بینظیر کے ہمراہ ان کے شوہر آصف زرداری نہیں تھے۔ اس بارے میں بیرسٹر صبغت اللہ قادری لکھتے ہیں کہ ’گڑھی خدا بخش جاتے ہوئے بینظیر بھٹو نے کہا کہ قادری صاحب آپ کو وہ آرٹیکل یاد ہے جو میرے اور آصف کے بارے میں لکھا گیا تھا۔ میں نے انھیں یاد دلایا کہ وہ آرٹیکل تو آپ کی دوست نے لکھا تھا۔

’بی بی نے کہا کہ ایسے لوگ کسی کے دوست نہیں ہوتے‘۔ اس مضمون میں بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری میں علیحدگی کی بات کہی گئی تھی۔

بیرسٹر قادری کے مطابق بینظیر کا کہنا تھا کہ ’آصف میرے ساتھ واپس نہیں آئے۔ اس کی وجہ بچوں کی دیکھ بھال ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ والدین میں سے کسی ایک کو ان کے ساتھ ہونا ضروری ہے۔ آصف جیل میں تھے تو میں بچوں کی دیکھ بھال کر رہی تھی۔

’میرا پاکستان آنا ضروری تھا اس لیے میں نے فیصلہ کیا کہ آصف بچوں کی دیکھ بھال کریں۔ میں نے آپ سے یہ بات اس لیے کی ہے کہ کل پھر لوگ اس طرح کی افواہیں پھیلائیں گے کہ ہمارے درمیان اختلافات ہیں۔‘

انہوں نے اپنی اس کتاب میں بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے حوالے سے کچھ سوالات بھی اٹھائے ہیں۔ وہ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی طرح بینظیر بھٹو کی ہلاکت کو بھی مقامی اور بین الاقوامی گٹھ جوڑ کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ بقول ان کے بینظیر بھٹو نے ملکی اور غیر ملکی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ سمجھوتے کیے۔ ’امریکہ کا جو یار ہے، وہ غدار ہے‘ جیسے نعروں کی حوصلہ شکنی کی اس کے باجود ملکی اور غیر ملکی قوتوں نے انھیں قبول نہیں کیا۔

وہ لکھتے ہیں کہ ’بی بی اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لائیں۔ فوج کو جمہوریت کا تحفہ پیش کیا، اس کے باوجود انھیں بحیثیت وزیراعظم قبول نہیں کیا گیا۔ ان کے دور میں مرتضیٰ بھٹو کو شہید کیا گیا۔ بینظیر نے انہیں آنے سے روکا تھا، وہ جانتی تھیں کہ اسٹیبلشمنٹ کے لیے وہ ناپسندیدہ شخص ہیں اور پھر بالاخر بینظیر کو بھی اسی جگہ شہید کر دیا گیا جہاں پاکستان کے پہلے وزیراعظم کو شہید کیا گیا تھا۔‘

وہ بینظیر کی ہلاکت کے دن کے بارے میں کہتے ہیں کہ ’رحمان ملک جو محافظ تھے وہ جائے وقوع سے فوری چلے گئے۔ انہوں نے یہ معلوم کرنے کی کوشش نہیں کی کہ بی بی خیریت سے ہیں؟ اگر زخمی ہیں تو انھیں ہسپتال لے جانے کا انتظام کیا گیا ہے؟ وہ بینظیر کو زخمی حالت میں چھوڑ کر زرداری ہاؤس پہنچ گئے۔ ان کے علاوہ بابر اعوان اور فرحت اللہ بابر بھی زرداری ہاؤس چلے گئے تھے۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *