کیا آپ مناسب مقدار میں وٹامن ڈی لے رہے ہیں؟ اگر نہیں تو مشکل میں پڑ سکتے ہیں۔۔۔

پاکستان سمیت دنیا کے متعدد ممالک میں لوگوں کو وٹامن ڈی کی کمی کا سامنا ہے لیکن نصف کرہ شمالی میں سورج کی روشنی کی کم مقدار کی وجہ سے یہ مسئلہ بڑھ رہا ہے جس کی وجہ سے بہت سے لوگ سپلیمنٹس استعمال کرتے ہیں۔

وٹامن ڈی 2 اور ڈی 3 کے سپلیمنٹس دوائیوں کے سٹورز کے کاؤنٹر پر نظر آتے ہیں اور ان کے حصول کے لیے ڈاکٹر کے نسخے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ یہ قوت مدافعت بڑھانے، اعصابی کمزوری کے خاتمے، اعصاب کی مضبوطی، ہڈیوں کے درد اور ڈپریشن کے خاتمے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ انھیں کینسر کے خاتمے اور بڑھاپے سے بچاؤ کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

مارکیٹ کا جائزہ لینے والی ایک کمپنی منٹل کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں ہر تیسرا نوجوان جو سپلیمنٹ لیتا ہے اس میں وٹامن ڈی بھی شامل ہے۔

لیکن اس پر ابھی تنازع ہے کہ کیا تمام نوجوانوں کو وٹامن ڈی کا سپلیمنٹ لینا ضروری ہے۔

کچھ کا کہنا ہے کہ وٹامن ڈی ہماری صحت میں اہم کردار ادا کرتا ہے یہ ہمارے جسم میں کیلشیم اور فاسفیٹ کی مقدار کو برقرار رکھتا ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق برطانیہ میں 20 فیصد آبادی کو وٹامن ڈی کی کمی کا سامنا ہے۔

لیکن کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ جو لوگ صحت مند ہوں انھیں وٹامن ڈی کا سپلیمنٹ لینا ضروری نہیں۔

لیکن پھر حقیقت کیا ہے؟

نام کے باوجود وٹامن ڈی وٹامن نہیں ہے۔ اس کے بجائے اصل میں یہ ہارمون ہے جو کہ جسم میں کیلشیم کو جذب کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے۔ اس میں چیلنج یہ ہے کہ بہت کم غذائیں ایسی ہوتی ہیں جن میں یہ موجود ہوتا ہے جیسا کہ آئلی فش۔ لیکن یہ بھی ہے کہ جسم میں عام طور پر وٹامن ڈی اس وقت بنتا ہے جب جلد پر سورج کی روشنی پڑتی ہے۔

وٹامن

وٹامن ڈی کی دو اقسام ہیں۔ وٹامن ڈی 3 جو کہ جانوروں سے حاصل ہونے والی خوراک میں پائی جاتی ہے۔ اس میں مچھلی شامل ہے۔

دوسری وٹامن ڈی ٹو ہے جو کہ پودوں سے حاصل ہونے والی خوراک میں شامل ہیں۔ اس میں مشرومز بھی شامل ہیں۔

تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ ڈی 3 زیادہ موثر ہے اور سنہ 2012 میں کیے جانے والی ایک تجزیے میں یہ کہا گیا تھا کہ ڈی 3زیادہ بہتر سپلیمنٹ ہے۔

برطانیہ میں پبلک ہیلتھ انگلینڈ نے ہر بالغ کو تجویز کیا ہے کہ وہ موسم سرما اور خزاں میں دس مائیکروگرام سپلمنٹ لیں۔ یہ وہ موسم ہوتے ہیں جب سورج کی کرنیں زمین پر مکمل طور پر نہی آ پاتی ہیں۔

اس کے لیے حکومتی ادارے نے ہر رنگ کے افراد سے کہا ہے کہ اگر وہ وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہیں تو وہ پورا سال یہ سپلیمنٹ استعمال کریں۔ کچھ دوسرے ممالک بھی ان ہی اصولوں پر عمل پیرا ہیں۔

کینیڈا میں بالغوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ ہر روز 15 مائیکرو گرام وٹامن ڈی استعمال کریں یا پھر وٹامن ڈی سے بھرپور دودھ یا پھر سویابین کا استعمال کریں۔

امریکہ میں بھی اسی طرح ناشتے میں استعمال ہونے والے دودھ، مکھن، دہی اور مالٹے کے جوس میں یہ وٹامن موجود ہوتا ہے۔

ان ممالک میں یہ کوششیں بچوں میں ہڈیوں کے امراض س بچانے کے لیے 20 ویں صدی میں شروع کی گئیں۔

ہمیں معلوم ہے کہ وٹامن ڈی کی کمی کی وجہ سے اعصابی کمزوری بھی ہوتی ہے اور انسان تھکاوٹ کا شکار بھی رہنے لگتا ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ تھکاٹ کی شکایت زیادہ کرتے ہیں ان میں وٹامن ڈی کی کمی پائی گئی لیکن پھر جب انھوں نے پانچ ہفتے تک وٹامن ڈی کا استعمال کیا تو علامات پر کنٹرول نظر آیا۔

وٹامن ڈی

اسی طرح نیو کاسل یونیورسٹی میں کی جانے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ وٹامن ڈی کی کمی سے تھکاوٹ ہو سکتی ہے اور انسانی جسم کے خلیوں میں طاقت کے مرکز مائیٹو کانڈریہ پر اثر پڑتا ہے۔

اسی طرح کینسر کے مریضوں میں وٹامن ڈی مدافعتی نظام کو بہتر کرتا ہے اور بیکٹیریا کو ختم کرتا ہے۔

ٹوٹی ہوئی ہڈیاں

وٹامن ڈی 

وٹامن ڈی سپلیمنٹس کے استعمال کی ایک وجہ ہڈیوں کے بڑھنے اور صحت برقرار رکھنا ہے۔

کتنی وٹامن ڈی چاہیے اس حوالے سے تحقیق کے بعد مرتب کیے گئے حالیہ رہنما اصولوں کے نتیجے میں بنائی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ عمر رسیدہ افراد جو کہ سورج کی روشنی میں زیادہ نہیں جاتے اور انھیں فریکچر اور ہڈیوں کے ٹوٹنے کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔

لیکن ٹم سپیکٹر جو کہ کنگز کالج لندن میں پروفیسر ہیں کا خیال ہے کہ یہ تحقیقات شاید ٹھیک نہیں ہیں۔

یہ درست ہے کہ ابھی کوئی شواہد واضح نہیں۔ رواں سال اگست میں ایک تجزیے سے پتہ چلا ہے کہ وٹامن ڈی کا لیول بڑھا دیں تو صحت مند لوگوں میں ہڈیوں کے فریکچر کا خطرہ کم ہوا جبکہ 81 کیسز کے تجزیے میں یہ سامنے آیا کہ سپلیمنٹس نے اس صورتحال سے بچنے میں کوئی مدد نہیں کی۔

لیکن نرس سارہ لیلینڈ کہتی ہیں وٹامن ڈی کے سپلیمنٹس اس گروپ کے لیے بہہت فائدہ مند ہے جن کو سورج کی روشنی بالکل نہیں ملتی۔

تعلق یا رابطہ؟

وٹامن ڈی 

ان تمام تحقیقات میں ایک مسئلہ ہے جو وٹامن ڈی کے کم لیول کو بیماری سے جوڑتی ہیں۔

یونیورسٹی آف آکلینڈ میں پروفیسر ائین ریڈ کہتے ہیں کہ بیماریوں سے وٹامن ڈی لیول کم ہو جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بیمار لوگ کم وقت سورج کے نیچے گزارتے ہیں۔ 'اگر آپ کسی بھی بیماری کے مریضوں کو لیں گے تو ان میں وٹامن ڈی لیول ایک صحت مند انسان کی نسبت کم ہو گا۔ اس سے یہ مفروضہ بنتا ہے کہ وٹامن ڈی کی کمی سے مرض بنتا ہے۔ لیکن اس کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔'

وٹامن ڈی

اسی طرح تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ وٹامن ڈی کی مقدار اگر زیادہ ہو تو اس سے آنت کے کینسر کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وٹامن ڈی کیلشیم کی مقدار کو ممعول پر رکھنے میں بھی مدد گار ہے یہ خطرناک سیلز کی پیداوار کو سست کر دیتا ہے۔

دیگر تحقیقات میں یہ پتہ چلا کہ وٹامن ڈی کا جگر کے کینسر، مثانے کے کینسر اور چھاتی کے کینسر سے تعلق ہوتا ہے۔

اس میں یہ کہا گیا کہ وٹامن ڈی کا کم ہونا کینسر کے خلیوں کو پھیلانے میں کردار دار کرتا ہے مگر حالیہ تحقیقات میں یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ سپلیمنٹس کینسر کے خطرے کو کم کرتے ہیں۔

ڈی فار ڈپریشن یعنی وٹامن ڈی کی کمی سے اعصابی تناؤ

وٹامن ڈیتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES

اگرچہ یہ بات تو بہت عرصہ پہلے ہی جانی جا چکی ہے کہ ہمارے رویے پر سورج کی روشنی کا اثر ہوتا ہے یعنی طویل عرصے تک اس کے بغیر رہنا آپ کو اداس کرسکتا ہے لیکن اس کا وٹامن ڈی سے کیا تعلق ہے ابھی اس بارے میں کچھ بھی نہیں کہا گیا۔

کچھ شوہد سے یہ تجویز کیا گیا کہ شاید وٹامن ڈی کے لیول کا سیروٹونن جو کہ ہمارے رویے سے منسلک ہوتا ہے اور میلیٹونن جو کہ ہماری نیند سے تعلق رکھتا ہے میں کچھ تعلق ہوتا ہے۔ ان دونوں ہارمونز کی کمی ہمارے مزاج کو اداس کر دیتی ہے۔

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ وٹامن ڈی ہماری ذہنی صحت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ڈپریشن سے شیزوفینیا تک اور دماغ بننے کے عمل میں۔ لیکن اس کا کردار ہوتا کیا ہے یہ ابھی واضع نہیں ہے۔

مختلف تحقیقاتی طریقوں پر مشتمل تجزیہ جسے رواں برس کے آغاز میں شائع کیا گیا میں کہا گیا کہ وٹامن ڈی کے کم لیول اور ڈپریشن میں تعلق ہے لیکن اس کے لیے ضروری نہیں کہ وٹامن ڈی کی کمی سے ڈپریشن ہو جائے۔

لیکن پھر بھی یہ ہو سکتا ہے کہ ڈپریشن کا شکار لوگ سورج کی روشنی میں کم جائیں۔

کچھ سائنس دان کہتے ہیں کہ وٹامن ڈی کے سپلیمنٹس لینا پراثر نہیں ان کے خیال میں سورج کی روشنی میں براہ راست جانا زیاد فائدہ مند ہے جس کے نتیجے میں جسم میں وٹامن ڈی بن جاتی ہے۔ اس حوالے سے مزید تحقیقات ابھی جاری ہیں۔

اگرچہ کچھ محققین کا ماننا ہے کہ وٹامن ڈی کے کم لیول کے حامل افراد کو سپلیمنٹس سے فائدہ ہوا جیسا کہ سانس کے انفیکشن سے وہ بچ گئے لیکن کچھ ماہرین سمجھتے ہیں کہ اگر یہ لیول انتہائی درجے کی کمی کا شکار ہو جائے تو پھر سپلیمنٹس بھی کچھ فائدہ نہیں دیتے۔

مسئلہ یہ ہے کہ اس بارے میں اندازہ لگانا مشکل ہے کہ کون وٹامن ڈی کی شدید کمی کا شکار ہے۔ یونیورسٹی آف واروک میں روبرٹا بیونز کہتے ہیں کہ کوئی شخص کتنی وٹامن ڈی سٹور کرتا ہے اور اسے کتنی موسم سرما میں چاہیے ہوتی ہے اس کا انحصار کسی کی جلد کی قسم یا اس نے کتنا وقت باہر گزارا اس پر نہیں ہوتا۔

'یہ بہت انفرادی ہے کہ کسی شخص کو موسم گرما میں کتنی دیر سورج کی ضرورت ہے۔ جلد کے رنگ، اس میں چربی کی مقدار اور وہ کتنی تیزی سے ہڈی بناتی ہے یہ سب بہت پیچیدہ ہے۔'

اس لیے علامات ہی وٹامن ڈی کو جانچنے کا ذریعہ نہیں بلکہ اس کے لیے بلڈ ٹیسٹ کروانا چاہیے۔

پھر یہ بھی سوال اٹھتا ہے کہ سپلمنٹس کا کتنا لیول ہونا چاہیے۔ رائیڈ کہتے ہیں کہ اس میں کچھ مسئلہ نہیں کہ اگر آپ 25 مائیکروگرام تک ہر روز وٹامن ڈی لے لیں۔

لیکن اگر کسی دوائی کے سٹور سے آپ 62 اعشاریہ پانچ مائیکروگرام تک زیادہ مقدار میں سپلیمنٹس لیتے ہیں تو کچھ خاص کیسز میں اس سے متلی ہو سکتی ہے۔

کچھ تحقیقات جو کہ قطعی نوعیت کی نہیں ہیں میں سامنے آیا ہے کہ بہت زیادہ وٹامن ڈی لینے سے دل کے امراض ہو سکتے ہیں۔

لیکن کچھ میں یہ وضاحت پیش کی جاتی ہے کہ اس سے بھی زیادہ وٹامن ڈی کی ضرورت ہوتی ہے۔

سنہ 2012 میں لندن میں میڈیکل چیف افسر سیلی ڈیویز نے متعلقہ حکام کو ایک خط ارسال کیا اور ان پر زور دیا کہ وہ تمام گروپس کو جن میں وٹامن ڈی کی کمی کا خطرہ ہو کے لیے سپلیمنٹس کی مناسب مقدار تجویز کریں۔

جون 2018 میں برمنگھم یونیورسٹی میں ریسرچ کے ادارے نے ایک بچے کی موت پر یہ خط لکھا کہ اس موت کی وجہ دل کا فیل ہونا تھا جو کہ وٹامن ڈی کی شدید کمی کی وجہ سے ہوا۔ یہ بھی بتایا گیا کہ دو اور بچے بھی اسی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔

ریسرچ سے منسلک صوما ادھے کا کہنا ہے کہ کہ یہ کمی اس لیے دیکھنے میں آتی ہے کیونکہ برطانیہ میں بچوں کے لیے وٹامن ڈی کے سپلیمنٹس کے حوالے سے کوئی بہتر نگرانی کا عمل نہیں۔

لیکن طبی ماہرین وٹامن ڈی کے سپلیمنٹس کے استعمال کے معاملے پر منقسم ہیں۔ کچھ کہتے ہیں کہ لاکھوں ڈالر کی وٹامن انڈسٹری کے اپنے مفادات ہیں۔

ابھی یہ بحث جاری ہے اور برمنگھم اور ویمن ہسپتال کے ریسرچرز کی تحقیق کے نتائج کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

امید ہے کہ یہ نتائج رواں برس کے آخر میں سامنے آ جائیں گے۔ ان میں یہ دیکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ کیا وٹامن ڈی اور اومیگا تھری کا کینسر، سٹروک اور دل کے مرض پر کوئی اثر ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں 25000 بالغوں کو تحقیق میں شامل کیا گیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *