دو ہزار ایک سو اکانوے دن

ایک برس اور گزرا اور چھ برس مکمل ہو گئے۔ چھ برس اتنے طویل ہو سکتے ہیں اس کا اندازہ اب جا کرہو رہا ہے۔ سنتے تھے کہ دن تو یوں چٹکی بجاتے گزر جاتا ہے لیکن یہ والے دو ہزار ایک سو اکانوے دن تو ایسے گزرے کہ غالب کا مصرعہ یاد آ گیا۔ع
صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا
ان چھ سالوں میں کوئی دن ایسا نہیں گزرا کہ اسے یاد نہ کیا ہو لیکن شاید ہی کوئی ایسا دن ہو کہ اس کا ذکر کیا ہو۔ گھر میں کوئی اس کا ذکر نہیں کرتا۔ نہ میں اور نہ بچے۔ بچوں کا تو مجھے پتا نہیں کہ وہ اپنی ماں کا ذکر کیوں نہیں کرتے لیکن مجھے خود اندازہ نہیں کہ میں اس کا ذکر کیوں نہیں کرتا۔ ایک دو بار بچوں کی ملاقات ان کی ماں کی کسی سہیلی سے ہوئی۔ ظاہر ہے پھر تذکرہ تو اسی کا ہونا تھا۔ بچوں نے ماں کی کسی سہیلی (ایمانداری کی بات ہے کہ اس ''سہیلی‘‘ کا کوئی متبادل لفظ وہ حق ادا کر ہی نہیں سکتا جو یہ متروک ہوتا ہوا لفظ ادا کرتا ہے) سے بھی ملنا چھوڑ دیا کہ وہ ''ماما‘‘ کے متعلق بہت سوال کرتی ہیں اور بہت باتیں کرتی ہیں۔ مہینوں بعد کبھی ایسا ہوا کہ کسی بچے نے کہہ دیا کہ ماما یوں کہتی تھیں یا کبھی میں نے کہہ دیا کہ تمہاری ماں ہوتی تو یوں کرتی۔ بس! کبھی ایسا نہیں کہ دوسرا جملہ کسی طرف سے آیا ہو۔
گھر آہستہ آہستہ خالی ہوا ہے۔ پہلے وہ شہر خموشاں چلی گئی۔ پھر کومل امریکہ کو سدھاری۔ سارہ آسٹریلیا کو روانہ ہوئی۔ اسد اسلام آباد میں ہے۔ گھر میں صرف انعم ہے‘ میں ہوں اور ملازم۔ بچوں کا یوں جانا ایک قدرتی امر ہے اور اس سے نہ تو مُفر ممکن ہے اور نہ ہی بچنا۔ لیکن جس کے دم سے رونق ہو اور وہی نہ ہو تو گھر کہیں زیادہ سونا سونا ہو جاتا ہے اور ہمارے گھر کا یہی حال ہے۔ گھر میں اب ہنسی کی آواز غنیمت ہے اور تب سنائی دیتی ہے جب تینوں بیٹیاں اکٹھی ہوتی ہیں۔ پہلے یہ چاروں مل کر ہنستی تھی۔ شروع شروع میں وہ اکیلی ہی تھی جس نے اس گھر میں ہنسی کی ''پنیری‘‘ لگائی۔ بالکل بلاوجہ ہنسنے کی۔ پہلے پہل میں اس بلاوجہ کی اور بے تحاشا ہنسی پر بڑا تنگ پڑا۔ بھلا یہ کیا ہوا؟ بلاوجہ‘ بلا کسی جواز کے ہنسنا۔ اور ہنسنا بھی ایسا کہ باقاعدہ الجھن ہونے لگ جائے۔ وہ میرے تاؤ کھانے اور ناراض ہونے پر بھی ہنستی اور کہتی ''آپ شیشے میں جا کر دیکھیں۔ غصے میں کتنے مزاحیہ لگ رہے ہیں۔ ایمان سے آپ کو غصے میں دیکھ کر اور ہنسی آتی ہے‘‘ یہ کہہ کر وہ پھر ہنسنا شروع کر دیتی۔ تب میرا خیال تھا کہ اب عادتیں تبدیل نہیں ہو سکتیں۔ یہ خیال برسوں بعد خام ثابت ہوا۔ میں بہت تبدیل ہو چکا ہوں مگر بعض اوقات لگتا ہے کہ یہ سب کچھ بالکل بیکار اور فضول ہے کہ جب اس کی ضرورت تھی تب تو میں کسی اور گمان میں تھا۔ بھلا اب اس سب کچھ بدل جانے کا فائدہ؟۔
قریب دس ماہ بعد سب بچے اکٹھے ہوئے۔ اس سال کے شروع میں سب استنبول اکٹھے ہوئے تھے اور اب اسلام آباد میں۔ وہاں سے بھوربن چلے گئے۔ رات گئے بیٹیوں کے کمرے سے اسی قسم کی ہنسی کی آواز آتی تھی جو اب عنقا ہو چکی ہے۔ کومل تو اس کے چلے جانے کے بیس روز بعد اپنے گھر چلی گئی۔ گھر کو سارہ نے سنبھال لیا اور ایسا سنبھالاکہ حیرت ہوتی ہے۔ پھر وہ اپنے گھر کی ہوئی مگر اس نے زیادہ وقت اسد اور انعم کی دیکھ بھال میں ہی گزارا۔ وہ آسٹریلیا چلی گئی پھر سارا انتظام انعم نے سنبھال لیا۔ اسد کا تو ایسا دھیان رکھا کہ اسے کسی کام کرنے کے قابل نہ چھوڑا۔ مہمان داری اور گھر کی صفائی۔ یہ دو ایسی چیزیں تھیں جو میری اہلیہ کی یوں سمجھیں کمزوری تھیں۔ گھر ہمہ وقت صاف۔ کوئی استعمال کرے یا نہ کرے۔ بستر کی چادریں تیسرے چوتھے دن بدل دی جاتیں۔ گھر کا اوپر والا پورشن صرف مہمانوں کی آمد پر استعمال ہوتا مگر جب بھی مہمان آئے ایسا نہ ہوا کہ خصوصی صفائی نہ کروائی جاتی۔ یہی حال ڈرائنگ روم کا تھا۔ ہمہ وقت صاف۔ صفائی کا اتنا خیال بلکہ خبط کہ جاتے ہوئے جو اڑھائی صفحات لکھ کر گئی اس کی آخری دو سطریں صرف گھر کی صفائی بارے تھیں۔ صفائی بھی قریب ویسی ہی ہے جیسی وہ چاہتی تھی اور مہمانداری بھی اس کے قریب قریب جیسی اس کے زمانے میں تھی مگر گھر ویسا نہیں۔ بلکہ بالکل بھی ویسا نہیں۔
مجھے اور سفر کو لازم و ملزوم ہی سمجھیں۔ پہلے نوکری ایسی تھی کہ مسلسل سفر رہتا تھا۔ اوپر سے مشاعرے اور جب یہ دونوں یعنی نوکری اور مشاعروں کا سفر نہ ہوتا تب آوارہ گردی والا سفر آن پڑتا۔ نوکری چھوڑنے کے بعد تو ایسا ہوا کہ برطانیہ میں ڈیڑھ ڈیڑھ دو ماہ کا قیام ہوتا۔ بارہا اسے کہا کہ وہ بھی میرے ساتھ چلے مگر خدا جانے اس کے دل میں کیا تھا کبھی جانے پر راضی نہ ہوئی۔ حالانکہ سفر کی ایسی شوقین تھی کہ مجھ سے بھی دو قدم آگے مگر برطانیہ جانے پر تب بھی راضی نہ ہوئی جب اس کی بڑی بہن وہاں تھی۔ برسوں بعد ایک دن ہنس کر کہنے لگی اگر ''وہاں والی‘‘ سے کوئی لڑکا اسد کی عمر کا ہے تو اسے یہاں لے آئیں دونوں کی کمپنی رہے گی۔ یہ کہہ کر اتنے زور سے ہنسی کہ پہلے اس کی آنکھوں میں پانی آیا اور پھر کھانسی۔ بعد میں بھی وہ کئی بار مجھے اس بات پر چھیڑتی رہی۔ کہتی تھی کہ باہر کا سفر سب سے پہلے حج کا کروں گی اور پھر کہیں اور جاؤں گی۔ 2010ء میں ا س کی خواہش پوری ہو گئی لیکن اس کے بعد طبیعت ایسی بگڑی کہ اس نے سفر سے انکار کر دیا۔ کہنے لگی میں سفر کے دوران کوئی مصیبت نہیں کھڑی کرنا چاہتی۔
سترہ اکتوبر کو میری امریکہ روانگی تھی۔ سولہ اکتوبر کو میں باورچی خانے میں گیا اور ناشتہ بنانے کی کوشش کی۔ وہ باورچی خانے میں آ گئی اور کہنے لگی یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: ناشتہ بنانے لگا ہوں۔ کہنے لگی: آپ کو یہ کام اب آئندہ ساری زندگی کرنا ہوگا‘ لیکن جب تک میں ہوں تب تک تو ایسا ممکن نہیں کہ آپ ناشتہ خود بنائیں۔ یہ کہہ کر وہ پراٹھا بنانے لگ گئی۔ میں نے کہا پراٹھا میں نے چھوڑ دیا ہے۔ ہنستے ہوئے کہنے لگی میرے ہاتھ کا پراٹھا آخری بار کھا لیں۔ شایدپھر یہ کبھی نصیب نہیں ہوگا۔ میں نے کہا: ایسی باتیں نہ کرو۔ امریکہ سے واپس آ کر میں نے آلو کا پراٹھا کھانا ہے تمہارے ہاتھ کا۔ کہنے لگی آپ کی امی نے مجھے آلو والا پراٹھا بنانا سکھا دیا تھا اب میں کس کو سکھاؤں؟ مجھے پتہ ہے یہ آپ کی کمزوری ہے‘ مگر میرے بعد آپ کی امی جیسا آلو والاپراٹھا اب اس گھر میں اور کوئی نہیں بنائے گا۔ سترہ اکتوبر کو اس کی طبیعت ایکدم سے خراب ہو گئی۔ دوپہر کو اسے ہسپتال لے گئے اور چار دن بعد آج کے دن یعنی اکیس اکتوبر کو اسے واپس گھر لے آئے۔ ہسپتال میں گزرے چار دن کے دوران کبھی ایک لمحے کے لیے بھی یہ خیال نہ آیا کہ وقت ہمارے ہاتھ سے چھوٹ رہا ہے۔
اکیس اکتوبر کی دوپہر خدا جانے اس کے دل میں کیا آئی کہ کہنے لگی میں نے آپ سے ایک بات کرنی ہے۔ میں نے کہا کیا بات ہے؟ ساتھ بیٹھی ہوئی ایک قریبی عزیزہ کی طرف دیکھ کر کہنے لگی۔ پھر کر لوں گی۔ آپ سے علیحدگی میں بات کرنی ہے۔ اس کے بعد تو کمرے میں ایسا آنا جانا لگا کہ اکیلے میں بات کرنے کی نوبت ہی نہ آئی۔ چھ سال سے دل میں ملال ہے کہ اس وقت بات کر لیتا۔ خدا جانے کیا بات تھی جو اس کے دل میں رہ گئی؟ ڈاکٹر پاشا اور کومل کو شاید اندازہ تھا کہ صورتحال بہت خراب ہے مگر مجھے اس کا رتی برابر بھی اندازہ نہ تھا۔ میں سدا سے رجائی آدمی۔بری صورتحال کا اندازہ ہی نہ کر سکا۔ پاشا نے کہا کیا ایسا ممکن ہے کہ کومل کا نکاح آج شام ہسپتال میں ہی کر دیں میں نے حیرانی سے پوچھا کیا فرزانہ کی طبیعت اتنی ہی خراب ہے؟ پاشا نے میری طرف دیکھا اور بات بدل دی۔ کہنے لگا نہیں ایسی کوئی بات نہیں۔ بس میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ بھابھی خوش ہو جائیں گی۔ میں نے کہا وہ اس سے مطلب نہ نکال لے کہ صورتحال بہت خراب ہے۔ ڈاکٹر ہارون پاشا نے سر ہلایا اور کہنے لگا تم ٹھیک کہتے ہو۔ پاشا میرا دل رکھ رہا تھا۔ کاش وہ ہمت کرتا اور مجھے سچ بتا دیتا۔ یہی حال کومل کا تھا۔ وہ ڈاکٹر تھی۔ اسے اندازہ تھا مگر وہ بھی کچھ بتانے پر تیار نہ تھی۔ اس دن کسی نے بھی مجھے ٹھیک سے کچھ نہ بتایا۔ نہ خود اس نے‘ نہ ڈاکٹر پاشا اور نہ ہی کومل نے۔
اب گزشتہ چھ سال سے ناشتہ خود بناتا ہوں۔ بلکہ ناشتہ بھی کیا؟ روٹین کی دو چیزیں۔ گرمیوں میں لسی اور سردیوں میں کشمیری چائے کے ساتھ گوالمنڈی کی آدھی باقر خانی۔ اور کچھ بنانا ہی نہیں آتا۔ وہ سکھا کر ہی نہیں گئی؛ حالانکہ کم از کم اسے تو پتا تھا کہ باقی زندگی میں نے اپنا ناشتہ خود بنانا ہے‘ وہ یہ کام تو کر سکتی تھی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *