محبت کرنے والے ذرا قریب آ جائیں!

اشرف ایک ٹی وی چینل میں کیمرہ مین ہے‘ تعلیم میٹرک اور شکل و صورت مناسب ہے‘ دو سال پہلے اِسے ایک لڑکی سے محبت ہو گئی تھی‘ ویسے تو اسے ہر راہ چلتی لڑکی سے محبت ہو جاتی ہے لیکن اُس لڑکی سے شائد واقعی محبت ہو گئی تھی‘ یہ ہر ریکارڈنگ پر مجھے اُس کے قصے سناتا تھا‘ اِس نے اپنی محبت کا نِک نیم ''پارو‘‘ رکھا ہوا تھا۔ پارو بھی اشرف کی طرح ''اعلیٰ تعلیم یافتہ‘‘ تھی‘ ماڈلنگ کا شوق تھا‘ ایک دن اشرف سے ملاقات ہو گئی اور پہلی ملاقات ہی محبت میں بدل گئی۔ اشرف نے مجھے ایک دن اُس کی تصویر بھی دکھائی جس میں اُس کی پارو‘ سبز رنگ کی لپ اسٹک لگائے اپنے گھر کی فریج پہ ہاتھ رکھے بڑے فخر سے کھڑی تھی۔ اُس نے مجھے پارو کا ایک ایس ایم ایس بھی پڑھایا۔ پارو نے اشرف کو اپنا ذاتی شعر بھیجا تھا ''کمرے میں کھڑکی ‘ کھڑکی میں پٹھان... میرا اشرف میری جان‘‘۔
دونوں ایک دوسرے سے بہت پیار کرتے تھے لیکن دونوں کے گھر والے اس شادی کے خلاف تھے۔ ایک دن اشرف نے مجھے بتایا کہ وہ اور پارو کورٹ میرج کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ میں بوکھلا گیا اور بڑا سمجھایا کہ یہ کام مت کرو‘ گھر والوں کو راضی کرنے کی کوشش کرو ورنہ گھر والے اس شادی کو قبول نہیں کریں گے ‘ معاملہ بگڑ جائے گا۔ اشرف نے اطمینان سے کہا کہ ''گھر والے راضی نہ بھی ہوں پھر بھی کوئی مسئلہ نہیں ہو گا کیونکہ میں نے اور پارو نے طے کر لیا ہے کہ ہم کرائے پر گھر لے کر علیحدہ رہیں گے۔‘‘ میں نے حیرت سے پوچھا ''کتنی تنخواہ ہے تمہاری؟‘‘ آرام سے بولا ''ساڑھے بارہ ہزار‘‘۔ میں نے گھور کر اُسے دیکھا ''تو تمہارا کیا خیال ہے ساڑھے بارہ ہزار میں گھر کا کرایہ‘ بجلی کا بل‘ گیس کا بل‘ پانی کا بل اور دیگر ضروریات پوری کر لو گے؟‘‘ اشرف نے طنزیہ لہجے میں میری طرف دیکھا ''سر جی! لگتا ہے آپ محبت کی طاقت کو نہیں جانتے‘ روپیہ پیسہ ہاتھ کا میل ہوتا ہے‘ پارو کہتی ہے کہ مجھے کچھ نہیں چاہیے‘ اُسے صرف میرا پیار چاہیے‘‘۔ میں نے ایک گہری سانس بھری اور کچھ بولنے ہی لگا تھا کہ اشرف جلدی سے پھر بول پڑا ''سر جی! آپ دیکھئے گا‘ ہم سپنوں کا ایسا محل بنائیں گے کہ آپ بھی عش عش کر اٹھیں گے‘ پارو کی خوبصورت شکل دیکھتا ہوں تو مجھ میں زندگی آ جاتی ہے‘ اُس کی محبت نے مجھے بہت طاقتور بنا دیا ہے‘ اب میں ساری دنیا سے لڑ کر اپنا حق لے سکتا ہوں‘‘۔ میں نے احتیاطاً پوچھا ''تم نے بتایا تھا کہ تمہیں تین ماہ سے تنخواہ نہیں ملی‘ تو کیا تم نے چینل کے مالک سے بات کی؟‘‘ ۔ سہم کر بولا ''نہیں سر! وہ تو ہر وقت غصے میں ہوتے ہیں‘ خواہ مخواہ نوکری سے ہی نہ نکال دیں...‘‘۔
پھر اشرف اور پارو کی کورٹ میرج ہو گئی اور دونوں ایک کمرے کے کرائے کے فلیٹ میں رہنے لگے۔ شادی کو چھ ماہ ہی گزرے تھے کہ ایک دن پتا چلا کہ پارو اور اشرف کی بھیانک لڑائی ہوئی ہے اور پارو اپنے ماں باپ کے گھر چلی گئی ہے۔ میں نے اشرف کو فون کر کے بات پوچھی تو دانت پیس کر بولا ''کیا بتائوں سر جی! اِس منحوس شکیلہ نے تو میری زندگی عذاب کر کے رکھ دی ہے‘‘۔ میں چونکا ''شکیلہ؟؟؟ یہ کون ہے؟؟؟ تمہاری بیوی تو پارو تھی ‘‘۔ بے بسی سے بولا ''گولی ماریں جی پارو کو... یہ وہی پارو ہے‘ کم بخت کا اصل نام شکیلہ ہے ‘‘۔ میں نے فوری طور پر پوچھا کہ ہوا کیا ہے؟ اشرف نے جو تفصیل بتائی اُس کا مختصر خلاصہ یہ تھا کہ ''پارو عرف شکیلہ اُس سے روز نئی نئی چیزیں خریدنے کی فرمائش کرتی ہے‘ کرائے اور بلوں کی رقم ادا کرنے کے بعد اشرف کے پاس کچھ نہیں بچتا لہٰذا وہ سیخ پا ہو جاتا ہے‘‘۔ میں نے اشرف کو یاد دلایا کہ تمہیں تو پارو کی شکل دیکھ کر زندگی مل جاتی تھی؟ غصے سے بولا ''اُس وقت تک میں نے اِس پینڈو کو سوتے ہوئے نہیں دیکھا تھا‘ سر جی ! یقین کریں مردوں کی طرح خراٹے لیتی ہے‘ صبح اٹھتی ہے تو جب تک منہ پر پانی کے چھینٹے نہ مار لے‘ آنکھیں بھینگی لگتی ہیں‘ ہر وقت تو اسے گیس ہوئی رہتی ہے‘ میں دوائیاں خرید خرید کر عاجز آ گیا ہوں‘‘۔ میں نے اپنی ہنسی روکنے کے لیے بے اختیار منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔ کچھ دنوں بعد اشرف نے بتایا کہ پارو سے صلح ہو گئی ہے اور وہ دوبارہ اُس کے پاس آ گئی ہے۔ تین چار ماہ بعد پھر دونوں میں گھمسان کی جنگ ہوئی۔ اب کی بار اشرف نے میرے آگے ہاتھ جوڑ دیے ''سر جی! میں تو تنگ آ گیا ہوں‘ آپ ہی اِسے کچھ سمجھائیں۔‘‘ میں نے وعدہ کیا کہ میں شام کو اُن کی طرف ضرور چکر لگائوں گا۔
آفس سے فارغ ہو کر میں اشرف کے فلیٹ پر آ گیا۔ دونوں ایک دوسرے سے سخت ناراض لگ رہے تھے۔ میں نے پارو سے پوچھا ''بی بی ! تم بھی تو اشرف سے بہت محبت کرتی تھیں‘ یہ ساری محبت کدھر گئی؟‘‘ پارو پھٹ پڑی ''صاحب جی! مجھے کیا پتا تھا کہ میرے نصیب پھوٹ جائیں گے‘ شادی سے پہلے تو یہ روز نہا دھو کر ‘ صاف ستھری شرٹ پہن کر مجھ سے ملنے آیا کرتا تھا‘ میں سمجھتی تھی شائد ایسا ہی ہے‘ لیکن شادی کے بعد پتا چلا کہ یہ کتنا ڈنگر ہے‘ چھ چھ دن نہاتا نہیں‘ صبح غسل خانے میں کلی کرتے ہوئے ایسی ایسی آوازیں نکالتا ہے کہ میرا جی متلانے لگتا ہے‘ کام سے واپس آتا ہے تو پھٹی ہوئی بنیان اور کچھا پہن کر ٹی وی دیکھنے لگ جاتا ہے‘ دو دو مہینے تک ناخن نہیں کاٹتا‘ خود روز بیس روپے والی سگریٹ کی ڈبی پھونک جاتا ہے‘ میں ہاضمے کے لیے بوتل مانگ لوں تو موت پڑ جاتی ہے... بس میں نے اِس کے ساتھ نہیں رہنا‘‘۔ میں نے اندازہ لگایا کہ حالات کافی خراب ہو چکے ہیں‘ اور پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا... دونوں میں طلاق ہو گئی... آج دونوں اپنے اپنے گھر بہت خوش ہیں۔
محبت سچائی کا نام ہے‘ جہاں سچائی نہیں رہتی وہاں محبت بھی نہیں رہتی... اور سچائی یہ ہے کہ جس سے ہم پیار کرتے ہیں وہ ہر وقت ویسا نہیں ہوتا جیسا ہم اُسے دیکھتے ہیں‘ اگر وہ کوئی انسان ہے تو عین ممکن ہے کہ وہ خراٹے بھی لے‘ صبح کے وقت اُس کے بال بھی الجھے ہوئے ہوں‘ گھر میں رف کپڑے بھی پہنے ‘ کسی بات میں کنجوسی بھی دکھائے‘ ہر وقت محبت کی باتیں بھی نہ کرے‘ غصہ بھی کرے‘ بیزاری بھی دکھائے‘ بالوں میں برش بھی نہ کرے‘ تبخیرِ معدہ کا بھی شکار ہو‘ سرِ عام ڈکار بھی لے ‘ منہ پھاڑ کر جماہی بھی لے‘ سوتے ہوئے سارے تکیے اپنے پاس گھسیٹ لے‘ کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ بھی نہ دھوئے‘ سر عام خارش بھی کرتا پھرے... وغیرہ وغیرہ۔ محبتوں میں جھوٹ کی آمیزش ہو جائے تو محبت خالص نہیں رہتی‘ اور سیدھی سی بات ہے ‘ جو چیز خالص نہیں وہ ملاوٹ زدہ ہے اور ملاوٹ زدہ چیز نقصان دہ ہوتی ہے۔ ہم سب اپنے گھروں میں کچھ اور ہوتے ہیں اور باہر کچھ اور‘ لباس سے شخصیت تک ہم روز ایک دوہری زندگی گزارتے ہیں‘ ٹھیک ہے باہر کے ماحول کے تقاضوں کے مطابق خود کو Manage کرنا ضروری ہے‘ لیکن جس سے آپ محبت کرتے ہیں اور جسے اپنی زندگی کا‘ اپنے گھر کا حصہ بنانے جا رہے ہیں‘ اُسے کھل کے بتائیں کہ آپ کی اصلیت کیا ہے‘ جس کو آپ سے پیار ہے اُسے آپ پسینے میں شرابور بھی اچھے لگیں گے‘ مٹی میں لتھڑے ہوئے بھی اچھے لگیں گے‘ بڑھی ہوئی شیو میں بھی اچھے لگیں گے‘ موٹے پیٹ میں بھی اچھے لگیں گے‘ کالی رنگت میں بھی اچھے لگیں گے۔ مرد ہو یا عورت‘ ہر انسان ایک جیسا ہے‘ کسی کا اصل زیادہ دیر تک چھپا نہیں رہ سکتا۔
محبتوں میں جھوٹ کی آمیزش ہو جائے تو محبت خالص نہیں رہتی‘ اور سیدھی سی بات ہے ‘ جو چیز خالص نہیں وہ ملاوٹ زدہ ہے اور ملاوٹ زدہ چیز نقصان دہ ہوتی ہے۔ ہم سب اپنے گھروں میں کچھ اور ہوتے ہیں اور باہر کچھ اور‘ لباس سے شخصیت تک ہم روز ایک دوہری زندگی گزارتے ہیں‘ ٹھیک ہے باہر کے ماحول کے تقاضوں کے مطابق خود کو Manage کرنا ضروری ہے‘ لیکن جس سے آپ محبت کرتے ہیں اور جسے اپنی زندگی کا‘ اپنے گھر کا حصہ بنانے جا رہے ہیں‘ اُسے کھل کے بتائیں کہ آپ کی اصلیت کیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *