فکسنگ الزامات پر مٹی ڈالنے کیلیے عالمی قوتیں سرگرم

لندن: فکسنگ الزامات پر مٹی ڈالنے کیلیے ’عالمی قوتیں‘ سرگرم ہوگئیں۔

قطری ٹی وی چینل الجزیرہ کی جانب سے کرکٹ میں کرپشن کے حوالے سے نئی ویڈیو جاری کی گئی جسے مبینہ بھارتی بکی کے حوالے سے ’منور فائلز‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس میں انکشاف کیا گیا کہ 2011 اور 2012 کے دوران کھیلے جانے والے میچز میں آسٹریلیا، انگلینڈ اور پاکستان کے کچھ ٹاپ کرکٹرز نے اسپاٹ فکسنگ کی جبکہ دیگر ٹیموں کے کھلاڑی بھی محدود پیمانے پر اس میں ملوث رہے، مجموعی طور پر اس عرصے کے دوران 15 انٹرنیشنل میچز میں اسپاٹ فکسنگ کے 26 واقعات ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق انگلش کھلاڑی 7 اور آسٹریلیا کے کرکٹرز پانچ اسپاٹ فکسنگ واقعات میں ملوث پائے گئے، پاکستانی کھلاڑی تین جبکہ باقی ٹیموں کے ایک ایک پلیئر واقعے میں ملوث تھے۔  ان الزامات کے بعد گوروں کی جانب سے ایک ہی جیسے بیانات آنا شروع ہوگئے، خاص طور پر کھیل کی عالمی گورننگ باڈی آئی سی سی کا اس بار بھی روایتی بیان ہی سامنے آیا۔

اینٹی کرپشن یونٹ کے سربراہ الیکس مارشل نے کہاکہ آئی سی سی کرکٹ کی اینٹیگریٹی کو برقرار رکھنے کیلیے کوشاں ہے،  جیسا کہ آپ توقع کرتے ہیں ہم ایک بار  پھر اس پروگرام اور اس میں لگائے گئے الزامات کو سنجیدگی سے لیں گے اور مکمل تحقیقات بھی کریں گے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ الجزیرہ چینل کی جانب سے جب اس سلسلے میں پہلی دستاویزی فلم جاری کی گئی تب بھی آئی سی سی نے تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا تھا،انیل منور کی تلاش کیلیے بھی عالمی اپیل جاری کی تھی جبکہ تازہ فلم میں دعویٰ کیا گیاکہ آئی سی سی مذکورہ بکی کو 8 برس سے جانتی ہے۔

مارشل کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم نے گزشتہ ڈاکیومنٹری میں سامنے لائے گئے کچھ کیسز نمٹا دیے جبکہ باقی کے بارے میں چھان بین جاری ہے۔ تازہ ترین الزامات پر کرکٹ آسٹریلیا کے چیف ایگزیکٹیو جیمز سدرلینڈ نے تقریباً وہی بیان جاری کیا جو پہلے کے بعد سامنے آیا تھا۔

الیکس مارشل نے کہاکہ کرکٹ آسٹریلیا کرپشن کے حوالے سے عدم برداشت کی پالیسی رکھتی ہے، جو بھی الزامات عائد کیے گئے وہ غیرمصدقہ اور غلط ہیں، ہمیں اپنے پلیئرز پر مکمل اعتماد ہے۔ انھوں نے کہا کہ الجزیرہ کی جانب سے محدود معلومات فراہم کی گئیں جبکہ ہماری ٹیم کو کسی بھی موجودہ یا سابق پلیئر کے کرپشن میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے کہاکہ الجزیرہ کی جانب سے دی گئی معلومات ناقص انداز میں تیار کی گئیں اور وضاحت سے عاری ہیں، ہماری ٹیم نے ان کا جائزہ لیا اور انھیں انگلینڈ کے موجودہ یا سابق کسی پلیئر پرذرہ برابر بھی شک نہیں ہوا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *