اسلامی بینک خطرات کا موجب کیوں بن رہے ہیں؟

" شیخ احمد "

اسلامک بینکنگ کی صنعت میں ایک بحران سر اٹھا رہا ہے جس کی وجہ اس کے liquidity instruments کے دسمبر کے ماہ تک میچور ہو جانا ہے۔

اسلام بینکنگ  کی صنعت کل بنیکنگ ڈپوزٹ کے تقریبا 15 فیصد کی مالک ہے۔ لیکن  جب بات انویسٹمنٹ  کی ہو تو  لکوڈٹی انسٹرومنٹ میں اس صنعت کا حصہ صرف 5 فیصد رہ جاتا ہے۔

حال میں روائتی بینکنگ میں لیکویڈیٹی انسٹرومنٹس کی دو قسمیں ہیں: ٹریژری بل اور پاکستان انویسٹمنٹ بونڈز۔ ٹریژری بلوں کے کرایہ دار  کی  مدت 3، 6 اور 12 ماہ ہوتی ہے جبکہ پی آئی بی کا دورانیہ تین سے تیس سال کا ہوتا ہے۔ اسلامی بینک کے پاس انویسٹ کرنے  کے لیے صرف ایک لیکویڈیٹی انسٹرومنٹ ہے: گورنمنٹ اجارہ سکوک، جس کی آخری نیلامی  جون  2017 میں ہوئی تھی۔

روائتی انسٹرومنٹس اور جی آئی ایس میں فرق یہ ہے کہ اول الذکر خالص قرضہ  کی سیکیورٹی ہے جبکہ  موخرالذکر کے بیک اپ کے لیے  ایک اثاثۃ موجود ہوتا ہے۔ جیسا کہ پی آئی بی کی جون کی کل رقم اور ٹریژری بل  جو روائتی بینکوں میں ہے وہ بالترتیب 2.2 ٹریلین روپے اور 4.8  ٹریلین روپے تھی۔اسلامی بینکوں کی جی آئی  ایس ورتھ  صرف 368 بلین روپے ہے۔

بینک یہ لیکویڈیٹی انسٹرومنٹس اپنی ایس ایل آر کی ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں جس کا مقصد  مشکل حالات کی صورت میں  ادارے کی حفاظت کرنا ہے۔ پہلے دونوں روائتی اور اسلامی بینک اپنی مطلوبہ رقم  اور وقت کی ضروریات کا  19 فیصد ایس ایل آر،  ایلیجیبل  انسٹرومنٹس کی شکل میں  رکھتے تھے۔ لیکن اسلامک لیکویڈیٹی انسٹرومنٹس کی انوینٹری ضائع ہو رہی تھی۔ تو نئے انسٹرومنٹس جاری کرنے کے باوجود سٹیٹ بینک آف پاکستان نے  نومبر 2016 میں اسلامک بینکوں کے لیے  ایس ایل آر کے مطالبے پر نظر ثانی کرتے ہوئے اسے 14 فیصد تک گرا دیا۔ اس  سے اس صنعت کے بارے میں غلط تاثر گیا۔ تکنیکی طور پر اسلامی بینک اب  روائتی بنیکوں کی نسبت زیادہ  خطرناک ہیں  کیونکہ اول الذکر اپنے ڈپوزٹس کا کچھ حصہ  ایس ایل آر ، ایلیجیبل انسٹرومنٹس میں  موجود رکھتے ہیں۔

ستمبر 2008 میں جی آئی ایس کے لانچ ہونے سے پہلے سٹیٹ بینک نے  پبلک سیکٹر انٹرپرائزز کی طرف سے جاری کردہ کچھ سکوک کو ایس ایل آر ایلیجیبل سٹیٹس دیا تھا  ۔ ا ن میں واپڈا ، پی آئی اے وغیرہ جیسے سیکٹر شامل تھے۔ لیکن جی آئی ایس کی لانچ کے بعد اس طرح کے معاملات ایک با ر پھر تعطل کا شکار ہو گئے۔ ابتدائی طور پر حکومت نے موٹرویز اور جناح انٹرنیشنل ائیر پورٹ کے خلاف سکوک جاری کیے ۔ زیادہ تر سکوک 2008 سے 2013 کے بیچ جاری کیے گئے۔  اسلامی بینکنگ انڈسٹری کو نئے اثاثے جاری کرنے کی بجائے ن لیگ نے  سب سے بڑا موٹر وے کا اثاثہ ڈومیسٹک مارکیٹ سے اٹھا لیا  اور اس  کے لیے انٹرنیشنل سکوک جاری کر دیا۔ اس کی ترجیحات واضح تھیں، ملک کے  زخائر میں اضافہ اور ڈومیسٹک فنڈنگ کی بھی بڑھوتری  ٹریژری بلز اور پی آئی بی ایس کے ذریعے مقصود تھی۔ اس لیے اسلامی بینکنگ  کیپٹل مارکیٹ کی اصلاحات کا معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا۔

البتہ  لکوڈیٹی ڈپلائمنٹ کے مسئلہ پر قابو پانے کے لیے سٹیٹ بینک نے اکتوبر 2015 میں ایک سرکولر جاری کر کے فائنانس منسٹری کو سکوک خریدنے کی اجازت دے دی  جو ایک ماہ سے بڑھتے جا رہے تھے ۔ یہ سکوک ایک سال کے لیے ادھار رقم پر لیے گئے۔  تاخیری ادائیگی جسے بیع معجل بھی کہا جاتا ہے  نے اسٹرومنٹ کی ٹریڈ ایبلٹی کو ختم کر دیا۔ کچھ بھی ہو ، یہ ایس ایل آر ایلیجیبل تھا۔

جہاں تک موجودہ صورتحال کا تعلق ہے، دسمبر ، فروری اور مارچ کے مہینوں مین جناح انٹرنیشنل ائیر پورٹ کے 320 ارب روپے کے سکوک میچور ہو رہے ہیں جب کہ کوئی دوسرا اثاثہ نظر کے سامنے موجود نہیں ہے۔ پچھلے سال موٹر وے کا کچھ اثاثہ میچور ہوا تھا لیکن اب حکومت چاہتی ہے کہ اس کے لیے  ڈالر فنڈز  حاصل کرے۔

اسلامک بینکنگ میں روائیتئ ماڈل کے برعکس  اثاثے واجبات سے پہلے  بنائے جاتے ہیں ۔حکومتی ضمانت  والے  SLR الیجیبل کاغذات   کی کمی کی وجہ سے  اسلامی بینکوں کو پی ایس ای کو اچھے ریٹ پر فائنانس کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اثاثوں پر کم ریٹرن ملنے کی وجہ سے  اسلامی بینکوں کو اچھے ریٹس پر ڈپوزٹ بڑھانا مشکل ثابت ہو رہا ہے اور ندامت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان اداروں کو انٹریسٹ ریٹ  کوریڈور کی سہولت بھی میسر نہیں ہے جہاں بینک اپنے فنڈز رکھ کر  اور  مشکل وقت میں ایس بی پی سے زیادہ ریٹ پر رقم قرض لے سکیں۔   اس لیے  اسلامی بینکوں کو سینٹرل بینک سے قرض کی سہولت بھی میسر نہیں ہے۔  یہ سکوک صرف اسلامی بینکوں کے  لائف لائن نہیں ہیں۔ اثاثہ جات مینیجمنٹ والی کمپنیاں  بھی سکوک کی طلب گار ہیں  تاکہ اسلامک   میوچول فنڈ  حاصل کر سکیں۔   تکافل آپریٹرز   کو بھی اپنے فنڈ مینیج کرنے کے لیے سکوک کی ضرورت ہے۔

ان مسائل کے حل کے لئے  مندرجہ زریل  تجاویز پر عمل کیا جا سکتا ہے: وزارت خزانہ   تاخیری ادائیگی کے معاہدے کے ساتھ اسلامک بینکوں  سے سکوک خرید لے  اور میچورٹی سے پہلے خریداری کرے۔ ان سکوک کو مارکیٹ میں بیچا جائے اور پورے سال یہ عمل بار بار دہرایا جائے۔ بار بار یہ عمل دہرانے سے بینک اپنی اضافی لکوئیڈٹی سے نجات حاصل کر  پائیں گے۔ منسٹری کو  زیادہ سے زیادہ  اثاثے  سکوک کے لئے مقرر کر دینے چاہیں۔دودسری وزارتوں میں بھی موجود اثاثوں کو سکوک  ایشو کرنے ک لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ایک غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ موٹر وے جیسے اثاثے کمائی کا ذریعہ ہیں۔ کچھ اثاثے جو سکوک کو ماضی میں  ایشو کئے گئے  وہ سب بھی کمائی کے ذرائع تھے جیسے موٹر وے ، ائیرپورٹ وغیرہ۔  یہ صورتحال لازمی نہیں ہے۔ پبلک ڈویلپمنٹ سیکٹر پروگرام کے اثاثوں کو بھی سکوک کے ذرئعے سرمائے فراہم کیے جا سکتے ہیں۔  مثال کے طور پر ملک کے ہر کونے میں پوسٹ آفس قائم کیے جائیں۔ یہ ادارے منافع نہیں کمائیں گے لیکن  حکومت ایسی عمارات کے لیے سکوک جاری کر سکتی ہے۔ ایس ایل آر ایلیجیبل سکوک  جاری کر کے حکومت اسلامی بینکنگ کے ذریعے ڈیم فنڈ کی تمعیر  کی فنڈنگ بھی کر سکتی ہے۔

حکومت کو چاہیے کہ اسلامی بینکوں کے ٹریژری بلز کے لیے ایک شارٹ ٹرم متبادل تلاش کرے۔ اس کا ایک حل یہ ہوسکتا ہے کہ کوئی ایسی پراڈکٹ   متعین کی جائے جو حکومت کو اس قابل بنائے کہ خام تین، فرنیس آئل  جیسی چیزوں کے سال کے ایک چوتھائی فنڈز  اسلامی بینکنگ انڈسٹری کے ذریعے  ایس ایل آر کی خاصیت والے شارٹ ٹرم پیپر  جاری کر کے کرے۔ وزارت معیشت میں ایک الگ ڈیسک اس مقصد کے لیے بنایا جائے کہ جو اسلامی بینکنگ انڈسٹری کے معاملات پر کڑی نظر رکھ سکے۔ ڈیٹ مینیجمنٹ ڈویژن کے لیے ایک ڈائریکٹر جنرل رکھا گیا ہے لیکن  اس کے اختیارات صرف پی آئی بی اور ٹریژری بل جاری کرنے تک محدود ہیں۔ کبھی کبھار وہ سکوک پر بھی نظر ڈال لیتے ہیں  یا پھر یہ کام بھی ایسکٹرنل اکاونٹس ڈویژن کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔  ان اقدامات کی غیر موجودگی میں  یہ خطرہ ہے کہ اسلامی مالیاتی ادارے ناکام ہو جائیں گے  اور متباد ل کے طور پر انہیں کیش کا سہارا لینا پڑے گا جس سے منافع میں شدید کمی واقع ہو گی اور ان کی مشکلات میں اضافہ کرے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *