کیا سول-ملٹری رنجشیں ختم ہو گئی ہیں؟

" محمد ضیا الدین "

پاکستان کے سب سے گنجان آباد صوبے میں حال ہی میں منعقد ہونے والے ضمنی الیکشن کے نتائج بر سر  اقتدار پی ٹی آئی کے لیے سیاسی طور پر اچھے  نہین تھے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان برتری کا  مارجن پنجاب اور مرکز دونون سطح پر بہت کم رہ گیا ہے۔

کچھ سیاسی ماہرین اس  سیٹ بیک  کی وجہ ان یو ٹرنز کو قرار دیتے ہیں جو پی ٹی آئی کی اتحادی حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے کچھ ہفتون کےد وران لیے ہیں  اور پنجاب چیف منسٹر سردار عثمان احمد خان بزدار کی نا اہل لیڈرشپ اہلیت اور ان کی پنجاب سیاست میں محدود سمجھ بوجھ کو بھی ایک وجہ گردانا جاتا ہے

وزیر اعظم عمران خان نے بزدار کو عہدے کے لیے نامزد کرتے وقت ان کو بطور ''عام اور سادہ  سیاست دان'' متعارف کروایا تھا جو جانتے تھے کہ ''غریب کیسے رہتے ہیں''، کیوں کہ جیسے کہ وزیر اعظم نے کہا کہ بزدار کے گھر میں بجلی بھی نہیں ہے۔ تاہم  حقیقت یہ سامنے آئی ہے کہ وہ اچھے بھلے اثاثوں کے مالک اور کروڑ پتی انسان ہیں ۔

اسی طرح انہوں نے خود کو ایک  حقیقی سیاسی لوٹا بھی ثابت کیا ہے۔ وہ پی ایم ایل کیو سے پی ایم ایل این اور بعد میں جنوبی صوبہ میں شامل ہونے کے بعد  پی ٹی آئی میں  منتقل ہوئے ہیں۔ واحد انتخابی دفتر جس پر وہ سی ایم بننے سے پہلے براجمان رہے وہ 2001 میں تونسہ شریف میں ڈسٹرکٹ ناظم کا عہدہ تھا۔

 ان کے سیاسی کیریئر کے دوران جو 17 سال کے عرصے پر محیط ہے ان کی شہرت دو  نا پسندیدہ واقعات کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے۔  ان میں سے ایک نیب کیس ہے جو ثبوت کے نہ ملنے کی وجہ سے ختم ہو گیا اور دوسرا ایک قتل کیس جسے  ایک میڈیا آؤٹلیٹ کے ذریعے ایک غلط شناخت کامعاملہ بتایا گیا۔

اس لیے ،  آپ جس طرح بھی اس وجہ کی کھوج لگانے  کی کوشش کریں جس کی بنا پر خان نے بزدار کو سی ایم پنجاب بنایا ہے، ہر طرف سے نتائج آپ کو بند گلی کی طرف ہی لے جاتے ہیں۔ ۔

سی ایم بزدار کی پاکپتن کے سابق ڈی پی او رضوان گوندل کے آدھی رات میں ٹرانسفر  کے معاملے میں مداخلت  نےعوام کے اس تاثر کو بھی زائل کر دیا  ہے کہ  عثمان بزدار ایک کمزور سی ایم ہیں  اور انہیں ملک کے سب سے بڑے صوبے کا وزیر اعلی بنانا غلطی تھی۔ لیکن شاید یہی چیز ہے  جس کی وجہ سے وزیر اعظم نے بزدار کو منتخب کیا کیونکہ وہ ایک کمزور وزیر اعلی چاہتے تھے۔

ایسا لگتا ہے کہ عمران خان  اس سیاسی طور پر بیوقوفانہ فیصلے کی  سیاسی قیمت چکانے کے لیے تیار تھے  جو کہ انہیں ضمنی انتخابات میں شکست کی صورت میں چکانا پڑتی  اور ایسا ہی ہوا کہ جو سیٹیں پی ٹی آئی نے جنرل الیکشنز میں جیتی تھیں ان پر انہین بڑی شکست ہوئی۔

خود  وزیر اعظم عمران اور دوسرے  بڑے سیاستدان جو پنجاب سیاست کو اندر سے بخوبی جانتے ہیں اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ شاید پنجاب میں ایک کمزور  وزیر اعلی لگانے سے ایسی صورتحال سے بچا جا سکتا ہے جو 1974 میں ذولفقار علی بھٹو  کو درپیش تھی جب ان کے بھروسہ مند مضبوط آدمی مصطفی کھر نے 1974 میں انہیں چیلنج کرنا شروع کر دیا تھا۔

بعد میں 1988-1990 کے دوران آنے والے تب کے  وزیر اعلی نواز شریف نے تب کی وزیر اعظم بینظیر بھٹو کو چیلنج کیا تھا اور اس قدر کہ پنجاب میں ان کی رٹ کو مکمل طور پر غیر موثر بنا لیا گیا تھا۔  آخر کار نواز شریف  نے نومبر 1990 کے عام انتخابات کے بعد بینظیر بھٹو کی جگہ لے لی۔

اپنی مقبولیت کے دم برنواز شریف نے اکتوبر 1993 میں پارٹی چیف محمد خان جونیجو کو باہر نکالا اور اپنی جماعت کو مسلم لیگ ن کا نام دیا۔

پھر منظو وٹو کا ذکر آتا ہے جو پی ایم ایل جے سے تعلق رکھتے تھے اور پی پی کے جونئیر اتحادی جماعت تھے ۔ انہوں نے پنجاب میں اپنے سینئر  سیاستدان کو بچھاڑ کر پنجاب میں ایک بار پھر پییپلز پارٹی کی رٹ کو بے اثر کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ  انہوں نے  1970 سے ملک میں تین مرتبہ  سول-ملٹری تصادم کا مشاہدہ کیا ہے۔ ایک بار 1972-88 کے عرصے کے دوران جب پی ایم ذوالفقار علی بھٹو کی پی پی پی  نے پارلیمنٹ میں اور اسی طرح پنجاب اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل کی تھی اور پھر جب پی ایم نواز شریف کی پی ایم ایل این نے یہی اکثریت 1996-97 کے دوران اور اسی طرح 2014 سے 2018 کے عرصے میں حاصل کی۔

البتہ وزیر اعظم  عمران خان کی پی ٹی آئی کے جولائی 2018 میں اقتدار میں  آنے کے بعد سویلین حکومت اور ملٹری کے درمیان تعلقات بہتر ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ وجہ یہ کہ پی ٹی آئی کے پاس حکومت بنانے کے لیے مرکز اور پنجاب میں  ضروری ارکان موجود تھے لیکن  غیر سیاسی اداروں پر تکیہ کیے بغیر ملک پر حکومت کرنے کے لیے یہ اکثریت کافی نہیں ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *