ملتانی سوہن حلوہ ۔۔گلِ نوخیز اختر

گلِ نوخیز اختر صاحب کے ساتھ میرے تعلق کو یوں تو چھ سات سال کا عرصہ گزرا ہے لیکن تعلق جتنا گہرا اور قریبی ہے لگتا ہے کہ پچھلے ہفتے ہی ملاقات ہوئی ہے ۔نوخیز صاحب کمال کے آدمی ہیں اُن کی اس تقریبِ میں آنے سے پہلے میں نے ان سے گزارش کی تھی کہ تقریب میں آپ کی صر ف تعریف ہی کرنی ہے یا تھوڑا سچ بھی بولناہے تو انہوں نے ہنستے ہوئے کہا تھا کہ وہاں میرا قصیدہ وغیرہ نہ پڑھئیے گا۔۔ سچی بات ہے اس سے میرے لیے کافی آسانی پیدا ہو گئی ہے۔ ظاہر ہے آدمی جھوٹ بولنے سے بچ جائے تو اس سے بھلی بات کیا ہو سکتی ہے ۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ دوسری طرف مجھے کوشش کے باوجود ان میں کوئی ایسی برائی بھی نظر نہیں آتی جس کا ذکر کیا جا سکے ۔
حاضرین کرام ! ملتان شہر کے ساتھ میرا تعارف دو حوالوں سے ہے ایک ملتانی سوہن حلوہ اور دوسرے نوخیز اختر صاحب !! جن کا بچپن اور لڑکپن ملتان میں گزرا ۔ ان دونوں حوالوں میں ایک قدر مشترک ہے اور وہ ہے مٹھاس ۔۔ میرا تجربہ ہے کہ آپ ملتانی سوہن حلوہ کھائیں یا پھر نوخیز صاحب کی تحریر پڑھیں آپ کو مزا ایک سا آئے گا بلکہ بعض اوقات نوخیز صاحب کی تحریر میں لذّت اور چاشنی حلوے سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔
نوخیز صاحب کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے مزاح نگاری میں ’’ پاورپلے ‘‘ متعارف کروایا ہے ۔ہمیں ہنسنے کے لیے اُن کی تحریر کا پورا صفحہ نہیں پڑھنا پڑتاوہ ہر لائن میں مزاح کے ’’ چھکّے ، چوکے ‘‘ لگاتے ہیں۔ وہ الفاظ ضائع نہیں کرتے!!انہیں پڑھتے ہوئے آپ کو ہر لمحے مسکراہٹ کی ’’ زحمت ‘‘ اُٹھانی پڑتی ہے ۔
نوخیز صاحب کے ساتھ رہتے ہوئے میں نے نوٹ کیا ہے کہ انہیں دو کام بہت پسند ہیں ایک سگریٹ نوشی اور دوسرا Smoking ۔۔یہ سارا دن یہی دو کام کرتے رہتے ہیں۔سِگریٹ آپ کی مرغوب ترین ’’ غِذا‘‘ ہے۔دن میں وہ لمحات جب آپ سِگریٹ نہیں پی رہے ہوتے، اُنگلیوں پہ گِنے جا سکتے ہیں۔یہ سِگریٹ نہ پئیں تو خود پریشان، پینے لگیں تو ساتھ والے پریشان۔۔ بقول شخصے آپ ’’ چین ‘‘ سموکر نہیں ،’’ بے چین‘‘ سموکر ہیں۔
حاضرینِ محترم: نوخیز صاحب کا مزاح صرف قلم تک محدود نہیں ہے، اُن کی محفل بھی’’ کِشتِ زعفران‘‘ کا منظر پیش کرتی ہے!! یہ بڑے یار باش اور محفل باز قسم کے آدمی ہیں ۔ ان کی محفل میں شرکت بیک وقت ایک اعزاز بھی ہے اور ایک امتحان بھی ۔۔امتحان اس لیے کہ کچھ پتہ نہیں چلتا کب توپوں کا رُخ آپ کی طرف ہو جائے اور جگتوں اور جُملوں کے ایسے گولے آپ پر برسنا شروع ہو جائیں کہ آپ کے ہوش گُم ہو جائیں ۔ ایسے میں آپ سوچنے لگتے ہیں کہ یہ میں کہاں پھنس گیا ہوں ابھی تھوڑی دیرپہلے تو میں اچھا بھلا تھا۔ یقین کریں جگتیں ان پر باقاعدہ اترتی ہیں اور اسی سے پتہ چلتا ہے کہ یہ شاعر اور ڈرامہ نگار تو ہیں لیکن مولا خوش رکھے اصل میں کچھ اور ہیں ۔۔ ان کی محفل میں پسلی توڑ قسم کے نان سٹاپ لطیفے چلتے رہتے ہیں۔ اور لطیفے ایسے کہ جنہیں سُن کر اچھے خاصے آوارہ مزاج لڑکوں کے بھی کان سُرخ ہو جائیں۔۔خودنوخیز صاحب نہایت عمدہ اعلیٰ پائے کا لطیفہ سنائیں گے کہ جس سے ہنسی کا دورہ پڑ جائے بس چھوٹی سی قباحت اس میں یہ ہے کہ یہ لطیفہ آپ آگے کسی شریف آدمی کو نہیں سنا سکتے ۔ بلکہ بعض لطیفے تو آپ خود اپنے آپ کو بھی دوبارہ نہیں سنا سکتے ۔ اس کے لیے جس اعلیٰ ظرفی کی ضرورت ہوتی ہے وہ ہر کسی کے پاس کہاں ہوتی ہے۔
ہمارے ہاں بعض مزاح نگاروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنا جملہ ضائع نہیں کرتے بے شک بندہ ضائع ہو جائے ۔۔۔نوخیز صاحب کے ہاں جملے کا تو پتہ نہیں لیکن بندہ دونوں صورتوں میں ضائع ہو تا ہے۔ لیکن ان کی محفل کی خوبصورتی ، اس کا کمال اور نشہ یہ ہے کہ اگلے دن وہی ضائع شدہ ستم رسیدہ شخص پھر اسی محفل کا حصہ بن کر مشقِ ستم کے لیے تیار ہوتا ہے۔ یعنی ۔۔
دل پھر طواف کوئے’’ حجامت‘‘ کو جائے ہے ۔۔۔۔پندار کا صنم کدہ ویراں کیے ہوئے ۔۔
حاضرینِ محترم ! ملتان ولیوں اور سخیوں کا شہر ہے اور یہ ملتان شریف کی سخاوت کی ایک مثال ہے کہ اس نے نوخیز صاحب کی صورت میں اپنا ا ایک انتہائی قیمتی موتی لاہور کی جھولی میں ڈال دیا ہے ۔اور دوسری طرف لاہور مہمان نواز اور قدردان شہر ہے ۔چنانچہ اس نے اس موتی کو اپنے ماتھے کا جھومر بنالیا ہے ۔
آخر میں میں عرض کروں گا کہ میرا مشاہدہ ہے کہ ہم میں سے کوئی اگر’ مزے دار انسان ‘‘ کی تعریف پر پورا اترتا ہے تو وہ ہمارے دوست نوخیز صاحب ہی ہیں ۔۔ یہ ہر جگہ خوشیاں بکھیر تے ہیں۔ آسکر وائلڈ نے کہا تھا کہ ’’کُچھ لوگ جہاں جاتے ہیں خوشی کا باعث بنتے ہیں ۔۔ اور کچھ جب جاتے ہیں تو خوشی کا باعث بنتے ہیں۔ ‘‘ ان میں سے نوخیز صاحب کا تعلق پہلے گروپ سے ہے جو ہر جگہ خوشی کا سبب ہیں ۔ذاتی طور پرمیں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے ۔۔سیگریٹ نوشی ، فلم بینی اور رات گئے گھر لوٹنے جیسی اعلیٰ اور نفیس عادات انہی کی صحبت کا دین ہیں۔ آجکل بجا طور پر کہا جاتا ہے کہ ہم مزاح کے عہدِ یوسفیؔ میں زندہ ہیں۔ میں اس میں صرف اتنا اضافہ کروں گا کہ اِس عہد پر آجکل ’’ موسمِ گُل ‘‘ چھایا ہوا ہے۔
( یہ مضمون جناب گلِ نوخیز اختر کے اعزاز میں منعقدہ تقریب میں پڑھا گیا ۔۔یہ تقریب پاکستان رائٹرز کونسل کے زیر اہتمام ملتان آرٹس کونسل میں منعقد ہوئی )

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *