سمجھ نہ آنے والی 5 بہترین ہولی وڈ فلمیں

 

حال ہی میں ریلیز ہونے والی بولی وڈ فلم 'اندھا دھن' کے کلائیمکس نے مجھے چونکا دیا۔ ہدایت کار سری رام راگھون نے انتہائی چابک دستی سے فلم کی کہانی کو اس کے آخری ایک سیکنڈ کے شاٹ میں مقید کردیا ہے۔

آپ اگر پوری فلم دیکھیں اور فقط فلم کا آخری سیکنڈ مس کردیں تو آپ کو فلم کا اختتام سمجھ نہیں آئے گا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس فلم کی اینڈنگ سے ہر فلم بین اپنا اپنا مطلب نکال سکتا ہے۔ ہولی وڈ کے مایہ ناز لکھاری اور ہدایت کار کوئینٹن ٹیرنٹینو کہا کرتے ہیں کہ ’اگر 10 لاکھ لوگ میری فلم دیکھیں تو مجھے امید ہے کہ وہ 10 لاکھ مختلف فلمیں دیکھیں گے۔‘

بدقستمی سے ہمارے ہاں کے فلم بینوں کی اکثریت چاہتی ہے کہ جس طرح ڈراموں میں ہر بات کو تفصیل کے ساتھ بیان کردیا جاتا ہے، فلم میں بھی انہیں ایسی ہی کہانی بتائی جائے۔

بہرحال، اندھا دن دیکھی تو خیال آیا کہ کیوں نہ 5 ایسی مشہور ہولی وڈ فلموں کا ذکر کیا جائے جو کسی کے پلے نہیں پڑیں۔ مگر اس کے باوجود ناقدین نے ان کو سراہا اور وہ فلمیں ہٹ بھی ہوئیں۔

ان فلموں کی کہانی کی وضاحت اس لیے نہیں کروں گا کہ پھر فلم دیکھنے کا مقصد فوت ہوجائے گا۔ خود سے ان فلموں کو دیکھیں اور ان کی کہانی کو سمجھنے کی کوشش کریں۔


فلم کا آفیشل پوسٹر

1: ملہولینڈ ڈرائیو (Mulholland Drive)

لکھاری اور ہدایت کار ڈیوڈ لنچ کی یہ فلم میری پسندیدہ فلموں میں سے ہے۔ 147 منٹ کے دورانیے کی اس فلم کو آج تک عام فلم بین تو دُور نقاد تک سمجھ نہیں پائے۔ فلم کی اینڈنگ کے حوالے سے کئی نظریے پیش کیے جاتے رہے ہیں۔ حتٰی کہ اس فلم میں کام کرنے والے اداکار بھی فلم کی کہانی بتانے سے قاصر ہیں اور انہوں نے بھی درجنوں نظریوں میں سے کسی ایک کو قریب ترین بتا کر اپنی جان چھڑائی ہے۔

ڈیوڈ لنچ نے خود اس فلم کی کہانی کی وضاحت دینے سے ہر فورم پر ہمیشہ انکار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مجھے اس فلم کی کہانی خود سے بتانی ہے تو فلم بنانے کا فائدہ کیا ہوا؟ فلم ہولی وڈ میں ہیروئن بننے کی غرض سے آئی ہوئی ایک لڑکی کی کہانی ہے جس کی گاڑی کو حادثہ پیش آجاتا ہے اور وہ اپنی ایک سہیلی کی مدد سے حادثے کی کھوج لگانے نکلتی ہے۔ یہ بے انتہا سسپنس اور عمدہ اداکاری سے مزین فلم ہے۔


فلم کا آفیشل پوسٹر

2: اونلی گاڈ فارگیوز (Only God Forgives)

یہ بنکاک کے ایک منشیات فروش کی کہانی ہے جس کی زندگی میں اس وقت تناؤ آجاتا ہے جب اس کا بھائی قتل ہوجاتا ہے اور اس کی ماں اسے بھائی کے قاتل کو ڈھونڈنے اور اسے مارنے کا کہتی ہے۔ اس فلم کو آپ کئی مرتبہ دیکھ لیں، آپ کو اس کا اختتام سمجھ نہیں آئے گا۔

معروف یوٹیوب فلم نقاد کرس اسٹکمین نے اس فلم پر اپنا مفصل ریویو دیا ہے جس میں انہوں نے فلم میں چھپے پیغام اور اس کی کہانی کے بارے میں بتایا ہے۔ اگر آپ کو فلم کی سمجھ نہ آئے تو آپ کرس کی ویڈیو سے فلم کو سمجھ سکتے ہیں۔ مجھے ذاتی طور پر فلم میں کئی مناظر اضافی اور فلم کی کہانی سے بالکل علیحدہ لگے۔ 6 منٹ طویل تشدد کے سین کو بھی اسکرپٹ میں کہیں فٹ نہیں کیا جاسکتا۔ غیر ضروری مناظر کی بھرمار نے بھی فلم بین کو کنفیوژ کیا۔


فلم کا آفیشل پوسٹر

3: ڈیمن (Demon)

اس پولش و ہولی وڈ کی مشترکہ ہارر فلم کو آپ جتنی بار دیکھیں گے، ہر بار یہ فلم آپ کو الگ محسوس ہوگی۔ یہ شادی کی ایک تقریب کا احوال ہے جس کے دولہے کے ساتھ پیش آنے والے واقعات اس فلم کی کہانی میں بتائے گئے ہیں۔ فلم کے اختتام پر دولہے کے ساتھ کیا ہوا، وہ کہاں چلا گیا، یہ نہیں بتایا جاتا۔ اس کا جواب آپ کو خود سے ڈھونڈھنا پڑتا ہے۔


فلم کا آفیشل پوسٹر

4: اپ اسٹریم کلر (Upstream Color)

لکھاری و ہدایت کار شین کیرتھ اس فلم سے قبل 2004ء میں پرائمر جیسی اعلیٰ فلم بناچکے ہیں۔ دونوں فلموں میں وہ انسانی نفسیات، مابعد طبیعات کی پرپیچ گتھیوں کو سلجھاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ اس فلم کو 3 مرتبہ دیکھنے کے بعد بھی میں پوری طرح سمجھ نہیں پایا۔ آپ کو کتنی بار دیکھنے بعد سمجھ آتی ہے، یہ آپ پر منحصر ہے۔


فلم کا آفیشل پوسٹر

5: مدر (Mother)

جینیفر لارنس، ایڈ ہیرس اور ہاویئر بارڈیم پر مشتمل سپراسٹار کاسٹ کی حامل اس فلم کی کہانی انتہائی سادہ ہے۔ ایک گھر میں لکھاری میاں اور اس کی بیوی سکون کی زندگی گزاررہے ہوتے ہیں جب ایک اجنبی ان کی زندگی میں آکر ہلچل مچا دیتا ہے۔

آپ پوری فلم دیکھ لیں، آپ کو گمان تک نہیں ہوگا کہ عام سے کرداروں کی اوٹ میں ڈائریکٹر کیا کہنا چاہ رہا ہے۔ جب تک آپ کو سمجھ آتا ہے کہ فلم درحقیقت ایک تمثیلی کہانی ہے، تب تک فلم ختم ہوچکی ہوتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *