شکریہ ملتان!

آج سے ستائیس سال پہلے میں بے سروسامانی کے عالم میں ملتان سے لاہور آیا تو تب بھی محرک ادب ہی تھا۔ مجھے اپنے افسانوں کی کتاب 'چھارجی‘ کی اشاعت درکار تھی اور سنا تھا کہ لاہور میں پری پیڈ کتاب 16 ہزار میں چھپ جاتی ہے۔ یہ سولہ ہزار کہاں سے آئیں گے اِس بارے میں لاہور میں مقیم میرے ملتانی دوست عمران شیخ نے بڑا سستا نسخہ بتایا تھا کہ جس فیکٹری میں وہ کام کرتا ہے میں بھی وہاں کام کروں‘ گیارہ سو روپے مہینہ کمائوں اور پیسے جوڑ کر دو سال بعد اپنی کتاب لے آئوں۔ آئیڈیا اچھا تھا اگر پیسے صرف جوڑنے پڑتے۔ مصیبت یہ تھی کہ اِن گیارہ سو روپوں میں سے مجھے سات سو روپے ایک کچے کمرے کا کرایہ‘ دو سو روپے ویگن کا کرایہ‘ اور باقی دو سو روپوں میں مہینے بھر کے لیے پیٹ پوجا بھی کرنا تھی۔ بہترین حل یہ نکالا کہ بھوک کے لیے مختص دو سو روپے سمن آباد دوسرے گول چکر پر موجود ایک میوزک اکیڈمی کے اُستاد صاحب کے ہاتھ پر رکھے اور فرمائش کی کہ مجھے ہارمونیم سکھانے کی بجائے صرف ایک گھنٹے کے لیے میرے ہاتھ میں دے دیا کریں۔ انہوں نے کمال مہربانی سے یہ پیکج قبول فرمایا۔ پیٹ بھرنے کے لیے داتا دربار موجود تھا جہاں چوبیس گھنٹے لنگر ملتا تھا اور میں لاہور آمد کے بعد یہاں کچھ عرصہ قیام بھی کر چکا تھا۔
آج لگ بھگ تین عشرے ہونے کو آئے ہیں اور میں سوچ رہا ہوں کہ داتا کی نگری کے کس کس احسان کا بدلہ چکائوں۔ ہم دوسرے شہروں والے اکثر کہا کرتے ہیں کہ 'اساں قیدی تخت لاہور دے‘۔ پتا نہیں کیوں جس شہر نے ہمیں کہاں سے کہاں پہنچا دیا ہم اسے قید خانہ کیوں سمجھتے ہیں۔ اگر تو یہ قید محبت کی ہے تو صد آفرین لیکن اگر مطلب کچھ اور ہے تو کم از کم میں متفق نہیں۔ لاہور اپنی جگہ‘ ملتان اپنی جگہ۔ ملتان کی محبت کچھ اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہ وہی شہر ہے جہاں میں اور میرا پیارا دوست سجاد جہانیہ کہانیاں لکھا کرتے تھے۔ سجاد جہانیہ آج کل ملتان آرٹس کونسل کا ریزیڈنٹ ڈائریکٹر ہے اور ہمیشہ کی طرح تخلیقی پختگی میں مجھ سے کہیں آگے ہے۔ ہم دونوں سلیم ناز کے مرہون منت ہیں جنہیں بچوں کے اخبار میں لکھنے والے سب رائٹرز 'بھائی جان‘ کہا کرتے تھے۔1980 کی دہائی کے آخر میں رائٹرز کی جو پود سامنے آئی اُس کے سرخیل سلیم ناز ہیں اور ہم سب کے لیے قابل احترام ہیں۔ اسی ملتان نے مجھے طارق اسد جیسے با کمال شاعر کا دوست بنایا‘ شاکر حسین شاکر‘ رضی الدین رضی‘ نوازش علی ندیم‘ تحسین غنی‘ شفیق آصف‘ شاہد انجم سٹھو‘ ڈاکٹر قمر بخاری‘ ہاشم خان اور ڈاکٹر عرش صدیقی جیسی شخصیات کا ساتھ نصیب ہوا۔ زمانہ طالب علمی میں رانا ممتاز رسول‘ محمد زمان‘ عمران شیخ‘ ماجد رشید‘ ثاقب رفعت‘ حسن احمد اور مظہر سجاد زیدی جیسے بے مثال دوست ملے۔ رانا ممتاز رسول دوستوں کے گروپ کا سرغنہ ہوا کرتا تھا۔ ہم سب بھوکے ننگے خالی جیب ہوا کرتے تھے‘ جب یہ جی دار دوست اپنی جیب سے سب کو سموسے اور کچوریاں کھلایا کرتا تھا۔ اِس کے اور بھی بہت سے احسانات ہیں جو یہاں درج کرنے کے قابل نہیں۔ انہی دوستوں نے جب کہا کہ وہ میرے ساتھ ملتان میں ایک شام منانا چاہتے ہیں تو خدا گواہ ہے میرا دل اچھل کر حلق میں آ گیا۔ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں کیسے اپنوں کے درمیان اونچائی پر بیٹھوں گا۔ لیکن سجاد جہانیہ کی محبتوں‘ رانا ممتاز رسول کی رفاقتوں اور پاکستان رائٹرز کونسل کے روح رواں مرزا محمد یاسین بیگ اور الطاف احمد کی پیار بھری فرمائشوں کے آگے ہتھیار ڈالنا پڑے۔ میں نے ایک شرط پر یہ دعوت قبول کی کہ اُستاد محترم عطاء الحق قاسمی اِس تقریب کی صدارت فرمائیں گے۔ احباب نے مشترکہ طور پر مسرت کا اظہار کیا۔ قاسمی صاحب سے ذکر ہوا تو مجھے لگا جیسے وہ اپنے گھٹنوں کی تکلیف اور لمبے سفر کی وجہ سے کچھ پس و پیش کریں گے لیکن انہوں نے نہایت محبت سے فرمایا ''چاہے کچھ بھی ہو جائے میں ضرور آئوں گا‘‘۔
21 اکتوبر کی شام جب ملتان ٹی ہائوس میں یہ تقریب منعقد ہو رہی تھی تو لاہور سے قاسمی صاحب کے ساتھ میرے مرشد یاسر پیرزادہ‘ یارِ غار ناصر محمود ملک اور فسادی صحافی فرخ شہباز وڑائچ بھی ہمراہ تھے۔ پنجابی ادب کے بہت بڑے نام زاہد حسن بھائی بھی بطور خاص ملتان تشریف لائے۔ مرز ا یاسین بیگ صاحب چونکہ تقریبات کے ماہر ہیں لہٰذا انہیں یہی فکر تھی کہ ہال بھرا ہوا ہونا چاہیے۔ میں نے کئی بار انہیں تسلی دی کہ مجھے اس کی کوئی فکر نہیں‘ بیس لوگ بھی آ گئے تو میں انتہائی خوشی اور آسانی سے اُن میں اپنا ماضی تلاش کر لوں گا۔ لیکن بہت شکریہ اہلیان ملتان کا جنہوں نے ٹی ہائوس کا ہال فل بھر دیا اور نا صرف پروگرام کے اختتام تک موجود رہے بلکہ ساری گفتگو بھرپور انداز میں پوری توجہ سے سنی۔ یہ میری زندگی کی بہت بڑی خوشی تھی اور میری خوشی میں میرے دوست احباب‘ فیملی اور محبت کرنے والے بھی موجود تھے۔ سب سے بڑی فخر کی بات کہ میری وہ بہن بھی موجود تھی جس نے مجھے اخبار پڑھنا سکھایا اور کہانیاں لکھنے میں میری مدد کی۔ ہو سکتا ہے کسی کے ذہن میں میرے حوالے سے کوئی شکوہ شکایت بھی ہو‘ لیکن اُس روز سب نے میرا مان بڑھایا اور محبتوں کی انتہا کر دی جس کے لیے شاید شکریہ کا لفظ بھی بہت چھوٹا ہے۔ ایک لکھاری کی حیثیت سے میرے لیے یہ زندگی کا یادگار دن تھا جب میرے اپنے ملتان نے مجھے اتنی عزت بخشی۔ مجھے یاد ہے ملتان کے دور میں مجھے بہت شوق تھا کہ میرا بھی کالم چھپے۔ اس مقصد کے لیے ایک قومی سطح کے اخبار کے ایڈیٹر سے بات ہوئی تو انہوں نے یکسر انکار کر دیا۔ میں سمجھتا ہوں انہوں نے بالکل ٹھیک کیا‘ یقینا میری تحریر میں خامیاں ہوں گی۔ یہ محترم ایڈیٹر بھی تقریب میں موجود تھے اور جب انہوں نے مجھے گلے لگایا تو اُن کی آنکھوں کی نمی مجھے اپنے گالوں پر محسوس ہوئی۔ کپکپاتی ہوئی آواز میں بولے ''توں بہت وڈا ہو گیا ایں‘‘۔ میں نے اُن کے گھٹنوں کو ہاتھ لگایا اور نہایت عقیدت سے اُن کو پھر گلے سے لگا لیا۔ میں بھلا کیسے بڑا ہو گیا‘ کیا ایک بڑے اخبار میں کالم لکھنے یا ٹی وی ڈرامے تحریر کرنے سے انسان بڑا ہو جاتا ہے‘ ہرگز نہیں۔ یہ میری بڑائی نہیں اُن کا بڑا پن تھا ورنہ مجھے تو آج بھی سمجھ نہیں آتی کہ میرا کالم کیوں اور کس وجہ سے شائع ہوتا ہے‘ کئی بہترین مزاح لکھنے والے موجود ہیں جن کا لکھا مجھ سے ہزار گنا اچھا ہوتا ہے۔ تقریب میں موجود ایک صاحب کا سوال تھا کہ آپ سیاسی کالم کیوں نہیں لکھتے۔ میں نے ہنستے ہوئے جواب دیا 'آپ سیاسی کالم کیوں نہیں پڑھتے؟‘۔ اصل میں مجھے لگتا ہے کہ کالم نگاری میں سیاست پر لکھنا شاید بہت آسان ہے کیونکہ روزانہ کا مواد آپ کے سامنے موجود ہوتا ہے۔ اِس میں مشکل نہیں‘ کوئی تخلیقی دبائو نہیں‘ دماغ کی پریکٹس نہیں۔ جبکہ مزاح لکھتے ہوئے مجھے پورا زور لگانا پڑتا ہے‘ شاعری کی طرح جملے کی ساخت کو جانچنا پڑتا ہے‘ موضوع پر ڈنڈ بیٹھکیں لگانا پڑتی ہیں۔ کالم تو خیر اچھا نہیں لکھا جاتا لیکن ذہن کی اچھی خاصی ورزش ضرور ہو جاتی ہے۔ اسی ورزش نے ابھی تک ہوش و حواس قائم رکھے ہوئے ہیں۔ مجھے اعتراف ہے کہ مجھ سے کئی غلطیاں بھی سرزد ہو جاتی ہیں لیکن ایسا اس لیے ہوتا ہے کیونکہ ایسا ہوتا ہے اور ہوتا رہے گا۔ ملتان سے ہو کر آیا ہوں تو ایسا لگ رہا ہے جیسے دوبارہ جنم لیا ہے۔ اور اب سب سے دلچسپ بات۔ کراچی سے آئی ہوئی ایک خاتون نے تقریب کے اختتام پر مجھ سے پوچھا کہ کیا اِس موسم میں ملتان سے گرما مل جائے گا۔ میں نے حیرت سے وجہ پوچھی تو کہنے لگیں ''بڑا سنا ہے کہ 'گرد گرما گدا و گورستان‘‘۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *