کینسر کے شکار رومن رینز کی ریسلنگ میں واپسی کب تک ہوگی؟

ڈبلیو ڈبلیو ای کے مقبول ترین ریسلرز میں سے ایک رومن رینز رواں ہفتے اچانک یونیورسل چیمپئن کے ٹائٹل سے دستبردار ہوکر عارضی طور پر ریسلنگ کو الوداع کہہ گئے۔

پیر کو ڈبلیو ڈبلیو ای شو را میں رومن رینز نے انکشاف کیا تھا کہ انہیں لیو کیمیا یا خون کے کینسر کی ایک قسم کا سامنا ہے جس کی وجہ سے وہ ریسلنگ سے کچھ عرصے کے لیے دوری اختیار کررہے ہیں۔

مگر بگ ڈاگ کے نام سے معروف ریسلر کتنے عرصے تک ڈبلیو ڈبلیو ای رنگ سے دور رہیں گے؟

تو اس کا جواب لیو کیمیا کے ایک ماہر ڈاکٹر جوزف الورانز نے دیا ہے۔

ہولی وڈ لائف کو دیئے گئے انٹرویو میں ڈاکٹر نے بتایا کہ رومن رینز کم از کم ایک سال تک ڈبلیو ڈبلیو ای میں واپس نہیں آسکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ یہ علاج کی پیشرفت پر ہوگا کہ رومن رینز کب معمول کی سرگرمیوں کو دوبارہ اپناسکیں گے، مگر عام طور پر ایسے مریضوں کو اس کے لیے کم از کم ایک سال یا اس سے زائد وقت درکار ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا 'یہ تعین کرنا بہت مشکل ہے کہ علاج کے بعد رومن رینز کی ریسلنگ میں واپسی کب تک ہوگی، اس کے لیے متعدد عناصر کو دیکھنا ہوگا'۔

لیوکیمیا کی 2 اقسام ہوتی ہیں، تاہم رومن رینز نے فی الحال واضح نہیں کیا کہ ان کا کینسر کس طرح کا ہے، تاہم ایک قسم کے کینسر کا علاج زیادہ سخت ہے جبکہ دوسرے کا علاج اتنا مشکل نہیں۔

ڈاکٹر نے بتایا کہ لیوکیمیا کی ایک قسم کے علاج میں کیموتھراپی اور دیگر طریقہ علاج کافی سخت ہوتا ہے جبکہ مریض کا میرو یا بلڈ اسٹیم سیل ٹرانسپلانٹ بھی علاج کے لیے ایک طریقہ سمجھا جاتا ہے۔

اس مرض کی دوسری قسم کو زیادہ خطرناک نہیں سمجھا جاتا اور اس کا علاج کیموتھراپی یا انسداد سرطان ادویات سے ممکن ہے جو کہ لیوکیمیا کو کنٹرول کرتی ہیں۔

ڈاکٹر نے کہا کہ علاج کے ساتھ ساتھ رومن رینز کو دوستوں اور خاندان کے تعاون کی بھی ضرورت ہوگی جو ان کا خیال رکھ سکیں۔

پیر کو را میں بات کرتے ہوئے رومن رینز نے کہا تھا ’میں گزشتہ 4 سالوں سے اس ریسلنگ رنگ میں آرہا ہوں، بطور رومن رینز میں نے بہت کچھ کہا، لیکن وہ سب جھوٹ تھا‘۔

چیمپیئن ریسلر کا کہنا تھا کہ یہ سب اس لیے جھوٹ ہے کیونکہ ان کا اصل نام جو (جوزف انوئے) ہے اور وہ گزشتہ 11 برس سے لیوکیمیا کا شکار ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ یہ بیماری انہیں واپس آگئی ہے اس لیے وہ اب مزید ریسلنگ نہیں لڑ سکتے اور انہیں اپنا یونیورسل چیمپئن شپ کا ٹائٹل چھوڑنا پڑے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *