’آصف زرداری جانتے ہیں احتساب کے ادارے حکومت کے ماتحت نہیں‘

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ آصف زرداری جانتے ہیں کہ احتساب کے ادارے حکومت کے تابع یا ماتحت نہیں ہیں۔

ملتان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ احتساب کا عمل شفاف طریقے سے جاری رہنا چاہیے اور ہم بلاتفریق احتساب کے قائل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ احتساب کے ادارے یا عدالتیں حکومت کے تابع ہیں نہ ماتحت ہیں، وہ آزاد ہیں اور ازخود کارروائی کرتے ہیں، حکومت کا نہ تو ان پر زور ہے نہ ہی وہ ہمارے کہنے پر کارروائی کرتے ہیں اور آصف زرداری بھی یہ بات جانتے ہیں کیونکہ وہ حکومت میں رہے ہیں اور سارے معاملات سے واقف ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ مجھ ہر جانب سے حملہ ہو رہا ہے یہ سارا جھگڑا 18 ویں ترمیم کا ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ میں جس دوست کو فون کرتا ہوں، اسے اٹھالیا جاتا ہے، ٹنڈوالٰہ یار میں صنعت سازی کے لیے دوست سے رابطہ کیا تو انہیں بھی اٹھالیا گیا، ایک دوست کو فون کیا کہ اس کی فصلیں کیسی رہیں، تو بعد میں پتا چلا کہ اسے بھی اٹھالیا گیا۔

صحافیوں سے گفتگو میں شاہ محمود قریشی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس کا کوئی مقصد ہوتا ہے لیکن مجھے اس اے پی سی کا کوئی مقصد سمجھ نہیں آیا۔

انہوں نے کہا کہ پہلے جو اتحاد بنتے تھے، کبھی جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد ہوتی تھی تو کوئی اتحاد بنتا تھا اور منطق دکھائی دیتی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس اے پی سی کا بنیادی ایجنڈا میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ وہ چاہتے کیا ہیں، حکومت کو آئے ہوئے 65 دن ہوئے ہیں جبکہ پاکستان کے جو مسائل ہیں وہ 60 روز میں تو پیدا نہیں ہوئے اور اے پی سی کی جماعتیں اس سے باخبر ہیں۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ عوام بھی باخبر ہیں کہ اصل مسائل کیا ہیں اور ان کا ذمہ دار کون ہے، اے پی سی کا مقصد اگر جمہوریت کو متزلزل کرنا ہے تو یہ کوئی مثبت قدم نہیں ہوگا۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ کسی شخص کی خواہش پر کوئی شخص گرفتار یا رہا نہیں ہوسکتا یہ فیصلہ عدالتوں نے کرنا ہے اور یہ قانونی طریقہ کار ہے۔

جنوبی پنجاب صوبے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ ایک ضرورت بھی ہے اور خواہش بھی جبکہ یہ ہمارے منشور کا حصہ بھی ہے لیکن اس کے لیے اتفاق رائے چاہیے، جس کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے کیونکہ کسی ایک جماعت کے پاس اتنی اکثریت نہیں ہے کہ وہ آئینی ترمیم کرسکے۔

انہوں نے کہا کہ آئینی ترمیم کے لیے دو تہائی اکثریت چاہیے اور اس کے لیے اپوزیشن کا ساتھ چاہیے، لہٰذا ہماری کوشش ہوگی کہ تجاویز تیار کر کے تبادلہ خیال کیا جائے۔

سندھ میں گورنر راج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ایسی کوئی خبر نہیں سنی، سندھ میں ایک حکومت چل رہی ہے، جس کی اکثریت ہے، مجھے گورنر راج کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا یہ من گھڑت خبریں ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *