ڈان نے نوید ملک سے رشوت کے الزامات پر معزرت کر لی

ملک نوید نے کے الیکٹرک کی سیل میں اثر ورسوخ استعمال کرنے کی خبر کی تردید کر دی ۔

ناوید ایچ ملک  جو کہ ایک مشہور بزنس مین ہیں، نے  وال سٹریٹ جرنل کی طرف سے لگائے گئے الزامات کی سختی سے  تردید کی ہے۔ یہ الزامات ڈیلی ڈالن میں 18 اکتوبر 2018 کو   شائع ہونے والے آرٹیکل : ابراج کے بانی نے شریف خاندان کے ساتھ اثر رو رسوخ استعمال کرنے کی کوشش کی۔ وال سٹریٹ جرنل کا دعوی ' میں شائع ہوئے تھے۔ خاص طور پر انہوں نے کہا ہے کہ انہوں نے کبھی ابراج گروپ کو کسی سیاستدان کو کے الیکٹرک کی خریداری کے سلسلے میں  پیسے دینے یا لینے کا نہیں کہا۔

ناوید ملک نے  کہا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف شنگہائی الیکٹرک (کے الیکٹرک کے ممکنہ خریدار) کی ایک ٹیم کے ساتھ چیئر مین ابراج گروپ مسٹر عارف نقوی سے ملے۔ مسٹر ملک کے مطابق اس میٹنگ میں مسٹر شریف کو کے الیکٹرک کی  فروخت کے معاملے میں سرعت لانے  کے لیے مداخلت کی درخواست کی گئی تھی  لیکن اس وقت کے وزیر اعظم نے حیران کن طور پر کہاکہ ایسے کسی لین دین میں حکومت پاکستان کے مفاد کو مقدم رکھا جائے، شفافیت یقینی  بنائی جائے اور کسی شاٹ کٹ کی اجازت نہ دی جائے۔ مسٹر ملک نے کہا کہ وہ مسٹر شہباز کی مسٹر نقوی یا ابراج گروپ کے کسی دوسرے رکن کے ساتھ کسی میٹنگ  کے بارے میں نہیں جانتے۔ انہوں نے بیان دیا کہ وزیر اعظم کے ساتھ  اس میٹنگ کو تقریبا تین سال گزر چکے ہیں اور عوام جانتے ہیں کہ کے الیکٹرک کی فروخت کا معاملہ  پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ پایا۔

مسٹر ملک  کا کہنا تھا  کہ ان کی قانونی ٹیم وال سٹریٹ جرنل اور دوسروں کے خلاف توہین آمیز مواد شائع کرنے اور پھیلانے کی وجہ سے مقدمہ دائر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

ڈان کی طرف سے پیش کی جانے والی رپورٹ بڑی حد تک وال سٹریٹ جرنل کی طرف سے شائع ہونے والی رپورٹ  پر مبنی ہے اور یہ اس  ادارے کی ذاتی رپورٹنگ نہیں ہے۔ وال سٹریٹ جرنل کی طرف سے شائع کی جانے والی اصل رپورٹ  میں یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ دعوی نہیں کیا گیا کہ مسٹر ملک نے ابراج گروپ سے 20 ملین  امریکی  ڈالر شریف برادران کو ادا کرنے کے لیے کہا اور نہ ہی اس میں یہ لکھا ہے کہ  ایسی کوئی رقوم انہیں ادا کی گئیں۔ اس قسم کے کسی  ممکنہ تاثر کے لیے ڈان کی  ٹیم معذرت  خواہ  ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *