ہمارے سیدھے سادےوزیراعظم !

 میرا دل چاہتا ہے کہ میں یہ مان لوں کہ ہمارے وزیراعظم سارا دن اپنے دفتر میں اس گتھی کو سلجھانے میں غلطاں و پیچاں رہتے ہیں کہ اس ملک کےمعاشی مسائل کیسے حل ہوں گے؟ اسی لیے کبھی وہ اپنے خرچے کم کرتےبیں ، کبھی سبسڈی ختم کرنے کی ترکیب لڑاتے ہیں ، کبھی ٹیکسوں کی شرح بڑھانے کے ٹوٹکے لڑاتے ہیں۔ کبھی قرض کی مے کا اہتمام کرتے ہیں کہ اگرچہ  یہ حرام ہے لیکن جان پر بنی ہو تو کیا حرج ہے  ۔ لیکن دل کی اس بات کے جواب میں دماغ کہتا ہے کہ جو شخص دو عشروں سے ملک کی قسمت بدلنے کے خواب دیکھ رہا ہو اور سابقہ حکومتوں کی کاکردگی پر دن رات خون کے آنسو بہاتا رہا ہو ، اس کی اپنی کوئی  پلاننگ ،کو ئ سوچ نہیں تھی ؟ اس نے اپنے متوقع وزراء اعلیٰ، قابل اور دیانت دار کابینہ کے بارے میں  نہیں سوچا تھا ؟ کیا وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ کانٹوں  کی سیج پر سونے جا رہا ہے؟ کیا یہ ایمان دار لیڈر بھی بلی بھاگوں چھیکا ٹوٹا کے مصداق چلیں گے؟ جیسے ماضی روس امریکہ کی پراکسی وار میں اپنا  بھتا وصول کر لیا ، کبھی دہشت گردوں اور عالمی طاقتوں کے درمیان ڈبل کراس گیم کھیلتے ہوئے اپنا الو سیدھا کر لیا تو کبھی زلزلوں اور دوسری آسمانی آفتوں پر رونی صورت بنا کر عالمی بھکاری بن گئے۔ اور آج خاشقجی کی ظالمانہ موت پر دم سادھ لیا۔یمن کی ثالثی اور خلیج کی تلخی کو کم کرنے کا ٹھیکا لے لیا ہےاور اپنا حال یہ ہے کہ مولوی خادم حسین ہو یا حافظ سعید، سب پٹے تڑوا کر کھلے پھر رہے ہیں اور پور ی دنیا کی پین کی سری توڑنے کے نعرے لگا رہے ہیں۔
میرا یہ ماننے کو بھی جی چاہتا ہے کہ ہمارے چیف جسٹس اور نیب کے کرتا دھرتا  ،  واقعی بلا امتیاز انصاف کرنا چاہتے  ہیں لیکن پھر میرے سامنے پرویز مشرف، آصف زرداری، شرجیل میمن ،عزیر بلوچ، عابد باکسر، احسان اللہ احسان،  اسامہ بن لادن ایبٹ آباد کیس ، مشال قتل کیس ، بلدیہ ٹاؤن کیس ، ماڈل ٹاؤن لاہور سانحہ کیس ، پاناما سکینڈل کے دوسرے تین سو  سے زائد نام اوراس طرح کے متعدد خو ف ناک اور شرم ناک کیس سا منےآجاتے ہیں اور میں یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہوں کہ کون سی وجہ ہے کہ صرف اور صرف  سب سے بڑے سیاسی حریف شریف خاندان ہی کو انصاف کی  بھٹی میں ڈالا جا رہا ہے ؟ کیا اس الجھن کی کوئی الجھن ہے ؟
ہمارے لاڈلے  وزیراعظم قوم کو  قرض کا پٹرول ملنے پر مبارکباد دیتے ہوۓ برسبیل تذکرہ فرماتے ہیں کی یہ چور مجھ  سے این آر او مانگ رہے ہیں مگر میں اسی طرح غیرت سے مر جاؤں گا جس طرح قرض کے لیے ہاتھ پھیلا تے ہوئے مرا ہوں لیکن ان ڈاکوؤں سے کوئی ڈیل نہیں ہو گی۔ خیال ہوا کہ نواز شریف اور مریم نواز خاموشی اختیار کر چکے ہیں لگتا ہے کہ وزیراعظم درست فرما رہے ہیں لیکن پھر یاد آیا کہ کیا موصوف اپنے سیاسی دشمنوں کے عیبوں کی پردہ داری فرمانے کی تاریخ رکھتے ہیں یا ان کی ہر کردہ نا کردہ حرکتوں کو بیچ چوراہے میں بیان کرنے کاناقابل تردید ریکارڈ ؟ اور اس پر ان سے پوچھا بھی جاتا ہے کہ بھئی کوئی نام ،کوئ ثبوت کہ کس نے رعایت مانگی ؟
لوگ کہتے ہیں کہ این آر او تو آپ ان تمام لوگوں سے کر چکے جو ہر حکومت میں دونوں ہاتھوں سے لوٹ مار میں ملوث رہے لیکن آپ نے ان کو الیکٹیبل قرار دے کر گلے کا ہار بنا لیا ۔ یہی وہ موقع ہے جب ہمیں وزارت عظمیٰ کا تاج سر پر سجا کر قوم کی قسمت بدلنےوالے اس لیڈر بے مثل کاعزم یاد آتا ہے اور پھر ایک  شاعر یاد آتا ہے ۔
اس شاعر کو بھی اپنی فاقہ مستی کے باوجود دوستوں کے خدمت کا بہت شوق تھا۔ اس نے  بڑے اصرار سے اپنے دوستوں کو گھر دعوت پر مدعو کیا۔ دوست حیران تھے کیونکہ ان کی اوقات معلوم تھی ۔ مگر موصوف کی پر خلوص ضد پر بادل ناخواستہ مان گئے۔ گھر پہنچے،مہمانوں کو عزت سے ڈراینگ روم میں بٹھایا۔ خود زوجہ محترمہ کے حضور حاضر ہوئے اوردوستوں کے لیے کھانا پکانے کی التجا کی۔ انھوں نے دیدے نچائے کہ گھر کی حالت معلوم نہیں؟  مگر وہ کہنے لگے کہ کچھ بھی بنا لو۔ تب وہ غصے میں بولیں : خاک ہے ، پکا لوں ؟شوہر نام دار نے آہستہ بولنے کی گزارش کی اور نقص امن کے ڈر سے واپس ڈرائنگ روم میں آنے تو دوستوں نے تسلی دی کہ ہم تو پہلے ہی صورتحال سے آگاہ تھے۔ مگر آپ نے خوامخواہ تکلف کیا۔ مگر وہ شاعر صاحب بھی کمال کے آدمی تھے ۔ بولے : میری بیوی کی بات سے بدمزہ ہو گئے؟ ارے بھائی ،شاعر کی بیوی ہے ، ادبی اسلوب میں ہی بات کرے گی نا ۔ دوست نے عرض کی کہ حضرت، "خاک" میں کون سا ادبی اسلوب ہے ، یہ کون سی رعایت لفظی ہے ؟ بولے ، میری نصف بہتر کی بلاغت کی داد دیجیے۔۔۔۔ انھوں نے " خاک " کہہ کر اصل میں گوشت کہا ہے ! دوستوں نے حیرت سے اس بلاغت کی تفصیل چاہی تو گویا ہوئے: ارے صاحب، آپ لفظ " خاک " کو الٹیں تو کیا بنا؟" کاخ " نا !اور کاخ کا مطلب ہوتا ہے "محل". اب اس کو الٹا کریں تو بنا " لحم " اور لحم تو آپ جانتے ہیں ، گوشت ہی کو کہتے ہیں! اور پھر وہ داد طلب نظروں سے دوستوں کی طرف دیکھنے لگے ۔
اب آپ یہ مت پُوچھیے گا کہ شاعر سے مراد  وزیر اعظم عمران خان ہیں یا وزیر خزانہ اسد عمر !یا نعیم الحق !
 جو بھی ہو بس یہ بتا دیجیے گا اگر خاک سے مراد گوشت  ہے  بھی تو وہ کہاں سے آئے گا ؟ چنانچہ اسی مشکل کا سوال ہمارے  سادا وزیر اعظم نے اس ماسی  مصیبتے کو دیا تھا جو ان تین میں سے ایک تھی جن کو سعودی عرب جانے سے پہلے انٹرویو دیا تھا۔ اور جس نے وزیراعظم سے مصافحہ کرنے کی تصویر جاری کر دی۔ تو حضور ! یہ الٹی قلابازیوں کا کھیل کب تک چلے گا؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *