ڈونکی کنگ اور عالمی طاقتیں!

کیا ڈونکی کنگ عمران خان ہیں؟ شیر کا کردار نواز شریف کو ظاہر کرتا ہے؟ اور یہ لومڑی کیا اسٹیبلشمنٹ کا استعارہ ہے؟ کیا یہ فلم بچوں کی آڑ میں پاکستانی سیاست پر گہرا طنز (Political Satire) ہے ، کیا اس کا پلاٹ جارج اورول کے شہرہ آفاق ناول اینیمل فارم سے ماخوذ ہے ؟ یہ تھے وہ سوالات جن کا جواب جاننے اور بچوں کی زوردار فرمایش پوری کرنے ہم سینما گھر جاپہنچے۔ دل میں ڈر بھی تھا کہ بھلا پاکستانی فلم سے کیا توقع ہو سکتی ہے جبکہ ہالی وڈ اس میدان میں بہت آگے جا چکا ہے۔ لیکن صاحب ہم فلم دیکھ کر شدید ۔۔۔۔۔۔، مگر ٹھہریے،اس سے قبل کہ ہم کوئی،،" شدید" تبصرہ کر ڈالیں ، آئیے آپ کو قبل از مسیح کے ایک عظیم ہندو دانشور مصنف سے ملاتے ہیں ۔
  اس کا نام ہے"بید پائے ، یا وشنو شرما "۔ یہ ایک پنڈت تھا۔اس نے ایک کتاب لکھی جس کا نام ’پنج تنتر‘ یا پانچ شاستر تھا .کتاب فکشن کے انداز میں تھی۔ اس میں مرکزی  کردار دو گیدڑوں کا ہے ۔یہ اپنے بادشاہ کو دانائی سے بھری حکایتیں در حکایتیں سناتے ہیں ۔ دنیا کی  اکثر کہانیاں جن کے کردار جانور ہیں اور جو انسانوں کو قیمتی باتیں اور حکومت سے لے کر کاروبار کرنے اور کامیاب زندگی گزارنے کے گر سکھاتی ہیں ، اسی پنج تنتر سے ماخوذ ہیں۔اس کتاب کے بارے میں یہ مشہور تھا کہ اس میں ایسے منتر ہیں کہ مردے سنیں تو زندہ اٹھ کھڑے ہوں۔  ۔اس کتاب تک شاید انسان  کی رسائی نہ ہوتی، لیکن ایرانی بادشاہ نوشیرواں نے اپنے وزیر" بزور ویہ "کے ذریعے سے بڑی مہم جوئی کے بعداسے حاصل کیا۔ اس کا فارسی ترجمہ کرایا۔ پھر عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور کے حکم پر ایک عالم عبداللہ بن المقفع نے اسے عربی میں منتقل کیا اور اس کا نام ’کلیلہ ود منہ‘ رکھا۔ کلیلہ اور دمنہ وہی دو گیدڑوں کے نام ہیں۔

قصہ در قصہ حکایتوں میں چلنے والی اسی داستان کو مُلاحسین بن علی الواعظ کاشفی نے امیر شیخ احمد سُہیلی کی فرمایش پر پندرھویں صدی میں دوبارہ مرتب کیا اور اسے ’انوارِسُہیلی‘ کا نام دیا۔

ہندوستان میں شاہنشاہ اکبر کے حکم سے اس قصے کو ابوالفضل نے’عیار دانش‘ کے نام سے تحریر کیا۔ اس کے بعد اس کتاب کے متعدد ترجمے ہوتے رہے جن میں زیادہ مشہور  شیخ حفیظ الدین کا ترجمہ ’خرد افروز‘ ہے ۔ اسے  فورٹ ولیم کالج سے 1802 تا 1805 میں شائع کیا گیا۔  یہ ترجمہ ابوالفضل کے ترجمے سے کیا گیا۔

اب یہ کتاب دنیا کی کم سے کم چالیس کے قریب زبانوں میں موجود ہے اور ان تمام تراجم کا ماخذ عربی ترجمہ کلیلہ و دمنہ ہے۔ یہ کتاب 1983 میں استاد محترم جناب جاوید احمد غامدی نے عربی کے ریڈر کے طور پر ہمیں پڑھائی۔  تو جناب اصل میں یہ ہے ڈونکی کنگ کی اصل بنیاد۔ لیکن اس ساری داستان کے بعد یہ مت سمجھیے گا کہ ڈونکی کنگ کی کہانی چربہ ہے۔ فلم کی کہانی ایک اعلیٰ درجے کی تخلیقی کاوش ہے۔ لیکن یہ کرداروں سے لے کر صدا گاری تک ، منظر نگاری سے ایکشن تک معروف ٹی وی اور  سینما کے کرداروں کا انتہائی عقل اور مہارت سے استعمال ہے۔ اس حوالے سے شاید اس میں نیا کچھ بھی نہ ہو لیکن اس کی اعلیٰ ٹریٹمنٹ نے اسے شاہکار بنا دیا ہے۔ آپ اسے ہر گز نقالی نہیں کہ سکتے۔ فلم سے دلچسپی اتنی کہ بڑوں سے بچوں تک ایک لمحے کے لیے  بھی کوئی غافل ہونا پسند نہ کرے۔ اور مسکراہٹوں، قہقہوں اور تالیوں کے ہمراہ جب آپ فلم مکمل کرتے ہیں تو بڑے سر جھٹکتے ہیں کہ اچھا ! ہمارے حکمران عالمی سرکس میں تماشا دکھانے والے مجبور محض کردار ہیں اور بچے نعرے لگا رہے ہوتے ہیں کہ بہت مزا آیا !

بلاشبہ فلم میں مولیوں والے پراٹھے کھا کر بدبو چھوڑ کر پہرےدارگینڈے کو بے ہوش کرنے کے سطحی مذاق بھی ہیں لیکن یہ پر حکمت جملہ بھی ملے گا کہ گدھے کےگدھا پیدا ہونے میں اس کا قصور نہیں لیکن اگر وہ موقع ملنے پر بھی گدھا ہی رہتا ہے تو وہ قصور وار ہے ۔ یہ بات بھی غلط ہے کہ فلم  میں کسی سیاست دان یا اینکر پرسن کو علامتی طور پر دکھایا گیا ہے۔ لیکن کہیں کہیں طرز تخاطب یا واقعات کی تھوڑی بہت مماثلت سے آپ کو لگے گا کہ یہ حمزا شہباز ہے یا مبشر لقمان۔ لیکن ذرا غور کرنے پر مطمئن ہو جائیں گے کہ ایسا نہیں۔ البتہ مس فتنہ کو دیکھ کو آپ سمجھ جائیں گے کہ ہماری بیروکریسی کیسے کام کرتی ہے ، کہنے کو آزاد نگر کی آزاد صحافت اور جمھوری اقدار کی طرف داری لیکن اصل مقتدر قوتیں کیسے ان اداروں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں ، اس میں کلیلہ دمنہ سے لے کر ڈونکی کنگ کی کہانی ایک سی ہے ۔ پاکستان میں عمران خان کی جیت ہو یا منگو دھوبی کا کنگ بننا، اصل میں ایک ہی طریقہ واردات ہے۔ مزےکی بات ہے کہ بچوں کو ان بلیغ استعاروں سے کچھ لینا دینا نہیں وہ فلم کی سادہ سی کہانی کے شرارتی سے کرداروں کو خوب انجوائے کرتے ہیں  لیکن جب وہ بڑے ہو کر اس فلم کے واقعات کو یاد کریں گے تو ان کی سمجھ میں سب کچھ آجاۓ گا۔ اس نے بلاشبہ فلم کو دو دھاری تلوار  بنا دیا ہے ۔ اور تلوار بھی وہ جس کاٹ بڑی تیر بہدف ہے۔ مقصدیت اور تفریح کا حسین امتزاج لیے ہم اس فلم کی تحسین اس لیے بھی کریں گے اسے بنا کر انویسٹرز نے بھاری رسک لیا ہے۔ اور اس لیے بھی اس سے پاکستان میں اینیمیٹڈ فلموں کا دروازہ کھل سکتا ہے۔ روزگار کے نئے مواقع پیدا کئے جا سکتے ہیں۔  ہم جیسے بچوں کے لیے لکھنے والوں کے لیے بھی فتوحات کے نئے ابواب رقم کرنے کے مواقع مل سکتے ہیں۔

آخر میں ہم ان طاقتوں کو پیغام دینا چاہیں گے جو لوگوں کے منہ سی کر ،قلم توڑ کر ، بندوق چلا کر یا جیلیں آباد کرکے سمجھتے ہیں انھوں نے اظہار رائے پر فتح حاصل کر لی ہے ،یا اپنا الو سیدھا کر لیا ہے۔ نہیں اصل میں وہ ایسا کرکے معاشرے کی تخلیقی قوت کو مہمیز دیتے ہیں۔ ادب اور آرٹ کے نئے زاویوں کی راہ ہموار کرتے ہیں ۔ ان قوتوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ اظہار رائے کی آزادی اس دنیا کی بنیاد ہے۔ یقین نہیں تو آدم و شیطان کی داستان ہی کو دیکھ لیں ۔کیا شیطان پر رحمان نے  کوئی پابندی لگائی؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *