کیا ہمارے مقدر میں آسانیاں نہیں ہیں؟

ایک عرصے بعد گھر میں رونق لگی تھی اور دو دن ہوئے اداسی کا راج ہے۔ دو ماہ پہلے سارہ آسٹریلیا سے آئی۔ اس کا ماسٹرز مکمل ہوگیا تھا۔ جولائی میں اس کی گریجوایشن کی تقریب میں گیا۔ اس نے انجینئرنگ کے شعبہ کنسٹرکشن مینجمنٹ میں ماسٹرز درجۂ تخصیص (Distinction) میں کیا تھا۔ میں آسٹریلیا میں پندرہ دن رہا اور واپس آگیا۔ میرے آنے کے پندرہ بیس دن بعد سارہ پاکستان آگئی اور قریب دو ماہ سے زیادہ عرصہ یہاں رہی۔ اسی دوران کومل پاکستان آگئی۔ اس کے دونوں بچے یہاں پاکستان میں تھے۔ دونوں بچے جنوری میں پاکستان آئے تھے۔ تب سیفان کی عمر تین سال اور ضوریز ایک سال تین ماہ کا تھا۔ وہاں امریکہ میں کومل اور اس کے شوہر عہد آفرین کی میڈیکل کی روٹیشن کافی سخت چل رہی تھی اور مہینہ مہینہ بھر رات کی ڈیوٹیاں تھیں۔ بچے ایک مصری ''نینی‘‘ کے پاس سارادن گزارتے تھے‘ لیکن رات کا مسئلہ تھا۔ اوپر سے یہ ہوا کہ اس مصری خاتون کو اس کے گھروالوں نے واپس بلالیا۔ ڈے کیئر سنٹرز صبح سے شام تک تو رکھتے تھے‘ مگر اس کے بعد بچوں کا کوئی پرسان حال نہ تھا۔ بچوں کے دادا، دادی اور انعم نے کہا کہ بچوں کو پاکستان بھیج دیں ہم دیکھ لیں گے۔ جنوری میں بچے پاکستان آگئے۔
کومل اور عہد دونوں یونیورسٹی آف ٹو لیڈو میں اپنی میڈیکل کی سپیشلائزیشن مکمل کر رہے ہیں۔ عہد آفرین نیورولوجی میں ریذیڈنسی کے آخری سال میں ہے اور کومل انٹرنل میڈیسن میں ریذیڈنسی مکمل کرنے کے بعد Infectious Diseases میں فیلو شپ کر رہی ہے۔ اس کا یہی سال مشکل تھا ‘لہٰذا اس مشکل کا حل یہی نکالا گیا کہ بچے پاکستان آجائیں‘ سو وہ یہاں آگئے اور گزشتہ دس ماہ ان کی وجہ سے بڑی رونق لگی رہی۔ اگست میں سارہ آگئی، اکتوبر میں کومل آگئی اور پندرہ دن ایسے گزرے کہ انعم، سارہ، کومل اور اس کے بچے‘ سب اکٹھے ہوگئے۔ گھر ایکدم سے بھر گیا۔ قہقہے، شور شرابا، بچوں کا رولا، دونوں بھائیوں کی شرارتیں، اور دل لبھانے والی حرکتیں۔ ان بچوں کو ان کی دادی اور دادا نے ایسا پیار دیا کہ الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ ضوریز تو دادا کے ساتھ ایسا جڑ گیا کہ رات بھی انہی کے ساتھ سوتا تھا اور ان کے دفتر سے آتے ہی ان کی گود میں ایسا چڑھتا کہ اترنے کا نام نہ لیتا۔ سیفان انعم کا دیوانہ تھا۔ اسے اپنا ہم عمر سمجھتا اور سارا دن بھگائے پھرتا۔ اپنی والدہ کے ماموں کامران کے بچوں سے ایسی دوستی ہوگئی کہ گھر سے باہر جانے کے لئے ان کے گھر کا نام لے کر گاڑی میں بٹھاتے تو تب جا کر کہیں وہ گاڑی میں بیٹھنے پر راضی ہوتے۔ چودہ اکتوبر کو سارہ آسٹریلیا واپس چلی گئی اور اٹھائیس تاریخ کو کومل‘ عہد اور بچے امریکہ روانہ ہوگئے۔ گھر ایکدم سونا ہوگیا۔ واپس گھر جاتا ہوں تو کچھ سمجھ نہیں آتا کیا کروں۔ مجھ سے زیادہ انعم اداس ہے کہ شام سے لے کر رات گئے تک بچے اس کے ساتھ کھیلتے تھے اسے ایسا مصروف رکھتے کہ بعض اوقات تو کمرے سے باہر نہیں جانے دیتے تھے۔
کومل یکم اکتوبر کو اور عہدآفرین پندرہ اکتوبر کو پاکستان آیا۔ عہد آتے ہوئے اپنی گاڑی شکاگو ایئر پورٹ پر چھوڑ آیا تھا۔ وہ یہی کرتے ہیں کہ پاکستان آتے ہوئے سامان وغیرہ اپنی گاڑی میں لاد کر شکاگو آتے ہیں اور گاڑی کو لمبی پارکنگ میں کھڑی کر کے اس کی ٹکٹ لیتے ہیں۔ واپسی پر دنوں کے حساب سے ادائیگی کرتے ہیں اور اپنی گاڑی میں بیٹھ کر ٹو لیڈو چلے جاتے ہیں۔ یہ روٹین گزشتہ کئی سال سے تھی۔ ان کو قریب ترین انٹرنیشنل ایئر پورٹ شکاگو کا ہی لگتا ہے۔ جب وہ گرینڈ ریپڈز میں تھے تب بھی اور اب ٹولیڈو میں ہیں تب بھی۔ ٹولیڈو سے شکاگو کا فاصلہ تین سو نوے کلو میٹر کے لگ بھگ ہے اور قریب چار گھنٹے کا سفر ہے۔ میں نے پوچھا :گاڑی کہاں کھڑی کی ہے؟ کہنے لگے: لانگ پارکنگ والے ایریا میں۔ میں نے ہنس کر پوچھا: پھر وہیں کھڑی کی ہے؟ کومل ہنسنے لگ گئی۔ کہنے لگی: جی بابا جان! وہیں کھڑی کی ہے۔ گزشتہ بار بھی فائدہ ہوگیا تھا اس لئے پھر وہیں کھڑی کی ہے۔ 2016ء میں وہ پاکستان آتے ہوئے اپنی گاڑی اسی طرح لانگ پارکنگ میں چھوڑ آئے اور اس کی چابی ان کے سکیورٹی آفس میں جمع کروا کر رسید لے آئے۔ پاکستان سے واپس امریکہ پہنچے اور سکیورٹی آفس میں رسید دکھا کر چابی مانگی۔ چابی تلاش کی تو ندارد۔ سیفان ساتھ تھا۔ دسمبر کا مہینہ اور شدید سردی۔ مشی گن جھیل سے چلنے والی سرد ہوا ایسی کاٹ دار کہ گرم کپڑے بھی اس سردی کو برداشت کرنے سے عاجز۔ کومل اور سیفان کو سکیورٹی آفس میں کھڑا کرکے عہد خود پارکنگ میں گیا ‘وہاں گاڑی موجود نہیں تھی۔ پتا چلا کہ گاڑی چوری ہوچکی ہے اور صرف انہی کی نہیں بلکہ پانچ چھ دوسری گاڑیاں بھی چوری ہوگئی تھیں۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ کسی سکیورٹی اہلکار کی ملی بھگت کے بغیر گاڑیاں چوری ہوتیں؟ گاڑیاں پارکنگ میں کھڑی تھیں۔ ان کی چابیاں سکیورٹی والے کمرے میں تھیں۔ کمرہ ہمہ وقت اندر سے لاک رہتا اور چابیاں جمع کروانے‘ رسید لینے اور واپسی پر رسید جمع کروانے اور چابیاں واپس لینے کا عمل کھڑکی سے ہوتا ہے ‘ غیر متعلقہ فرد کا کمرے کے اندر جانا ممکن نہیں۔ پارکنگ فیس کی ادائیگی پارکنگ ایریا سے باہر جانے والے دروازے کے ساتھ لگی مشین میں ہوتی ہے اور اس میں سکیورٹی آفس سے ملنے والی رسید کے مطابق ادائیگی کے بعد آپ پارکنگ سے باہر آسکتے ہیں۔ گاڑیوں کی چابیاں سکیورٹی کے کمرے سے چرالی گئیں۔ بغیر کارڈ کے بیرونی گیٹ کھولا گیا اور پانچ چھ گاڑیاں لے جائی گئیں۔ سکیورٹی آفس میں بیٹھا ہوا کالا سکیورٹی انچارج اس سارے واقعہ پر بڑا مطمئن بیٹھا ہوا تھا اور انہیں یہ بتانے کے بعد کہ آپ کی گاڑی چوری ہوچکی ہے‘ پھر مصروف ہو گیا تھا۔ عہد نے اس سے پوچھا کہ اس چوری کا کون ذمہ دار ہے؟ اس نے کندھے اچکائے اور کہنے لگا: اپنی انشورنس کمپنی سے بات کریں۔
عہد نے وہیں کھڑے کھڑے انشورنس کمپنی کو فون ملایا اور بتایا کہ اس کی گاڑی شکاگو ایئر پورٹ کی پارکنگ لاٹ سے چوری ہوگئی ہے۔ انشورنس کمپنی کے نمائندے نے کہا فکر نہ کریں۔ آپ فی الحال کرائے کی گاڑی لیں اور ٹولیڈو چلے جائیں۔ اس کرائے کی رسید آپ اپنے کلیم میں لگا کر ہمیں دے دیں۔ ہم ادائیگی کر دیں گے۔ ہم کل آپ کو ایک گاڑی گھر بھجوا دیں گے۔ یہ کرائے کی گاڑی ہوگی؛ تاہم کرایہ ہم ادا کریں گے۔ دو ہفتے آپ یہ گاڑی استعمال کریں‘ اس دوران گاڑی مل گئی تو آپ کے گھر پہنچا دی جائے گی بصورت دیگر آپ کو دوسری گاڑی لے دیںگے۔ Depreciation یعنی اس دوران گاڑی کی قیمت میں ہونے والی کمی کو کاٹ کر آپ کو باقی رقم کے مطابق نئی گاڑی فراہم کر دی جائے گی۔ کومل وغیرہ نے ایئر پورٹ سے رینٹ اے کار سے گاڑی لی اور گھر آگئے۔ اگلے روز صبح ایک عدد اسی قسم کی گاڑی انہیں مل گئی۔ ان کی چوری ہونے والی گاڑی پانچ سیٹوں والی Suv تھی۔ دو بچوں کی وجہ سے اب وہ بڑی گاڑی لینا چاہتے تھے۔ لہٰذا انہوں نے انشورنس کمپنی کو دونوں گاڑیوں کی قیمت کے باہمی فرق اور Depreciation کی رقم ڈال کر بقیہ رقم کی ادائیگی کا پلان دے دیا۔ اور سولہویں دن نئی سات سیٹوں والی گاڑی ان کے استعمال میں تھی۔ اس دوران انشورنس والوں نے ان کے مکمل نقصان کا تخمینہ مانگا۔ سیفان کی بچوں والی سیٹ بھی گاڑی میں تھی اور کومل پاکستان آتے ہوئے اپنی موٹی بھاری گرم جیکٹ گاڑی میں چھوڑ گئی تھی۔ انشورنس والوں نے سیفان کی سیٹ کے دو سو ڈالر اور جیکٹ کے اڑھائی سو ڈالر یعنی ساڑھے چار سو ڈالر کا چیک، شکاگو تا ٹولیڈو ٹیکسی کا کرایہ اور کرائے کی گاڑی کا دو ہفتوں کا کرایہ بھی ادا کیا۔ کہیں چکر نہیں لگانا پڑا۔ کوئی بیان حلفی جمع نہیں کروانا پڑا۔ کسی نوٹری پبلک کے دستخط نہیں مانگے گئے۔ ڈیڑھ ماہ بعد ان کی گاڑی شکاگو کے کسی گودام میں کھڑی مل گئی‘ جو انشورنس کمپنی والے لے گئے۔
کیا آسانی سے سارا کام ہوگیا۔ کیا یہ ہمارے ہاں ممکن ہے؟ میں نے کومل کو پرانا واقعہ یاد کروایا تو وہ ہنس کر کہنے لگی: میں نہیں کہتی کہ گاڑی دوبارہ چوری ہو جائے لیکن اگر ایسا ہوا تو ہم نے ایک گاڑی پسند کی ہوئی ہے اب کہ اس گاڑی کے بجائے وہ والی لے لیں گے۔ ایک ہمارے ہاں انشورنس کمپنیاں ہیں کہ بندہ کلیم لینے کے لئے خوار ہو جاتا ہے۔ ہوائی حادثوں میں جاں بحق ہونے والوں کی انشورنس کی رقم لینے کے لئے سپریم کورٹ کو مداخلت کرنی پڑتی ہے اور برسوں بعد بھی وارثوں کو رقم نہیں ملتی۔ اگر یہ سہولتیں یہاں بھی ملنے لگ جائیں جو ناممکن نہیں‘ تو ان آسانیوں سے ہم بھی بہرہ مند ہو جائیں جن سے مغرب والے مزے کر رہے ہیں۔ لیکن ہمارے مقدر ایسے کہاں؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *