بڑھاپا اور ابلیس کی توبہ!

حنیف خالد تخلیقی اور شگفتہ جملے لکھنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ ان کے جملوں میں حکمت کی باتیں بھی ہوتی ہیں، طنز اور شگفتگی بھی ملتی ہے، مگر گندی زبان، گندا لہجہ اور گندا ایکسپریشن آپ کو کبھی نہیں ملے گا جبکہ بعض اینکر کے جملے تخلیقی کم اور گالی گلوچ کے حامل زیادہ ہوتے ہیں۔ فرعونیت ہماری سیاست اور صحافت میں در آئی ہے، دفع کریں یہ بات بھی کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ہم سب کو اللہ سے ڈرتے رہنا چاہیے اور اس مقبولیت کی دعا کرنا چاہیے جو آپ کے قلم سے نکلے ہوئے خوبصورت جملوں کے صدقے میں آپ کو ملےکہ بازاری جملوں کی داد صرف ’’بازار‘‘ ہی سے مل سکتی ہے۔ میں آج آپ کو حنیف خالد کے چند خوبصورت جملے سناتا ہوں، مجھے یقین ہے آپ کوبھی پسند آئیں گے! یہ جملے بڑھاپے کے بارے میں ہیں، جو نوجوان بھی پڑھ سکتے ہیں!

٭ بڑھاپا پوچھ کر نہیں آتا اور نہ دھکے دینے سے جاتاہے۔

٭بڑھاپا مشرق میں مرض اور مغرب میں فراغت کو انجوائے کرنے کا اصل وقت سمجھا جاتا ہے۔

٭بڑھاپے میں دانت جانے لگتے ہیں اور عقل آنے لگتی ہے۔اولاد اور اعضاء جواب دینے لگتے ہیں۔

٭بیوی اور یادداشت کا ساتھ کم ہونے لگتا ہے۔

٭بڑھاپا آپ کے بڑھاپے کا ساتھی ہے، مرتے دم تک ساتھ نبھاتا ہے۔

٭بڑھاپے میں لڑکیاں انکل کہیں تو مائنڈ نہ کریں، ان کے کہنے سے کیا ہوتا ہے۔

٭انسان جرم اور اپنا بڑھاپا بہت مشکل سے قبول کرتا ہے۔

٭بچپن دوسروں کی دلجوئی اور خوشی، جوانی اپنے لئے اور بڑھاپا ڈاکٹروں کی مالی مدد کے لئے ہوتا ہے۔

٭بڑھاپا بے ضرر ہوتا ہے، اس عمر میں شادی نہیں کرنا چاہیے۔

٭اگر آپ کے منہ میں دانت بچ گئے ہیں تو تنہائی میں غم بھلانے کے لئے سیٹی بجائیں، بتیسی اگر ہے تو رسک نہ لیں ورنہ بتیسی باہر آ سکتی ہے۔ سیٹی بجانے سے پہلے ارد گرد نظر بھی دوڑا لیں، کوئی خاتون قریب سے نہ گزر رہی ہو۔

٭بڑھاپے میں اگر اولاد آپ کی خدمت کرتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ نے ان کی تربیت اور اپنی لائف انشورنس پر پورا دھیان دیا ہے۔

٭مرد کبھی بوڑھا نہیں ہوتا۔ یہ ایک نہیں ہزاروں بوڑھوں کا قول ہے۔

٭بوڑھے ہونے پر ضرور بوڑھا دکھائی بھی دینا، کس کتاب میں لکھا ہے؟

٭ہر بوڑھے میں ایک بچہ اور جوا ن بھی چھپا ہوتا ہے۔

٭اچھا خاندان اور اچھی حکومت ہمیشہ اپنے بوڑھوں کا خیال رکھتی ہے۔

٭بوڑھے نہ ہوتے تو چشموں اور دانتوں کی ’’انڈسٹری‘‘ مکمل تباہ ہو گئی ہوتی۔

٭وہ یقین کریں نہ کریں مگر آپ پریشان نہ ہوں عورتیں بھی بوڑھی ہوتی ہیں۔

٭دنیا نہ چل پاتی، اگر بوڑھے ہونے کا رواج نہ ہوتا۔

٭دنیا میں سب سے آسان کام دادا، دادی، نانا ، نانی بننا ہوتا ہے، کیونکہ اس میں آپ کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔

٭بچپن میں ہم ٹیسٹ دیا کرتے تھے، جوانی میں ٹیسٹ لیا کرتےتھے، اب ڈاکٹر ہمارے لئے ٹیسٹ لکھ رہے ہیں۔

٭ہر عمر رسیدہ کیلئے مفت مشورہ ہے کہ دنیا کو انجوائے کرو قبل اس کے کہ دنیا ہمیں انجوائے کرنے لگے۔

اور آخر میں کسی نامعلوم شاعر کی لاجواب نظم۔

ابلیس کا اعتراف

سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کرلوں

تو نے جس وقت یہ انسان بنایا یارب

اس گھڑی مجھ کو تو اک آنکھ نہ بہایا یا رب

اس لئے میں نے سر اپنا نہ جھکایا یا رب

لیکن اب پلٹی ہے کچھ ایسی ہی کایا یا رب

عقل مندی ہے اسی میں کہ میں توبہ کرلوں

سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کرلوں

ابتدا میں تھی بہت نرم طبیعت اس کی

قلب و جاں پاک تھے شفاف تھی طینت اس کی

پھر بتدریج بدلنے لگی خصلت اس کی

اب تو خود مجھ پہ مسلط ہے شرارت اس کی

اس سے پہلے کہ میں اپنا ہی تماشاکر لوں

سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں

بھر دیا تو نے بھلا کونسا فتنہ اس میں

پکتا رہتا ہے ہمیشہ کوئی لاوا اس میں

ایک اک سانس ہے اس صورت شعلہ اس میں

آگ موجود تھی کیا مجھ سے زیادہ اس میں

اپنا آتش کدۂ ذات ہی ٹھنڈا کر لوں

سوچتا ہوں کہ اب انسان کو میں سجدہ کر لوں

اب تو یہ خوں کے بھی رشتوں سے اکڑ جاتا ہے

باپ سے بھائی سے بیٹے سے بھی لڑ جاتا ہے

جب کبھی طیش میں ہتھے سے اکھڑ جاتا ہے

خود میرے شر کا توازن بھی بگڑ جاتا ہے

اب تو لازم ہے کہ میں خود کو ہی سیدھا کرلوں

سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کرلوں

میری نظروں میں تو بس مٹی کا مادھو تھا بشر

میں سمجھتا تھا اسے خود سے بہت ہی کمتر

مجھ پہ پہلے نہ کھلے اس کے سیاسی جوہر

کان میرے بھی کترتا ہے یہ قائد بن کر

شیطنت چھوڑ کے میں بھی یہی دھندا کر لوں

سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کرلوں

کچھ جھجکتا ہے، نہ ڈرتا ہے، نہ شرماتا ہے

نت نئی فتنہ گری روز ہی دکھلاتا ہے

اب یہ میرے بہکاوے میں کب آتا ہے

میں برا سوچتا رہتا ہوں یہ کرجاتا ہے

کیا ابھی اس کی مریدی کا ارادہ کرلوں

سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کرلوں

اب جگہ کوئی نہیں میرے لئے دھرتی پر

میرے شر سے بھی سوا ہے یہاں انسان کا شر

اب لگتا ہے یہی فیصلہ مجھ کو بہتر

اس سے پہلے کہ پہنچ جائے وہاں سوپر پاور

میں کسی اور ہی سیارے پہ قبضہ کرلوں

سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں

ظلم کے دام بچھائے ہیں نرالے اس نے

نت نئے پیچ مذاہب میں ہیں ڈالے اس نے

کر دیئے قید اندھیروں میں اُجالے اس نے

کام جتنے تھے میرے سارے سنبھالے اس نے

اب تو میں خود کو ہر اک بوجھ سے ہلکا کرلوں

سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کرلوں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *