کیا سعودی عرب کا پیکج من و سلوی ہے؟

پچھلے ہفتے جب عمران خان سعودی عرب سے 6 بلین ڈالر کا عطیہ لے کر گھر واپس آئے تو انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ (سعودی عرب اور ایران  کے درمیان)یمن میں جنگ بندی کی ثالثی کریں گے۔ بلاشبہ  ایک ایسے وزیر اعظم جو کچھ دن قبل معاشی مدد کے لیے سخت ضرورتمند ہونے کا کہہ رہے تھے  کی طرف سے  یہ ایک بہت بڑا دعویٰ ہے ۔

عمران خان نے دنیا بھر سے سعودی عرب کے خلاف  ایک صحافی  جمال خاشقجی کے ترکی سفارتخانہ میں  قتل کے احتجاج کو نظر انداز کر کے  'Davos in the Desert' میں شرکت کی ۔ کہا جاتا ہے کہ یہ قتل سعودی کراون پرنس کے حکم پر کیا گیا تھا۔ اس قتل کو نظرا انداز کرنے پر ہمارے وزیر اعظم کو نوازا گیا۔ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ  اس سخاوت کے ساتھ کوئی خفیہ شرائط عائد نہیں کی گئیں۔  لیکن کیا یہ ایک مقروض قوم کے  پاس اتنا اختیار ہے کہ وہ قرض دینے والے کو ایک جنگ کے معاملے میں کوئی خاص اقدام کرنے پر مجبور کر سکے؟

یمن سعودی جارحیت کا شکار ملک  ہے۔ اس المناک جنگ نے ہزاروں لوگوں کو مٹا دیا ہے اور لاکھوں کو فاقوں کی طرف دھکیلا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ایرانی اس ٹکر سے مکمل طور پر لا تعلق ہیں لیکن تہران اس کی حوصلہ افزائی کرنے والا نہیں ہے۔ اس لیے وزیر اعظم کا اس تنازعہ میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کا بیان  ایک خواہش کے سوا کچھ نہیں ہے۔

یہ ماننا مشکل ہے کہ ایسے فیاض سعودی معاشی پیکج کی کوئی قیمت نہیں ہے۔یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ ریاض نے ہماری معیشت کو سہارا دیا ہو۔  ہمارے قریب ترین حلیفوں میں سے سعودیہ واحد ملک ہے جو ماضی میں بھی کئی بار ہماری مدد کو آیا۔ لیکن اتنی بڑی سخاوت نوازی اس مرتبہ غیر معمولی ہے، اور اس قدر احسان کے بارے میں سوالات اٹھا رہی ہے۔

یقینا یہ پاکستانی وزیراعظم کی متنازعہ سعودی انویسٹمنٹ کانفرنس پر حاضری دینے کی ادائیگی نہیں ہے جس کا سعودی صحافی کے ظالمانہ قتل کے خلاف احتجاجا بہت سے ملکوں نے بائیکاٹ کیا ہے۔ پاکستان، جورڈن اور لبنان کے ممالک اس بڑی سطح کی کانفرنس میں شریک تھے۔ یہ پیکج ایک سخت، رازادارانہ گفت و شنید کے بعد وزیر اعظم کے ایک ماہ میں سعودی عرب کے دوسرے دورے کے پیش نظر دیا گیا ہو گا۔

یہ واضح نہیں کہ اس کے بدلے میں ہم نے کیا پیش کیا ہے ۔ یہ پاکستان کی پیشکش نہیں ہو سکتی  کہ وہ یمن تنازعہ میں ثالثی کا کردار ادا کرے گا جس کا وزیر اعظم ہمیں یقین دلانا چاہتے ہیں۔ یہ ماننے کی کوئی وجہ نہیں کہ نئی پاکستانی حکومت نے یمن میں فوج نہ بھیجنے کے عہد سے یو ٹرن لے لیا ہے۔  تاہم  اس سے سعود ی عرب مین پاکستانی فوج کی موجودگی کی نفی نہیں ہوتی۔ اس ڈیل میں اس سے کہیں زیادہ شرائط چھپی ہیں جو حکومت عوام کے سامنے لانے پر اکتفا کرنا چاہتی ہے۔

یمن تنازعے کے  آغاز سے ہی  پاکستان سے حکومتی سطح پر بیان جو بر بار سننے میں آیا وہ یہ تھا کہ  سعودی عرب کی علاقائی خود مختاری پر کسی قسم کا حملہ پر پاکستان سخت رد عمل کا مظاہرہ کرے گا۔  لیکن ایسا کوئی واضح جواب نہیں تھا کہ یہ خطرہ  کہاں سے  درپیش ہے۔ سعودی عرب یقینا کسی غیر ملکی جارحیت کا سامنا نہیں کر رہا تھا۔ در اصل سعودی عرب کی یمن میں فوجی مداخلت کی کوئی لمبی تاریخ نہیں ہے جسے ریاض خود کو اپنی کمزوری تصور کرتا ہو۔

یمنی سول وار میں  سعودی فوجی مداخلت کی وجہ سے علاقے کے لیے بڑے  سکیورٹی مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ چند رپورٹس کے مطابق یمن جنگ سعودی عرب کو 50 بلین ڈالر سے زائد کا سالانہ خسارہ دے رہی ہے۔ اس تنازعہ نے حالیہ وقتوں میں ایک بد ترین انسانی حقوق کا بحران پیدا  کر دیا ہے۔امریکہ  اور دوسرے مغربی ممالک نے یا تو واضح طور پر سعودی جارحیت کا ساتھ دیا یا نظر موڑ لی، خاص طور پر ایرانی  مداخلت کی وجہ سے ایسا رویہ اختیار کیا گیا۔

لیکن خاشقجی قتل کیس کے بعد صورت حال بدلتی نظر آ رہی  ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ جس نے بادشاہت کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کیے ہوئے ہیں، نے اب یمن میں سعودی جارحیت کو ختم کرنے کا کہا ہے۔ محمد بن سلمان جنہیں پہلے ایک ریفارمر قرار دیا جا رہا تھا اب مشکلات کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں۔

اس  صورتحال کے تناظر میں سعودی بیل آؤٹ پیکج ایک خاص اور غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔  اگرچہ پاکستان نے مشرق وسطی کے سول تنازعات میں غیر جانبدار رہنے کا عہد کیا ہے  جو سعودی عرب اور ایران کے  درمیان تنازعہ کی وجہ بنے ہوئے ہیں،   لیکن پاکستان کی حکومت  کی پالیسیاں ریاض کی طرف بڑی حد تک جھکاؤ رکھتی ہیں۔ یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ پاکستان بھی سعودی  عرب کے زیر قیادت اسلامی فوجی اتحاد کا ایک رکن ہے، جس کے  کردار اور اصول واضح نہین ہیں  اور  جس کے سربراہ  سابق پاکستانی آرمی چیف جنرل راحیل شریف ہیں ۔ پاکستان کی سعودی امداد میں یہ ایک اہم عنصر ہو سکتا ہے۔

ریاض کی طرف سے پاکستان کی معاونت  اتنی ہی اہم  سمجھی جا رہی ہے جس کی وجہ علاقائی اتحاد کی ایک نئی جہت کا قیام ہے۔ جیسے ہی ایران کے ساتھ کشیدگی بڑھ رہی ہے ،واحد مسلم نیوکلیئر  ملک کی حیثیت سے پاکستان سعودیہ کی  علاقائی  پاور میٹرکس کے لیے اہم ہے ۔ اگراسلام آباد مشرق وسطیٰ میں فوجی مداخلت نہ  بھی کرے، تو بھی اس کا سعودیہ سے  معائدہ ہے کہ ضرورت پڑنے پر  ہاؤس آف سعود کے دفاع کے لیے آئے گا۔

سعودی بیل آؤٹ پیکج پاکستان کی ملکی تاریخ میں ایک بہت سنجیدہ معاشی بحران سے نکالنے میں مدد گار ہو سکتا ہے  لیکن اس طرح سعودیہ پر تکیہ کر لینا   پاکستان کو مشرق وسطی کے تنازعہ میں بھی دھکیل سکتا ہے۔ سفارتی کامیابی کا دعویٰ کرنے کے بجائے  حکومت کو اس معائدے کے بارے میں پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا ہو گا۔ یقینا سعودی عرب ایک اہم اتحادی ہے جو مشکل وقتوں میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا  لیکن یہ تعلق ہمارے قومی مفاد کے آڑے نہیں آنا چاہیے۔ ہمارے ریاض کے ساتھ تعلقات  اس وقت کمزور ہوئے جب  کچھ عرصہ پہلے پارلیمنٹ نے یمن میں افواج بھیجنے کے خلاف ووٹ دیا۔ اب بادشاہت کے ساتھ تعلقات واپس معمول پر آ چکے ہیں۔

اس کے باوجود،  بدلتے ہوئے علاقائی جیو پولیٹکس کو دیکھتے ہوئے ہمیں بہت احتیاط کرنا ہو گی ، خاص طور پر اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ امریکہ اور ایران کے بیچ جوہری معاہدہ ختم کر دیا گیا ہے  جس سے تنازعہ میں شدت آ چکی ہے۔

سعودی عرب ایران کے خلاف پابندیوں میں واشنگٹن کےساتھ ایک صف میں کھڑا ہے۔ یو ایس کی خاشقجی  قتل پر سخت پوزیشن اس معاملے پر سعودی پوزیشن پر اثر انداز ہونے کا امکان نہیں رکھتی۔

یہ  معاملات ملک کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج کا باعث ہیں۔  عمران خان ثالثی کا کردار ادا کرنے پر نظر کا دھوکہ نہ کھائیں۔  یہ ایک علاقائی پاور گیم ہے نہ کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان علاقائی جھگڑا ہے جو کسی تیسری پارٹی کی ثالثی  سے حل ہو سکتا ہو۔ یہ وقت ہمارے لیے  بیرونی معاملات  low profile قائم رکھتے ہوئے ہر قسم کے تنازعہ میں الجھنے سے بچے رہنے کا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *