کھم آن پھلیز!

شرجیل کا اصرار تھا کہ میں اس کے ساتھ اُس کا نیا گھر دیکھنے چلوں۔ اس نے شہر کی بہترین سوسائٹی میں دو کنال کا گھر بنوایا تھا اور انتہائی کھل کے پیسہ لگایا تھا۔ کچھ دن پہلے اس نے نئے ماڈل کی اٹھارہ سو سی سی گاڑی بھی خریدی تھی۔ ہم دونوں اُس کے گھر جانے والی سڑک پر رواں دواں تھے کہ اچانک اس نے گاڑی دوسری طرف موڑ دی۔ میں چونک اٹھا۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ پوچھتا، اُس نے مسکراتے ہوئے کہا ''پیٹرل‘‘۔ میں نے آنکھیں پھیلائیں ''کیا مطلب؟‘‘۔ اُس نے گھور کر میری طرف دیکھا ''بھائی پیٹرل ڈلوانا ہے‘‘۔ میں نے اپنی کنپٹی کھجائی ''یہ کیا ہوتا ہے؟‘‘۔ گاڑی میں شرجیل کا کان پھاڑ قہقہہ گونجا ''یعنی اب مجھے یہ بھی بتانا پڑے گا کہ پیٹرل کیا ہوتا ہے؟‘‘۔ میں بے اختیار سہم گیا ''یار! قسم اٹھوا لو مجھے نہیں پتا یہ پیٹرل کیا ہوتا ہے۔‘‘ شرجیل نے ایک ہاتھ میرے کندھے پر رکھا ''مائی باپ گاڑی کی ٹینکی میں جو چیز ڈلوائی جاتی ہے اسے پیٹرل کہتے ہیں‘‘۔ میں بے اختیار چلایا ''پٹرول؟‘‘۔ یہ سنتے ہی اُس نے منہ بنایا ''پٹرول نہیں جاہل‘ پیٹرل کہتے ہیں۔‘‘ میں مزید دُبک گیا۔ گویا آج تک میں پٹرول بھی غلط ڈلواتا رہا ہوں‘ پتا نہیں زندگی کی غلطیاں کب سدھریں گی۔
شرجیل کے ساتھ ہونے کا یہ بہت بڑا فائدہ ہے کہ وہ مختلف معاملات میں میری درستی کرتا رہتا ہے۔ اُس کے نئے گھر پہنچے تو دل خوش ہو گیا۔ گھر کیا تھا پورا محل تھا۔ میں نے تعریف کی کہ گیراج بہت بڑا اور خوبصورت ہے۔ اُس نے پھر مجھے گھورا ''گیراج نہیں اوئے گیرج‘‘۔ میں نے اپنے گال پر ہلکا سا تھپڑ مارا اور تصحیح کی۔ گھر کے مختلف حصے دیکھنے کے دوران میں نے تعریف کی اور کہا کہ تم نے اپنا کیریئر بنانے میں بڑی محنت کی ہے۔ وہ چلتے چلتے یک دم رک گیا اور غصے سے میری طرف دیکھا۔ اللہ جانتا ہے میرا دل اچھل کر حلق میں آ گیا۔ پتا نہیں اب کیا غلطی ہو گئی تھی۔ میں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا تو جواب ملا ''جاہل انسان کیریئر نہیں 'کریئر‘ کہتے ہیں۔ میں نے فوراً دل ہی دل میں تین چار دفعہ 'کریئرکریئر‘ کی گردان کی‘ الحمدللہ کافی افاقہ ہوا۔
شرجیل نے مجھے بتایا کہ اصل لفظ 'بوفے‘ نہیں بلکہ 'بفٹ‘ ہے۔ میں نے اسے دلیل دی کہ آج تک میں جس ہوٹل میں بھی جا کر 'بوفے‘ کہتا ہوں وہ سمجھ جاتے ہیں ۔ اس پر شرجیل غصے میں آ گیا ''وہ جاہل ہیں تو کیا تم بھی جاہل ہی رہنا چاہتے ہو؟ لفظوں کو ان کے صحیح تلفظ کے ساتھ بولو تاکہ پتا چلے کہ تم ایک پڑھے لکھے انسان ہو‘‘۔ میرا دل باغ باغ ہو گیا۔ شرجیل جیسا دوست بھی قسمت سے ملتا ہے۔ اُس کی بدولت میں نے کئی درست الفاظ سیکھے‘ جنہیں میں ساری زندگی غلط بولتا آیا تھا‘ لیکن اس سے ایک عجیب سی پرابلم بھی ہو گئی۔ مثلاً میں نے ایک دفعہ ہوٹل میں جا کر بیرے سے پوچھا کہ 'بفٹ کی کیا ٹائمنگز ہیں؟‘‘ اُس نے نہایت ادب و احترام سے میرا جملہ سنا‘ اور قدرے جھکتے ہوئے بولا ''سر! مجھے نہیں معلوم‘ میں نے ابھی صرف دو ماہ پہلے ہوٹل جوائن کیا ہے‘ اِس دوران تو بفٹ صاحب کبھی تشریف نہیں لائے۔‘‘ شرجیل کی وجہ سے مجھے پتا چلا کہ 'شوارما‘ کہنا جاہلیت کی نشانی ہے۔ اصل لفظ 'شا۔ورما‘ ہے۔ میں نے یہ بھی یاد کر لیا اور ایک دکان پر جا کر بڑے فخر سے کہا ''بھائی ایک شا۔ورما چاہیے۔‘‘ اُس کے چہرے پر حیرت کے آثار نمودار ہوئے‘ پھر کچھ دیر سوچ کر بولا ''تھوڑا آگے چلے جائو ہارڈ ویئر کی دکان سے مل جائے گا۔‘‘
کہنے کو تو شرجیل میرا دوست ہے لیکن اس نے مجھے عجیب سے احساس کمتری میں مبتلا کر دیا ہے۔ مجھے لگتا ہے جیسے میں آج تک چوّل ہی مارتا رہا ہوں۔ وہ کہتا ہے: دوسری زبان کا لفظ صحیح تلفظ سے بولو ورنہ چپ رہو۔ میں بھلا کیسے چپ رہوں۔ ساری زندگی ''اِیکو‘‘ پڑھا‘ اب پتا چلا کہ یہ اِیکو نہیں ''اَیکو‘ ہے یعنی الف پر زبر ہے۔ سارا علم صفر۔ میری زندگی عذاب ہو گئی ہے۔ پچھلے دنوں اُس کے ساتھ سرگودھا جانا ہوا۔ راستے میں ٹول پلازہ پر رُکے تو میں نے کہا ''اب ٹول ٹیکس بھی بڑھ گیا ہے‘‘۔ وہ کاٹ کھانے کو دوڑا ''اوئے ٹول نہیں ٹال ہوتا ہے‘‘۔ حد ہو گئی ہے‘ ٹال تو میں نے کبھی نہیں سنا۔ اسی طرح ایک دفعہ ہم دونوں ٹرین پر جا رہے تھے‘ ٹرین ایک جگہ رک گئی۔ میں نے باہر جھانک کر دیکھا۔ شرجیل نے پوچھا ''ٹرین کیوں رک گئی ہے؟‘‘۔ میں نے لا پروائی سے کہا: ''سَنگل‘‘ اوپر ہے۔ یہ سنتے ہی وہ اچھل پڑا اور تیزی سے اپنی جوتی کی طرف ہاتھ بڑھائے۔ میرے حلق سے چیخ نکل گئی۔ میں نے فوراً ہاتھ جوڑے اور غلطی پوچھی۔ اُس دن پتا چلا کہ 'سنگل‘ نہیں 'سگنل‘ کہتے ہیں۔ اچھی بات تھی‘ علم کی بات تھی لہٰذا میں نے نہ صرف اس کا شکریہ ادا کیا بلکہ ڈائری میں نوٹ بھی کر لیا۔
شرجیل کی وجہ سے میری عمومی زندگی اتھل پتھل ہو کر رہ گئی ہے۔ اس کی تصحیح کے نتیجے میں لوگ میری تصحیح کرنے لگے ہیں۔ میں فوٹو گراف کو ''فٹا گراف‘‘ بولتا ہوں تو ارد گرد سے قہقہے بلند ہو جاتے ہیں۔ فلاور کو 'فلار‘ کہتا ہوں تو سب کو میری ذہنی حالت پر شک ہونے لگتا ہے۔ میں نے یہ مسئلہ شرجیل کے سامنے رکھا تو اُس نے مجھے تسلی دی کہ 'کچھ تو لوگ کہیں گے‘۔ جاہلوں کی باتوں میں نہیں آنا چاہیے اور اپنی زبان ہمیشہ درست رکھنی چاہیے۔ اب میں پیزا کو 'پیٹ۔زا‘ کہتا ہوں۔ اگرچہ میرے پسینے نکل جاتے ہیں لیکن میں زبان کی حرمت پر کوئی حرف نہیں آنے دیتا۔ خصوصاً انگریزی کے حوالے سے تو میں پھونک پھونک کر قدم رکھتا ہوں۔ مجھے پتا چلا گیا ہے کہ بلی کی انگریزی کیٹ نہیں 'کھیٹ‘ ہے۔ ہاتھ دھونے سے زیادہ 'ہینڈ واش‘ کرنا زیادہ قابل احترام ہے۔ کسی کی وفات پر ''اللہ جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے‘ کہنے سے دنیا میں اپنا مقام مشکوک ہو جاتا ہے لہٰذا 'ریسٹ اِن پیس‘ یا صرف RIP کہنا زیادہ مہذب ہے۔ شرجیل بہت خوش ہے کہ میں آہستہ آہستہ اس کی لائن پر آتا جا رہا ہوں۔ یہ لائن ہے ہی بہت اچھی۔ اپنے آپ میں عجیب سا اعتماد محسوس ہوتا ہے۔ 
کل شرجیل سے میری گفتگو ہو رہی تھی۔ وہ خاص طور پر میرے الفاظ پر دھیان رکھے ہوئے تھا اور انگوٹھے سے مجھے 'شاباشی‘ بھی دے رہا تھا۔ پوری گفتگو میں مجھ سے صرف تین غلطیاں ہوئیں۔ میں نے اُس کی کسی بات کے جواب میں کہا 'کمال ہے‘۔ اِس پر اُس نے مجھے ٹوکا کہ یہاں 'وائو‘ کہو۔ میں نے اعتراض اٹھایا کہ 'وائو‘ تو بھونکنے والا جانور کرتا ہے۔ شرجیل نے انتہائی محبت سے جلتا ہوا سگریٹ میرے ہاتھ پر لگایا اور بولا ''وائو کہنا ہے وئو نہیں‘‘۔ دوسری غلطی یہ ہوئی کہ میں نے 'امریکا‘ کہہ دیا۔ اُس نے سمجھایا کہ امریکہ نہیں 'امیریکا‘ کہنا ہے... اور تیسری غلطی یہ تھی کہ میں نے ڈیٹا کہہ دیا... اُس نے پھر سمجھایا کہ ڈیٹا نہیں ڈاٹا ہوتا ہے۔ مجھے اطمینان ہوا کہ میری غلطیاں کم سے کم ہوتی جا رہی ہیں۔ اسی دوران شرجیل کا ایک امریکی دوست... سوری... امیریکی دوست آ گیا۔ دونوں انگریزی میں گپیں لگانے لگے۔ وہ کچھ دیر بعد واپس گیا تو میں نے شرجیل سے شکوہ کیا کہ تم نے اپنے انگریز دوست کی زبان کیوں نہیں درست کروائی‘ وہ بار بار اسلام آباد کو 'اسلام آبیڈ‘ کہہ رہا تھا۔ شرجیل نے قہقہہ لگایا اور سگریٹ کا بھرپور کش لیتے ہوئے بولا ''کچھ نہیں ہوتا یار۔ بات سمجھ میں آنی چاہیے... ویسے بھی اُردو کی غلطیوں کی کون پروا کرتا ہے...‘‘۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *