کیا آپ عوام میں سے ہیں؟

کیا آپ عوام میں سے ہیں یا کبھی ان سے کوئی تعلق رہا ہے؟ درج ذیل پرچے کی خودمارکنگ کریں اور اس کے بعد خود ہی اپنی کلاس کا تعین کریں۔

کیا آپ نے اپنی زندگی کے کسی دورمیں ویگن میں سفر کیا ہے اور کیا اگر آپ کو ان دنوں بھی ایک ماہ ویگن پر سفر کرنا پڑے تو آپ یہ برداشت کرسکیں گے؟

آپ کبھی سائیکل پر سوارہوئے ہیںاور کیا آپ کی سائیکل کے کتے کبھی فیل ہوئے ہیں؟ اور اس کے بعد کتے آپ کے پیچھے لگے ہیں؟

اگر آپ گائوں میں پڑھےہیں تو کیا آپ کو کبھی چلچلاتی دوپہر میں کئی میل پیدل چل کر اسکول جانا پڑتا تھا اور پھر اسی طرح پیدل واپس آتے تھے؟

کیا کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ آپ کے گھر میں چولہا نہ جلاہو اور یوں آپ کو فاقہ کرنا پڑا ہو؟

کیا بچپن میں آپ کو کسی ورکشاپ وغیرہ میں ننھے منے ہاتھوںسے کام کرنا پڑا؟

آپ کو ابتدائی زندگی میں نوکری کے حصول کے لئے کتنے دروازوں پر دستک دینا پڑی۔ دوسرے لفظوں میں کیا طویل عرصے تک آپ نے بیروزگاری کا زہر چکھا ہے؟

کیا آپ کے عزیز و اقارب میں سے کسی نے محض دوا کے لئے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے کبھی انتقال تو نہیں کیا؟

کیا آپ رمضان کے مہینے میں سحری کے وقت گلیوںمیں نعتیں پڑھتے ہوئے لوگوں کو جگانے کے لئے نکلتے رہے ہیں؟

کیا عید میلاد النبی ؐ کے جلوس میں آپ بھی کبھی عربی لباس پہنے گھوڑے پر سوار جلوس کے آگے آگے چلے ہیں؟

آپ نے کبھی تندور پر بیٹھ کر روٹی کھائی ہے؟

آپ کبھی تندور پرروٹیاں لگوانے گئے ہیں؟

کیا آپ کبھی چوپال میں گئے ہیں اور آیا آپ بھی اس تجربے سے دوچار ہوئے ہیں کہ چوہدری چارپائی پر بیٹھا ہو اور آپ کو زمین پر جگہ ملی ہو؟

کیا آپ نے کبھی بازار میں کھڑے ہو کر حلیم اور نان کھایا ہے؟

خشک میووں اور مٹھائیوںمیں سے ملوک کے ذائقے سے واقف ہیں؟

کیا کبھی میلہ چراغاں میں بھنگڑا ڈالا ہے اوربولیاں گائی ہیں؟

سینما میں ٹکٹ لینے کے لئے قمیص اتار کر لوگوں کے کاندھوں پرسے ہوتے ہوئے آپ کبھی کھڑکی تک پہنچے ہیں؟

حضوری باغ میں کبھی کن ٹٹوئوں کا مشاعرہ سنا ہے؟

بچپن میں ’’بالو کڑیوں پھلیاںونڈی دیاں لے جائو‘‘ کی آوازپر کبھی آپ بھی بھاگتے گئے ہیں اور ’’بھائی مینوں دے‘‘ کی آوازیں لگائی ہیں؟

بچپن میں کسی آئس کریم کی دکان پرتو ملازمت نہیںکی اور یہ تجربہ تو نہیں ہوا کہ کار کے ہارن پر دوڑے دوڑے جائیں اور کار میں بیٹھے ہوئے بچوں کے لئے آئس کریم لے کر آئیں اور اپنے آنسو آنکھوں سے باہر نہ آنے دیں؟

کیا آپ کابڑا بھائی یابہن آپ کو گود میں اٹھاکر مسجد کے باہر کھڑے ہوتے تھے تاکہ مسجد سے نکلتے ہوئے نمازیوں سے دم کرائیں؟

کبھی کسی جلسے یا مسجد میں دریاں بچھائی ہیں؟

کبھی تانگے میں بیٹھ کر پورے شہر میں لائوڈ اسپیکر سے جلسے کا اعلان کرتے رہے ہیں؟

کیا کبھی کسی لیڈر کو کاندھوں پر بٹھا کر میل دو میل کا فاصلہ طے کیا ہے؟

کسی ایک کمرے کے مکان میں دس افراد کے ساتھ رہنے کا اتفاق ہوا ہے؟

کبھی گرمیوں میں بنیان اتار کر گلی میں سونے کا تجربہ ہوا؟

بکرےکو مہندی لگا کر داتا دربار سلام کروانے گئے ہیں؟

کیا آپ کبھی ڈھانگری اٹھاکر پتنگ کے پیچھے بھاگے ہیں، کبھی اس میں تڑانویں ڈالی ہیں یااسے کنّی دی ہے؟

کبھی پانی کے حصول کے لئے میلوں پیدل جانا پڑا؟

کیا آپ کی کوئی بچی محض جہیز نہ ہونے کی وجہ سے گھر میں تو نہیں بیٹھی رہی؟

روٹی کمانے کے لئے بیوی بچوں کو اللہ کے سپرد کرکے دبئی تو نہیں جانا پڑا؟

کسی چوک میں کُوچی اور سفیدی والا ڈبہ پکڑ کر پنجوں کے بل بیٹھ کرروزی کا انتظار تو نہیںکرنا پڑا؟

کبھی ایسا تو نہیں ہوا کہ بازار سےگزرتے ہوئے بچوں کے لئے موسم کا پھل خریدنے کو جی چاہے اور خرید نہ سکے ہوں؟

کیا آپ کو پیدائش کے فوراً بعد سب آسائشیں بیٹھے بیٹھے مل گئی تھیں یا اس کے لئے آپ کےاہل خانہ کو بھی جدوجہد کرنا پڑی؟

بیس ہزارروپے ماہوار میں مکان کاکرایہ، بیماری، مہمانوں ، شادی بیاہ اور دیگر حوالوں سے پیسوں کی کمی کے ماحول نے آپ کی زندگی پر کیااثر ڈالا؟

کیا آپ کوپتا ہے چیک کیا ہوتاہے جسے بھر کر بینک سے پیسے نکلوائے جاتے ہیں اگر بینک میں آپ کی کوئی سیونگ ہو؟

آپ نے اپنے اسکول سے چھٹی کے بعد پیدل گھر جاتے ہوئے مہنگے پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں چھٹی کے وقت خوبصورت لباس میں ملبو س بچوں کو اپنی گاڑیوں میں بیٹھے دیکھا ہے؟

سوالات کی فہرست ابھی بہت طویل ہے مگر فی الحال اتنے ہی کافی ہیں۔ ان سوالات میں پاکستانی عوام کی اکثریت کے مسائل اور ان کے مشاغل پوشیدہ ہیں، اگرپاکستانی عوام کی نمائندگی کرنے والے حضرات اپنی زندگی کے کسی بھی دور میں ان مسائل اور مشاغل سے آشنا رہے ہیں تو وہ عوام میں سے ہیںورنہ بہروپیے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *