ایلون مسک عمودی ٹیک آف کرنے والا طیارہ بنانے کے خواہشمند

کیا آپ ایسے سپرسونک طیارے میں سفر کرنا پسند کریں گے جو کہ کسی ہیلی کاپٹر کی طرح کسی بھی جگہ لینڈنگ یا ٹیک آف کی صلاحیت رکھتا ہو جبکہ اسے چلانے کے لیے روایتی ایندھن کی بجائے بجلی کی ضرورت ہو؟

اسپیس ایکس اور ٹیسلا جیسی کمپنی کے بانی ایلون مسک اسی طرح کے طیارے وی ٹی او ایل جیٹ کی تیاری کا اراہ رکھتے ہیں۔

ٹیسلا کے بانی نے ایک انٹرویو کے دوران بتایا کہ وہ اس طیارے کے ڈیزائن پر لگ بھگ ایک دہائی سے سوچ بچار کررہے ہیں۔

2 سال قبل ایلون مسک نے ایک تقریب کے دوران ایک الیکٹرک طیارے کی تیاری کی خواہش کا اظہار کیا تھا جو کہ ہوائی سفر کی صنعت میں انقلاب برپا کرسکے کیونکہ اس کی بدولت سفری اخراجات میں کمی کے ساتھ بڑے رن وے کی ضروری بھی ختم ہوسکے گی۔

دلچسپ بات بات یہ ہے کہ اسپیس ایکس ہی وہ کمپنی ہے جو ایسے مسافر بردار راکٹ کی تیاری پر بھی کام کررہی ہے جو کہ لوگوں کو ایک سے دوسرے شہر یا ملک تک پہنچانے کا کام کرے گا۔

رواں سال اپریل میں اسپیس ایکس کی صدر اور سی او او گیونی شاٹویل نے دعویٰ کیا تھا کہ ایسے راکٹ کو جو لوگوں کو دنیا کے کسی بھی حصے میں 60 منٹ یا ایک گھنٹے میں پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے، ایک دہائی کے اندر حقیقت بن جائیں گے۔

انہوں نے یہ بات ایک انٹرویو کے دوران بتاتے ہوئے مزید کہا کہ مریخ تک رسائی تو پہلا قدم ہے جس کے بعد مزید سولر سسٹمز کی کھوج کی جائے گی۔

ایلون مسک نے گزشتہ سال ایسے رات تیار کرنے کا اعلان کیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے راکٹ سے زمین اور خلاءدونوں جگہ سفر کو آسان ترین بنادیں گے۔

یہ راکٹ عمودی ٹیک آف اور لینڈ کرسکیں گے، جبکہ بڑے شہروں میں لانچ پیڈز سے ٹیک آف کرسکیں گے۔

یہ راکٹ کراچی سے نیویارک کا سفر جس میں ابھی فضائی سفر کے دوران کم از کم 17 گھنٹے درکار ہوتے ہیں، 60 منٹ کے اندر طے کرسکیں گے۔

اسپیس ایکس کا مجوزہ راکٹ — فوٹو بشکریہ اسپیس ایکس
اسپیس ایکس کا مجوزہ راکٹ — فوٹو بشکریہ اسپیس ایکس

اچھی بات یہ ہے کہ ان کا کرایہ کسی عام پرواز جتنا ہی ہوگا۔

گیونی شاٹویل کے مطابق یہ ٹیکنالوجی ایک دہائی کے اندر لازمی طور پر تیار اور آپریشنل ہوگی۔

ان کا کہنا تھا ' ایسا ہوکر رہے گا اور میں نے ذاتی طور پر اس پر سرمایہ کاری کی ہے، میں بہت زیادہ سفر کرتی ہوں اور میں اپنے صارفین سے ریاض میں ملنے کے لیے صبح جاکر رات کو گھر واپس آنا پسند کروں گی'۔

کمپنی کے مطابق یہ راکٹ عام راکٹوں جتنا ہی بڑا ہوگا جو کہ زمین کے مدار میں سیٹلائیٹ لے جاسکے گا، اسی طرح انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن میں عملہ اور سامان پہنچانے کے ساتھ چاند پر بھی انسانوں کو لے جاسکے گا۔

18 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار بی آر ایف نامی یہ راکٹ 80 سے 200 مسافروں کو لے جاسکیں گے اور اس کی پہلی مسافر بردار پرواز کے لیے کمپنی نے2024 کا منصوبہ بنایا ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *