عمران حکومت کے اڑھائی ماہ

تو اس وقت صورتحال یہ ھے۔ اسٹیٹ بینک کے پاس 7.8 بلین ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر رہ گئے ہیں ۔ چین نے فی الحال کسی بھی قسم کا امدادی ، قرضئ یا سرمایہ کاری پیکیج دینے سے انکار کر دیا ھے۔ عمران خان کو اپنے دورہ چین میں امید تھی۔ چین پاکستان کے موجودہ معاشی ابتر حالات کی وجہ سے کوئ چھ ارب ڈالر کے قریب بیل آوٹ پیکیج کا اعلان کر سکتا ھے۔ جو کہ نہیں ھوا۔ یہ ایک انتہائی سنجیدہ اور بامعنی ڈویلپمنٹ ھے۔ وزیراعظم عمران خان نے خود اپنی تقریروں میں چین سے اس بیل آوٹ پیکیج کے لیے درخواست کی تھی۔ جو کہ نامنظور ھوئ۔ اس نامنظوری کی وجوہات ایک الگ کالم کی متقاضی ھیں ۔ اس سے پہلے سعودی عرب نے جس امدادی پیکج کا اعلان کیا تھا۔ اور جس ڈیڑھ بلین ڈالر قرض اور ڈیڑھ بلین ڈالر کو اسٹیٹ بنک میں رکھنے کو کہا تھا۔ وہ تین بلین ڈالر ابھی تک پاکستان کو نہیں ملے۔ ھر سال تین بلین ڈالر کا ایک سال کے لیے ادھار تیل کیش رقم نہیں ھے۔ یہ ایسے ھی ھے۔ آپ ایک دکان سے سارا مہینہ ادھار سودا سلف لیں اور تنخواہ ملنے پر بل ادا کر دیں اور پھر اگلے ماہ دوبارہ ادھار لینا شروع کر دیں ۔ یہ وہ ادھار ھے۔ جس سے آپ کے پاس کیش نہیں آتا۔ سننے میں آ رھا ھے۔ یہ تین بلین ڈالر کا قرض اور ادھار تیل چند شرائط سے مشروط ھے۔ جو پوری کرنی مشکل نظر آ رھی ھیں ۔ اس کے بعد آی ایم ایف سے دس سے پندرہ بلین ڈالر کا بیل آوٹ پیکیج  رھ جاتا ھے۔ عمران خان حکومت نے اپنے سیاسی بیانات میں  بوجہ سی پیک کو متنازع بنایا ۔ اور معاشی مشکلات کو سی پیک کے قرضوں اور سی پیک سے متعلق کرپشن سے جوڑ دیا۔ جبکہ پتہ یہ چلا پاکستان نے سی پیک کے قرضوں کی واپسی ھی 2021 سے شروع کرنی ھے۔ اس پروپیگنڈے کا ایک نتیجہ تو یہ نکلا وزیراعظم عمران خان چین سے خالی ھاتھ واپس آے ھیں ۔ اور چین ناراض الگ سے ھے۔ دوسری جانب آی ایم ایف نے اپنا بیل آوٹ پیکیج سی پیک کے قرضوں کے آڈٹ سے جوڑ دیا۔ یہ بیل آوٹ پیکیج نہ دینے کا بہانہ تھا۔ کیونکہ اصل مطالبہ یہ تھا کہ پاکستان کراس بارڈر ٹیررازم پر کنٹرول کرے۔ تبھی پاکستان کو کسی بھی قسم کی امداد یا قرض  دیا جا سکتا ھے۔ امریکہ پہلے ھی کراس بارڈر ٹیررازم کو بنیاد بنا کر پاکستان کی امداد بند کر چکا ھے۔ بدقسمتی سے یورپی یونین نے اس معاملے میں آسیہ بی بی کی رھائ کو بھی شامل کر دیا۔ سننے میں آ رھا ھے۔ آسیہ بی بی کو رھا نہ کرنے کی صورت میں یورپی یونین کی مارکیٹ میں پاکستان کی برآمدات پر پابندی عائد ھو سکتی ھے۔ جس سے پاکستان کے معاشی و مالیاتی معاملات مزید ابتری کی جانب جا سکتے ھیں ۔ عمران حکومت پچھلے اڑھائی ماہ سے اپنی معاشی مشکلات سے نکلنے کے لیے سعودی عرب، چین اور آئ ایم ایف کے درمیان شٹل کاک بنی ھوئ تھی۔ اور آج بھی وھیں کھڑی ھے۔ لگتا نہیں کہ عمران حکومت کی امارات حکومت کے ساتھ جو آخری امید ھے۔ وہ بر آے گی۔ اس لیے کہ امارات،  سعودی عرب اور آئ ایم ایف امریکہ کی مرضی کے بغیر کم ھی حرکت کرتے ھیں ۔ چناچہ عمران حکومت کو معاشی اور مالی طور پر فوری ریلیف ملنے کے امکانات محدود نظر آ رھے ھیں ۔  بیل آوٹ پیکیج لینے کے دو ھی طریقے بچے ھیں ۔ کراس بارڈر ٹیررازم  کے حوالے سے دنیا کو مطمئن کیا جاے اور یا پھر یمن کے حوالے سے سعودی عرب کے ساتھ چلا جاے لیکن ان دونوں ایشوز کی قیمت الگ سے بہت گھمبیر ھے۔
عمران حکومت نے اپنے طور پر اندرون ملک فنڈ اکھٹے کرنے کے لیے ترقیاتی بجٹ پر کٹ لگایا ھے اور اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کیا جا رھا ھے۔ اور یہ اضافہ مسلسل کیا جا رھا ھے۔ بدقسمتی سے یہ طریقہ کار دیرپا نہیں اور ناکافی ھے۔ اس سے پاکستان کی ضرورت پوری نہیں ھو گی۔ البتہ مہنگائی، بے روزگاری اور کساد بازاری میں مزید اضافہ ھو گا۔ اور لوگوں کی قوت خرید میں کمی کی وجہ سے مارکیٹ اور پیداوار کو جو نقصان ھو گا۔ اس سے حکومت کی مشکلات مزید بڑھ جائیں گی۔
عمران حکومت نے اپنی معاشی ترجیحات کی بنیاد جن معاملات پر رکھی تھی۔ وہ مندرجہ ذیل تھے۔ تارکین وطن سے بیس ارب ڈالر،  سرکاری بچت سے 50 ارب فی ماہ ، کرپشن پر قابو سے 500 ارب ، سیاستدانوں کی لوٹی ھوئ رقم کی واپسی سے 400 ارب ، منی لانڈرنگ پر قابو پانے سے دس ارب ڈالر  ، سوئس بنکوں کی رقم سے 200 ارب ڈالر ، دوست ممالک اور آئی ایم ایف سے بیل آوٹ پیکیج 15 ارب ڈالر ، ٹیکسز اور ڈیوٹیز میں اضافہ 250 ارب،  جرمانوں اور سرکاری فیسوں  میں اضافہ ، اور ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی 250 ارب ۔ یہ تمام اقدام یا تو ناکام ھو گئے ھیں ۔ یا شروع ھی نہیں ھو پاے اور یا پھر ضرورت سے بہت کم ھیں ۔ جبکہ ابھی تک کسی بھی دیرپا معاشی و مالیاتی پالیسی کے خدوخال سامنے نہیں آے۔
عمران حکومت کے حامی کہتے ہیں ۔ ابھی حکومت کو صرف دو ماہ ھوے ھیں چناچہ اسے دو ماہ کی مدت پر جج کرنا مناسب نہیں ۔ ھمارا خیال ھے۔ جب ایک نیا شادی شدہ جوڑا اپنی زندگی کا آغاز کرتا ھے۔ وہ پہلے ماہ ھی اپنی انکم اور خرچ کی بیلنس شیٹ بنا لیتا ھے۔ اور پورے سال کا حساب بھی طے کر لیتا ھے۔ سوال یہ ھے عمران خان نے حکومت ملنے سے پہلے ھی اپنی تمام معاشی و مالیاتی پالیسیوں کو طے کیوں نہیں کر لیا تھا۔ اسد عمر یہ تسلیم کر چکے ھیں ۔ ن لیگ حکومت نے 18 بلین ڈالرز کے زرمبادلہ کے ذخائر چھوڑے تھے۔ جو اب 7.8 بلین ڈالر رہ گئے ہیں ۔ حکومت ابھی تک یہ فگرز مہیا نہیں کر سکی۔ کہ ان دو ماہ میں یہ دس ارب ڈالر کہاں گئے ھیں ۔ اگر قرضوں کی اقساط ادا کی ھیں ۔ اگر ان پر سود ادا کیا ھے۔ اگر بیلنس آف پیمنٹ میں استعمال ھوے ھیں اور یا پھر تجارتی خسارے میں چلے گئے ھیں ۔ تو حکومت کو یہ فگرز مہیا کرنی چاھیں ۔ اور یہ بھی کہ حکومت ان مسائل کا کیا حل نکال رھی ھے۔ اور اگر کسی دفاعی مقصد میں استعمال ھوے ھیں تو تب بھی قوم کو اعتماد میں لینا چاھیے۔ لیکن حکومت اپنی کھال بچانے اور اپنی ناکامی چھپانے کے لیے پچھلی حکومت کی کرپشن اور قرضوں کے جو کارڈ کھیل رھی ھے۔ حکومت یقین کر لے۔ اس سے اسے دیرپا تو کیا اب وقتی ریلیف بھی ملنے والا نہیں ۔ جب 2013 میں ن لیگ حکومت بنی تھی۔ تب ن لیگ حکومت کو چھ ارب ڈالر کے قریب زرمبادلہ کے ذخائر ملے تھے۔ آئ ایم ایف کو قسط ادا کرنے کے بعد یہ ذخائر 3.5 ارب ڈالر رہ گئے تھے۔ عمران حکومت ن لیگ حکومت کے مقابلے میں بہت بہتر سچوئشن پر تھی۔ لیکن اگر انہوں نے سنجیدگی سے ریاست کی آمدن بڑھانے کے اقدامات پر کام نہ شروع کیا۔ تو جس طرح دو ماہ میں دس ارب ڈالر کی کمی ھوئ ھے۔ کوئ بھی عارضی بیل آوٹ پیکیج عارضی ھی ثابت ھو گا۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے ختم ھو جاے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *