وہ ہارر فلمیں جن کے اداکار شوٹنگ کے دوران یا فوراً بعد مر گئے

تاریخ میں ایسی کئی ہولی وڈ ہارر فلمیں سامنے آئی ہیں جنہوں نے شائقین کو خوب متاثر کیا، جبکہ ان میں کچھ ایسی فلمیں رہی جنہیں آج بھی دیکھ کر لوگ نہایت خوفزدہ ہوجاتے ہیں۔

ایک ایسی فلم بنانا جسے تجزیہ کاروں کی جانب سے پسند کیا جائے خاصا مشکل ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ مشکل یہ بات ہے جب آپ کو ایسا محسوس ہونے لگے کہ کسی ہارر فلم بنانے کے ساتھ ساتھ آپ کی زندگی میں بھی ڈراؤنے واقعات ہونا شروع ہوگئے ہیں۔

کئی سالوں سے لوگوں کا ایسا ماننا ہے کہ وہ فلمیں جن میں ہارر، بدقسمتی اور بددعاؤں جیسے مسائل دکھائے جائیں، ان میں کام کرنے والے اداکاروں کے ساتھ بھی یہ سب ہونا شروع ہوجاتا ہے۔

یہاں ایسی فلموں کی فہرست مندرجہ ذیل ہے، جن کے بارے میں شائقین کا ماننا ہے کہ یہ نحوست کا شکار ہیں:

’دی پیشن آف دی کرسٹ‘ 2004

بہت لوگوں کا خیال ہے کہ یہ فلم نحوست کا شکار ہے، کیوں کہ فلم کے مرکزی اداکار جم، اسسٹنگ ڈائیریکٹ جان مشلین دونوں ہی بجلی گرنے کے حادثے کا شکار ہوئے۔

البتہ یہ فلم باکس آفس پر کامیاب ہوئی تھی۔

اس فلم کی کہانی حضرت عیسیٰ کی زندگی کے آخری 12 گھنٹوں پر مبنی ہے۔

’پولٹر گائسٹ‘ 1982

80 کی دہائی میں سامنے آنے والی اس ہارر فلم کے دو اداکاروں کی اچانک اموات نے فلم کو لوگوں کی نظر میں منحوس بنادیا۔

22 سالہ اداکارہ ڈومینیک ڈن کو فلم کی ریلیز کے فوری بعد قتل کردیا گیا تھا، بعدازاں فلم کی 12 سالہ چائلڈ اسٹار ہیدر او رورک بھی معدے کی بیماری کے باعث انتقال کرگئی تھی، فلم کے دو اور اداکار کینسر کے باعث انتقال کرگئے تھے۔

فلم سے تعلق رکھنے والے ایک اداکار نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ فلم میں ایک ہارر سین کے لیے اصل ڈھانچوں کا استعمال کیا گیا تھا، تاہم یہ دعویٰ آج تک ثابت نہیں ہوپایا۔

اس فلم کی کہانی کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے ایک گھرانے پر مبنی ہے جن کے گھر میں ٹیلی ویژن کے ذریعے کچھ عجیب سی بلائیں آجاتی ہیں جو بعدازاں انہیں پریشان کرنا شروع کردیتی ہیں، جن سے نجات کے لیے وہ پادری کی مدد لیتے ہیں۔

’دی ٹوائلائٹ زون‘ 1983

1983 کا شو دی ٹوائلائٹ زون کی شوٹنگ کے دوران بھی کئی ناخوشگوار واقعات سامنے آئے۔

اس سیریز کی شوٹنگ کے دوران تین اداکار ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہوگئے تھے، اس حادثے نے باقی کی ٹیم کو خاصا ڈرا دیا تھا۔

اس امریکی ٹیلی ویژن سیریز کی کہانی ہارر، کامیڈی، سائنس فکشن پر مبنی تھی، جس کی نشر ہونے والی ہر قسط ایک نیا موڑ اختیار کرلیتی تھی۔

’دی ایگزارسسٹ‘ 1973

1973 کی اس فلم کے بارے میں بھی لوگوں کا یہی خیال ہے کہ اس میں کام کرنے والے اداکاروں کے لیے فلم منحوس ثابت ہوئی۔

اس فلم میں کی اداکارہ لنڈا بلیئر اور اداکارہ ایلن برسٹین کچھ سینز شوٹ کرانے کے دوران زخمی ہو گئی تھیں، اس کے علاوہ اس فلم کی ریلیز سے پہلے ہی فلم کے دو اداکار جیک میک گورہن اور ویسیلیکی مالیٹاروز چل بسے تھے، واضح رہے کہ اس فلم میں ان دونوں کے کردار کہانی کے آخر میں مر جاتے ہیں۔

اس فلم کو 1973 کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی ہارر فلم قرار دیا تھا، جس کے کئی سین اصل واقعات سے متاثر تھے، اس فلم کی کہانی ایک ایسی بچی پر مبنی تھی جس پر بھوت کا سایہ آجاتا ہے، جس سے وہ خود کو تکلیف دینا شروع کردیتی ہے۔

’دی اومن‘ 1976

ایک اور فلم جس کے بارے میں یہ مانا جاتا ہے کہ یہ نحوست کا شکار رہی وہ ’دی اومن‘ تھی۔ اس فلم کے اداکار گریگری پیک جب فلم کی شوٹنگ کے لیے لندن جا رہے تھے تو ان کے جہاز پر بجلی گری تھی اگرچہ جہاز کے مسافروں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ اس کے چند روز بعد اسی فلم کے پروڈیوسر میس نیوفیلڈ کے جہاز پر بھی بجلی گری۔

اس کے چند ہفتوں بعد ہی گریگری پیک جہاز کے حادثے سے بال بال بچ گئے جب آخری لمحوں پر انہوں نے اپنی فلائٹ کینسل کروا دی، جس فلائیٹ پر وہ جانے والے تھے وہ جہاز کریش ہو گیا اور مسافر اور عملے کے تمام افراد ہلاک ہو گئے۔

اس فلم کی شوٹنگ مکمل ہونے کے چند ہفتوں بعد ہی اس فلم کے سیٹ پر کام کرنے والے ایک animal handler کو ایک شیر نے ہلاک کر دیا۔

یہ مسٹری فلم ایک شادی شدہ جوڑے کے بچے کو گود لینے کی کہانی پر مبنی ہے، جب اس بچے سے قریبی افراد ایک ایک کرکے مرنا شروع ہوتے ہیں تو اس کے والد اس کے ماضی کی کھوج لگانا شرور کرتے ہیں۔

’دی کرو‘ 1994

مشہور اداکار بروس لی کے بیٹے 28 سالہ اداکار برینڈن لی فلم کے ایک سین کے دوران بندوق کے اچانک چل جانے سے ہلاک ہو گئے تھے،

رپورٹ کے مطابق فلم کے سیٹ پر تمام بندوقوں میں نقلی گولیاں ہونا چاہیے تھیں لیکن عملے کی غلطی کی وجہ سے ایک بندوق میں اصلی گولیاں رہ گئیں، وہی بندوق اتفاقاً فائر ہوئی اور گولی برینڈن لی کو آ کر لگی۔ جس سے وہ ہلاک ہوگئے، خود بروس لی کی وفات پراسرار حالات میں ہوئی تھی-

اس فلم کی کہانی دو ایسی پریمیوں پر مبنی ہے جنہیں ان کی شادی سے ایک رات قبل بےرحمی سے قتل کردیا جاتا ہے، تاہم ایک سال بعد ٹھیک اس ہی تاریخ کو وہ نوجوان بیٹ مین کی شکل اختیار کرکے اپنی قبر سے واپس آتا ہے اور قاتلوں سے بدلہ لیتا ہے۔

’روز میریز بے بی‘ 1968

رپورٹس میں بتایا گیا کہ اس فلم کو لوگوں نے منحوس تو قرار دیا تاہم یہ ایسی فلموں میں اب تک کی سب سے زیادہ ہٹ ہونے والی فلم ثابت ہوئی۔

جیسے ہی یہ فلم ریلیز ہوئی، اس کے فوری بعد فلم کے کمپوزر اونچائی سے گر کر ہلاک ہوگئے، پروڈیوسر ویلیم کاسٹل گردے میں پتھری کے باعث ہسپتال میں داخل ہوئے جن کی زندگی بڑی مشکل سے بچائی گئی۔

فلم کے ہدایت کار رومن پولنسکی کی حاملہ اہلیہ کو بھی بےرحمی سے قتل کردیا گیا تھا۔

فلم کی کہانی ایک شادی شدہ جوڑے پر مبنی ہے، جس میں حاملہ عورت کو یہ پتا چلتا ہے کہ اس کے حمل میں موجود بچہ کوئی انسان نہیں اور اس کا اس دنیا سے تعلق نہیں ہے، جس کی حقیقت اس بچے کی پیدائش کے بعد سامنے آتی ہے۔

’اینا بیل‘ 2014

اس ہارر فلم کی شوٹنگ کے دوران ہدایت کار اور ٹیم کے ساتھ بھی کئی ڈراؤنے واقعات پیش آئے۔

فلم کے ہدایت کار نے بتایا کہ ایک ہارر سین کی شوٹنگ کے دوران ایک اداکار کے سر پر لائٹ آکر گری تھی جس سے وہ ذخمی ہوئی، حیرت انگیز طور پر یہ وہی جگہ تھی جہاں اس اداکار کی فلم میں موت واقع ہونی تھی۔

اس فلم کی کہانی کا آغاز ایک ایسے شادی شدہ جوڑے سے ہوتا ہے جہاں شوہر اپنی حاملہ بیوی کو ایک گڑیا تضفے میں دیتا ہے، جس کے بعد اس گڑیا میں بھوت کا سایا آجاتا ہے جس سے یہ گڑیا جہاں بھی جاتی ہے وہاں لوگوں کی زندگی متاثر کرتی ہے۔

’دی کونکیرر‘ 1956

حیرت انگیز طور پر اس فلم سے تعلق رکھنے والے 220 افراد کینسر کے مرض میں مبتلا ہوگئے تھے، تاہم بعدازاں یہ رپورٹ سامنے آئی کی امریکی ریاست نیواڈا میں جہاں فلم کی شوٹنگ جاری تھی اس کے قریب ایٹمی تجربات کیے جارہے تھے، جس کی وجہ سے یہ تمام افراد متاثر ہوئے۔

اس فلم کی کہانی چنگیز خان سے متاثر ہوکر بنائی ہے، جو تاتاری کے راجا کی بیٹی کی محبت میں مبتلا ہوکر اسے اغواء کرلیتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *