اسلام آباد میں اسرائیلی طیارے کی آمد

پچھلے ہفتے جس پرائیویٹ اسرائیلی جیٹ کا اسلام آباد مین آنے کا واقعہ رپورٹ کیا گیا اس نے ملک بھر میں اس قدر سنسنی پھیلا دی جیسے ایک اڑتے ہوئے ساسر کی سرخ اور نیلی بتیاں دیکھنے والوں کی توجہ حاصل کر لیتی ہیں۔

یہ اسرائیل کے معروف لبرل روزنامہ ہاریٹز کی انگریزی  شمارہ کے ایڈیٹر ایوی سکارف کا ٹویٹ ہے جس نے بلی کو پاکستانی کبوتروں کے بیچ گھیرلیا: ''اسرائیلی جیٹ  تلا بیب سے اسلام آباد پاکستان کی طرف اڑا، 10 گھنٹے تک  پاکستانی زمین پر رہا اور واپس تلا بیب روانہ ہو گیا ۔''

اس اڑان سے بڑھ کردلچسپی کا باعث پاکستانی عوام کا رد عمل تھا:  ساری سیاسی پارٹیوں نے احتجاج کیا لیکن حکومت نے اس واقعہ کو سچ ماننے سے ہی انکار کر دیا۔ تاہم اگر کوئی اسرائیلی  نمائندے نے  دارالحکومت کا خفیہ دورہ کیا ہے تو یہ اس ملک  کی اسلامی ریاستی تک رسائی کی  پالیسی کا ایک حصہ ہو گا ۔

حال ہی میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجامین نیتن یاہو نے اومان کا دورہ کیا  جہاں ان کا سلطان قابوس نے پرتپاک استقبال کیا۔ دو دن بعد اسرائیلی کلچر منسٹر میری ریگیو جوڈو چیمپئن شپ کے اوارڈ میڈل تقریب میں ابو ظہبی میں تھے۔ کیوں کہ اسرائیلی ٹیم یہ مقابلہ جیت چکی تھی، یو اے ای میں پہلی مرتبہ اسرائیل کا قومی ترانہ پیش کیا گیا۔

اور اسرائیل کی سعودی عرب کے ساتھ بڑھتی ہوئی ہمدردیاں اور دونوں ایران مخالف ریاستوں کے درمیان بڑھتا ہوا اتحاد چھپا ہوا نہیں ہے۔ یہ خفیہ اسرائیلی دورہ اس 6 بلین ڈالر کے بیل آؤٹ معائدے کا ایک پہلو ہو سکتا ہے جو حال میں سعودیہ کی طرف سے پاکستان کو  دیا گیا تھا۔ یاد رکھیں کہ  دنیا میں کوئی چیز فری میں نہیں ملتی۔

اگرچہ یہ ایک افواہ ہوسکتی ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ بہت سی عرب ریاستیں یا تو اسرائیل کو تسلیم کر چکی ہیں اور ان کے  تلا بیب میں سفارتخانے ہیں یا پھر اس کے ساتھ رسمی بندھنوں کے بغیر شفاف معائدے کرتی ہیں۔ وہ محسوس کرتے ہیں کہ فلسطین پر امریکہ اور اسرائیل کی مکمل  ہم آہنگی کے  ہوتے ہوئے ایک آزاد ریاست کا قیام ممکن نہیں ہے۔   اسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے عربوں کو بھی اب فلسطین سے ہمدردی دکھانے کا  کوئی شوق نہیں ہے۔

ہاریٹز کے ایک حالیہ جریدے میں کنور خلدون شاہد لکھتے ہیں: ''کیا اسلام آباد کی اپنی بڑھتی ہوئی اینٹی سیمیٹزم  اور اس کی چالوں کے بارے میں بڑھتی ہوئی سازشی تھیوری کو ترک کر دینا چاہیے ، اسی دوران اسے یہ بھی معلوم ہو جاے گا کہ جیو پولیٹیکل انٹرسٹس کو دیکھتے ہوئے  پاکستان اور اسرائیل کے درمیان ایک مشترکہ خوبی ہے  وہ یہ ہے کہ یہ دونوں ممالک مذہب کی بنیاد پر قائم ہوئے ہیں۔

تو ہم اسرائیل کی طرف حساس کیوں ہیں؟ کسی ملک کو تسلیم کرنا اس کا اچھا ہونے پر انحصار نہیں کرتا  بلکہ اس بات پر منحصر ہے کہ ایک ریاست جو کیسے بھی وجود میں آئی ہو، اقوام متحدہ کے تمام قوانین کے مطابق ریاست کے طور پر پہچان رکھتی ہے۔ اسرائیل کا فلسطینی زمین پر مسلسل قبضہ اور مظلوم  لوگوں کے ساتھ اس کا گھناؤنا سلوک  اس پر ہونے والی سخت تنقید کا باعث ہیں۔ مجھے یہ تک یاد نہیں کہ میں خود فلسطین  پر اسرائیل کے ظالمانہ رویے پر لکھ چکا ہوں۔

لیکن میں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل کی پالیسیوں پر اثر انداز ہونے کے لیے ہمیں تلابیب  میں سفارتی موجودگی یقینی بنانا ہو گی۔ اور اگر اسرائیل کو تسلیم کرنے کا عمل اچھے رویے پر منحصر ہے تو ہم میانمار سے  روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام پر اپنا سفارتخانہ ختم کیوں نہیں کر دیتے؟

اگر اسرائیل کو تسلیم کرنے  کی وجہ عرب ممالک کے ساتھ ہمدردی کا اظہار ہے تو میں آپ کو یاد دلاوں کہ مصر اور جورڈن نے آج سے کہیں پہلے اسرائیل کے ساتھ امن  معاہدے کر رکھے ہیں۔  دوسری عرب ریاستیں بھی ظاہری یا خفیہ دونوں طرح سے اسی راہ پر گامزن ہیں۔ صرف ایران نے فلسطین  معاملے پر استقامت دکھائی ہے۔ تو سوال یہی پیدا ہوتا ہے: اگر ہمسایہ عرب ریاستیں اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرتی ہیں تو ہم کیوں نہیں کر  سکتے؟ ہمارے اس کے ساتھ کوئی علاقائی جھگڑے نہیں ہیں، نہ ہی ہمارا فلسطین کے ساتھ فوجی مدد کا کوئی مقصد یا مطلب ہے۔ یا کیا ہم اپنے آپ کو ترکوں اور عربوں سے بہتر مسلمان تصور کرتے ہیں؟

ایک کارپوریٹ اسرائیلی جیٹ کی پاکستان آمد پر اتنے سخت رد عمل کی کیا وجہ ہے؟  یہ یقینا سچ ہے کہ زیادہ تر پاکستان  صیہونیت سے نفرت کرتے ہیں  باوجود اس بات کے کہ وہ کبھی کسی یہودی سے نہیں ملے۔   اور فلسطین  کا مسئلہ ایسا ہے کہ یہ ہر کسی کے دل کو خیرہ کرتا ہے باوجود اس حقیقت کے کہ وہ زیادہ مذہبی نہیں ہیں۔

اصل میں مجھے لگتا ہ کہ اسرائیل کی تخلیق ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ مسلم امت کس قدر کمزور ہو چکی ہے  جب 1948 میں ایک نئے ملک اسرائیل نے تمام عرب ریاستوں کو شکست دے دی۔  اب اسرائیلی ڈیفنس فورس ایک مقامی سپر پاور بن چکی ہے جس نے عرب ریاستوں کی کمزوریوں کو اکثر بے نقاب کیا ہے۔

مجھے  اس میں کوئی شک نہیں کہ  کوئی بھی پاکستانی حکومت جب اسرائیل کو تسلیم کرے گی تو اس کے خلاف مذہبی جماعتوں کی طرف سے  پرتشدد مظاہرے ہوں گے ۔ شاید یہی چیز ہے جس نے سابقہ حکومتوں، فوجی اور سول دونوں،  نے اسرائیل سے دوری اختیار کیے رکھی۔

لیکن پالیسی بلیک میلنگ کے سامنے کمزور نہیں ہونی چاہیے، خاص طور پر اسو قت جب معاملہ قومی مفاد کا ہو۔ آج کے دور میں اسرائیل بہترین دفاعی مواد تیار کر رہا ہے اور چین اور بھارت اس کے سب سے بڑے گاہک ہیں۔ اور یہ پانی کے  بہترین استعمال میں بھی اسرائیل  ایک  ورلڈ لیڈر ہے۔ اس لیے یہ واضح ہے کہ ہم اپنی دشمن اسرائیلی ریاست سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *