کیا تحریک لبیک اپنا وجود برقرار رکھے گی؟

" عارفہ نور "

ہم ریاست کے ایک اور 'سرینڈر' سے گزر رہے ہیں۔ اس 'سرینڈر' کے گرد گھومنے والی مبالغہ آرائی اتنی شدید تھی جتنی وزیر اعظم کی تقریر پر ان کی تعریف کی شدت ملک بھر میں نظر آ رہی تھی۔  ٹویٹ واپس لینے سے لے کر ان دو دھرنوں تک  سرنڈر  کی رفتار آئے دن تیز ہوتی جا رہی ہے۔ اور ان مین سے کوئی بھی معمولی  نوعیت کا نہیں ہوتا، ہر کوئی 'سرینڈر' 1971 کے سرینڈر جیسی منزلت رکھتا ہے۔

یہ ایک مقام شکر ہے کہ ہم ابھی اپنی زمین پر موجود ہیں ۔

لیکن  تحریک لبیک کے سامنے پچھلے 2 'سرینڈرز' جن میں سے ایک بار ن لیگ کو اور ایک بار پی ٹی آئی کو کرنا پڑا،  نے ایک بار پھر ریاست کے مذہبی سیاسی جماعتوں کے ساتھ تعلق کو نمایاں کیا ہے، جس کا فوکس افغان جنگ کے آغاز سے ہی دیوبندی گروہ  پر  رہا ہے ۔ تاہم، خادم رضوی اور ٹی ایل پی کے ابھرنے سے یہ سلسلہ بدل سکتا ہے۔

اب تک ہمارا غصہ ریاست کے دیوبندی طالبان کےساتھ تعلقات پر تھا جس کی وجہ سے دیوبندی گروپ پھیلتے گئے۔ افغان جنگ سے لے کر کشمیر کے مسئلہ تک  ہر معاملہ میں ان گروپوں کو  ہمسایہ ممالک کے خلاف پالیسی اہداف کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ اور اگر اس عمل میں ہمیں ذاتی طور پر کوئی قیمت چکانی پڑتی،  تو اسے بھی معمولی سمجھ کر نظر انداز کیا جاتا۔ میرا اشارہ فرقہ وارانہ تشدد کی طرف ہے۔

(ولی ناصر جیسی چند مخصوص آوازیں انتخابی سیاست پر توجہ دیتی تھیں  یہ دیکھ رہی تھیں کہ ریاست کا اسلام کے ساتھ جوڑا جانا  ایسی صورتحال کا باعث تھا جہاں مذہبی سیاسی جماعتیں انتخابی سیاست سے دور رہتی تھیں۔ یہ زیادہ تر مسلم دنیا کے بالکل بر عکس تھا جہاں ریاست کی اپوزیشن ناگزیر طور پر مذہبی سیاسی جماعت کی شکل  اختیار کر  لیتی تھی جیسا کہ اخوان المسلمون یاایران کی مذہبی جماعتوں کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ لیکن  سب سے زیادہ  استعمال کیا جانے والااعتراض ملی ٹینٹ گروپس کی سرپرستی کا ہوتا تھا۔

9/11 کے واقعے کے بعد دنیا نے آخر کار ریاست کی سوچ بدل دی۔ سوچ کی یہ تبدیلی عالمی لیڈران کی  طرف سے نہیں بلکہ مقامی حالات کی بدولت ممکن ہوئی تھی۔  فاٹا سے سوات  تک عسکری گروہوں کی موجودگی ، شہروں پر دہشت گردوں کے حملے اور نتیجے میں ضائع ہونے والی جانیں ، ان سب چیزوں نے ریاست کو تشدد کے خلاف حرکت کرنے پر مجبور کیا۔ اب ریاست کے گروہوں سے تعلقات مشکوک بن چکے تھے ۔ کچھ گروہوں کی سرپرستی فور ی طور پر ترک کر دی گئی ، کچھ کو کچھ وقت کے بعد چھورا گیا اور کچھ کے ساتھ محبت اور نفرت کے تعلقات خفیہ طور پر جاری رہے۔

لیکن ہر ایک کے لیے مسئلہ کا باعث  دیوبندی گروپ ہی تھے اور وہی توجہ کا مرکز تھے۔  دوسری طرف بریلوی پر امن تھے  اور ان سے کسی کو کوئی خوف نہیں تھا۔ اصل میں 9/11 کے بعد  کی دنیا میں زیادہ پر امن اسلام کے فروغ کے لیے بریلوی طبقہ کو مدد فراہم کی جاتی تھی  اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ مسئلہ سیاسی نہیں بلکہ ترجمانی کا ہے۔

لیکن 2010  کے بعد نقشہ تبدیل ہو گیا۔

سلمان تاثیر کا قتل  اور کچھ دوسرے واقعات  جو اس قتل کے باعث رونما ہوئے،  کی وجہ سے تحریک لبیک کی بنیاد پڑی  جو انتخابی چیلنج کے علاوہ تشدد کا خطرہ بھی نظر آتی ہے۔

تاہم ابھی تک تشدد کی دھمکی موجودہ دیوبندی گروہوں سے کچھ الگ طرح کی دکھائی دیتی ہے۔ اگر دیوبندی گروپوں نے عسکری تشدد کی وجہ سے ریاست کی رٹ کو چیلنج کر رکھا تھا اور اسی سلسلہ میں کچھ علاقوں پر قبضہ بھی کر لیا تھا تو دوسری طرف بریلوی طبقہ  نے جتھوں کی شکل میں شدت پسندی کے ذریعے سوسائٹی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

تاثیر کے قتل کے بعد سے اس مکتب فکر کے بریلویوں کی طرف سے کوئی بھی ہائی پروفائل قتل کا واقعہ نمودار نہیں ہوا،  لیکن یہ واضح نہیں کہ آیا اس کی وجہ سلمان تاثیر کے  قتل کے بعد اس معاملہ پر بحث کا خاتمہ تھا یا کوئی اور وجہ تھی۔

ان کی موت سے تعلق رکھنے والے دوسرے قتل اور تشدد کے واقعات (شہباز بھٹی کے قتل سے لے کر تاثیر کے بیٹے کا اغوا) کا الزام  ٹی ٹی پی پر لگایا جاتا ہے۔ توہین مذہب   کے معاملے پر بریلوی اور دیوبند ی طبقہ میں ہم آہنگی دکھائی دیتی ہے لیکن عام طور پر انتخابی  عمل میں شامل ہونے والی  پارٹیاں بھی توہین مذہب کے قانون کے ساتھ کھڑا ہوتی نظر آتی ہیں۔ اس مسئلہ پر  شدت پسند گروپوں اور ٹی ایل پی کو اکٹھا دیکھنا بھی ایک بڑا مسئلہ تصور نہیں کیا جا رہا۔

اس کے علاوہ کچھ تجزیہ نگاروں کے مطابق ٹی ایل پی نے اس جگہ انتخابی سیاست کو چنا جہاں زیادہ تر پی ایم ایل این کا ووٹ بینک ہے،  لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس جماعت نے دوسری مذہبی جماعتون  جیسے جماعت اسلامی اور جے یو آئی ایف کے ووٹ بینک کو بھی بہت متاثر کیا ہے۔

لیکن  اس کے زیادہ مین سٹریم انتخاب کے باوجود ریاست کے ساتھ اس کا تعلق اتنا سادہ نہیں جتنا کہ بیان کیا جاتا ہے۔ اس کے  سڑکوں پر احتجاج اور تشدد کے سامنے ریاست کو ہتھیار ڈال کر مذاکرات پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔

پچھلے دھرنے کے دوران یہ ٰٰخیال کیا گیا تھا کہ احتجاج کرنے والوں کو سول ملٹری  تعلقات کی خرابی کی وجہ سے شہہ ملی ہے لیکن اس بار  سازشی تھیوری میں یقین کرنے والوں کے علاوہ کوئی اس بات پر یقین کرنے کو تیار نہیں ہے ۔ اس کے باوجود احتجاج کے اختتام میں صرف دورانیہ کا فرق تھا۔

دوسرے طریقے سے اگر دیکھا جائے تو  یہ وہ زبان ہے جو خادم  رضوی اور ان کے ساتھیوں نے ریاستی اداروں اور ان کے سربراہان کے خلاف استعمال کی۔ اس طرح کی زبان کی دیوبندی گروہوں سے کبھی توقع نہیں رکھی گئی، خاص طور پر ان سے تو بلکل بھی  نہیں جو انتخابی سیاست میں حصہ لیتے ہیں۔

سینیر فوجی عہدیدار کے خلاف الزامات کو دیکھ  لیں جو رضوی اور ان کے مریدوں نے اپنی تقریروں میں  لگائے ہیں۔ یہ الزام پہلے دیوبندی شخصیت (جو خود بھی پارلیمنٹ کا حصہ رہا) کی طرف سے لگایا گیا تھا  اٹھایا گیااور کچھ ہی دنوں میں اس کی تردید کر دی گئی جس کی وجہ حکومت کی طرف سے ناراضگی کا اظہار تھا۔ لیکن کوئی بھی خادم  رضوی پر اس طرح کے اثر انداز ہونے کی قابلیت نہیں رکھتا۔

 ٹی ایل پی  تحریک کے سڑکوں پر احتجاج اور تشدد کو بھی کنٹرول کرنا اتنا آسان نہین ہے جتنا دفاع پاکستان کونسل  کے احتجاج کو کنٹرول کرنا ہے جس میں دونوں دیوبندی اور بریلوی جماعتیں ایک چھاتے کے  نیچے موجود ہوتی ہیں۔  دونوں مذہبی گروپوں میں بریلوی گروپ زیادہ طاقتور معلوم ہوتا ہے۔ ڈی ایف سی کے احتجاج  آتے جاتے رہتے ہیں، ان کے آؤٹ آف کنٹرول ہونے کا  خوف نہیں ہوتا ۔

ابھی یہ اندازہ لگانا قبل از وقت ہو گا کہ ٹی ایل پی ملک کے انتخابی  منظر نامے  یا مذہبی سیاسی منظرنامے پر کس حد تک اثر انداز ہو سکتی ہے  کیونکہ ایک ہی ایجنڈا پر کا م کرنے والی پارٹیاں تا دیر قائم نہیں رہ سکتی ہیں تاہم اس کی لوگوں کو اکٹھا کرنے کی اہلیت، چاہے یہ ووٹ کے لیے  ہو یا احتجاج کے لیے، سے ایسے لگتا ہے کہ اس پارٹی کا  تاثر اور سیاسی مستقبل اتنا مختصر نہیں ہو گا ۔البتہ ایک زیادہ حقیقت پسندانہ تجزیہ کےلیے  درست وقت کا انتظار کرنا ہو گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *