پاکستان یمن کے معاملے پر مصالحت کے لیے کام کررہا ہے، ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل کا کہنا ہے کہ پاکستان یمن کے معاملے پر مصالحت کے لیے کام کررہا ہے تاہم اس معاملے پر تفصیلات ابھی ظاہر نہیں کی جاسکتیں۔

ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے چینی ہم منصب کی دعوت پر چین کا دورہ کیا، دورے سے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں مدد ملی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان یمن کے معاملے پر مصالحت کے لیے کام کررہا ہے تاہم اس معاملے پر تفصیلات ابھی ظاہر نہیں کی جاسکتیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ برطانوی پارلیمانی گروپ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کو بے نقاب کیا، مقبوضہ کشمیر میں مظالم پراقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل کے بعد دوسری عالمی رپورٹ ہے، رپورٹ نے مقبوضہ کشمیر میں لاگو کالے قوانین کی نشاندہی کی جب کہ رپورٹ میں تحقیقاتی کمیشن کو مقبوضہ کشمیر کے دورے کی تجویز دی گئی ہے۔

ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ بھارتی قابض افواج نے مقبوضہ کشمیر میں 19 نہتے کشمیریوں کو شہید کیا، وزیرخارجہ نے بھارتی بربریت کی شدید مذمت کی تاہم عالمی برادری کشمیر میں بھارتی بربریت کی روک تھام کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ آسیہ بی بی پاکستان میں محفوظ جگہ پر موجود ہے، میڈیا اس طرح کی خبروں سے پہلے تصدیق کر لیا کرے، آسیہ بی بی اب آزاد شہری ہیں، آسیہ بی بی عدالتی فیصلے کے بعد جہاں جانا چاہتی ہیں جا سکتی ہیں، آزاد شہری کی نقل و حرکت پر کوئی پابندی نہیں، آسیہ بی بی کیخلاف نظر ثانی کی درخواست عدالت میں ہے اور قانونی طور پر اگر ان کو باہر جانے سے روکا جا سکتا ہے تو وزارت داخلہ بتا سکتی ہے۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے حوالے سے امریکا سے بات ہوئی ہے تاہم رہائی کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں ہوا لہذا جب فیصلہ نہیں ہوا تو نہیں کہہ سکتے کہ رہائی کب تک ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ عافیہ صدیقی کا معاملہ ایک جذباتی معاملہ ہے، اس معاملہ کو خفیہ پردے میں نہیں اٹھایا گیا، اس معاملہ کے حوالے سے ڈیویلپمنٹس ہیں لیکن ابھی بتائی نہیں جاسکتی، اب بھی اس مسئلے پر بات چیت ہو رہی ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بھارتی ایٹمی آبدوز کے گشت شروع کرنے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی ایٹمی آبدوز کا اس طرح گشت کرنا عالمی امن کے لیے خطرہ ہے تاہم کسی کو پاکستان کی صلاحیتوں پر شک نہیں ہونا چاہیے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *