پنجاب میں ’’تبدیلی‘‘ تعاون‘ عدم تعاون کی ہوائیں

بالآخر فیصلہ کیا آئے گا اس کے بارے میں قیاس آرائی سے اجتناب قانون کے احترام میں ضروری ہے۔ نواز شریف اور ان کی صاحبزادی کی سزائوں کے خلاف معطلی کی اپیل سنتے ہوئے چیف جسٹس صاحب نے لیکن جو کلمات کہے انہوں نے سابقہ وزیر اعظم کے نام سے منسوب ہوئی پاکستان مسلم لیگ کی صفوں میں مایوسی پھیلادی ہے۔

بدھ کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران یہ مایوسی بہت واضح ہوکر سامنے ا ٓئی۔ دوحکومتی وزیروں-فیصل ووڈا اور مراد سعید- نے اس کا بھرپور انداز میں فائدہ اٹھایا۔ پانی کے وزیرنے الزام لگایا کہ نواز شریف سندھ اور بلوچستان کے لئے مختص پانی کو ’’زبانی احکامات ‘‘ کے ذریعے (غالباََ پنجاب کے لئے) ’’چوری‘‘ کرتے رہے۔الزام بہت سنگین تھا جو سندھ اور بلوچستان کے زمینداروں کے دلوں میں پنجاب کے خلاف موجود بدگمانیوں کو بڑھاوا دینے میں مددگار ہوسکتا ہے۔

اپوزیشن بنچوں پر اس وقت نون والوں کی ایک خاطر خواہ تعداد موجود تھی۔ گزشتہ دورِ حکومت میں کئی برس تک پانی اور بجلی کے وزیر رہے خواجہ آصف بھی اپنی نشست پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کی موجودگی میں نون والے اپنے مخالفین کی جانب سے ہوئے زبانی حملوں سے پریشان نہیں ہوتے۔خواجہ صاحب مگر خاموش رہے۔ فیصل ووڈا کو بروقت چیک نہیں کیا جاسکا۔ شاہد خاقان عباسی جب دفاع کرنے کو اُٹھے تو انگریزی محاورے والا Damageہوچکا تھا۔

شاہد خاقان عباسی بہت خلوص سے یہ فریاد کرتے رہے کہ سندھ اور بلوچستان میں فیصل ووڈا کی جانب سے لگائے الزامات کی وجہ سے ممکنہ طورپر ابھری بدگمانی کے تدارک کے لئے ضروری ہے کہ قومی اسمبلی کی ایک کمیٹی گزشتہ برسوں میں پانی کی فراہمی کے بارے میں ریکارڈ پر موجود اعدادوشمار کا جائزہ لے۔ ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے مگر ان کی درخواست کو سنجیدگی سے لینے کا ترددہی نہ کیا اور مائیک مراد سعید کو دے دیا۔

لڑاکو افراد کی طرح اپنی کمر پر دایاں ہاتھ جمائے مراد سعید نے ایک طولانی تقریر فرمائی۔ نواز شریف کو اس کے ذریعے Certifiedیعنی سپریم کورٹ کی جانب سے سزا یافتہ ’’چور‘‘ قرار دیا۔ ان کے خیال میں یہ ’’اعزاز‘‘ فقط سابق وزیر اعظم ہی کو نہیں بلکہ ان کے بیٹوں،دُختر اور ’’گھرداماد‘‘ کو بھی نصیب ہوا ہے۔ نون کے بنچوں پر اس تقریر کے دوران تھوڑا اضطراب تو ضرور نظر آیا مگر ہنگامہ آرائی کی صورت نہ بن پائی۔ شہباز شریف کی ایوان میں آمد کے بعد رانا ثناء اللہ کو جوابی تقریر کا موقع ملا۔ رانا صاحب کی عمومی شہرت کے تناظر میں اگرچہ ان کی جانب سے ہوئی تقریر نسبتاََ ’’پھسپھسی‘‘ محسوس ہوئی۔

بدھ کے اجلاس کے بعد نون کے کئی لوگوں سے ’’آف دی ریکارڈ‘‘ گفتگو کے دوران مجھے محسوس ہوا کہ ان کی دانست میں نواز شریف کی اپنی دُختر سمیت اڈیالہ واپسی دیوار پر لکھی نظر آرہی ہے۔ وہ آنے والے کئی مہینوں تک اپنے رہ نما کی جاں بخشی کا کوئی امکان دیکھ نہیں پارہے تھے۔

نواز شریف کے نام سے منسوب جماعت کی صفوں پر چھائی مایوسی تحریک انصاف کو اعتماد واطمینان فراہم کرتی نظر آرہی ہے۔پارلیمان کی غلام گردشوں میں گھومتے ہوئے لیکن بدھ کے روز سنی چند سرگوشیوں نے مجھے یہ سوچنے کو مجبور کیا کہ ان کا اطمینان واعتماد بہت دیر تک برقرار نہیں رہ پائے گا۔

سپریم کورٹ کی جانب سے ایک قطعاََ مختلف مسئلہ پر آئے فیصلے کے بعد جو معاملات اُٹھے ہیں ان سے جان چھڑانے کیلئے تحریک انصاف سڑکوںکو بند کردینے والوں سے وزیراعظم کی ’’ریاستی رٹ‘‘ کی ہر صورت بحالی والی تقریر کے باوجود ایک معاہدے پر مجبور ہوئی۔اس معاہدے کی وجہ سے سڑکیں تو کھل گئیں مگر قضیہ حتمی بنیادوں پر حل نہیں ہوا۔کچھ اہم پہلوہیں جن کے بارے میں ’’ایہہ منظور تے ایہہ نامنظور‘‘ والا رویہ نہ اپنایا گیا تو امن وامان کی صورت حال ایک بار پھرقابو سے باہر نکلتی نظر آئے گی۔

تحریک انصاف کے وزراء کافی ڈھٹائی سے یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ گزشتہ ہفتے کے آخری ایام میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد چند افراد کی جانب سے بھڑکائی آگ پر وہ ٹھنڈے دل سے فہم وفراست سے کام لیتے ہوئے بروقت قابو پانے میں کامیاب رہے۔اپنی ’’کامیابی‘‘ کو وہ شاہد خاقان عباسی کی اس ’’بے بسی‘‘کے مقابلے میں فخریہ انداز میں رکھ کر دیکھ رہے ہیں جو راولپنڈی کو اسلام آباد سے ملانے والے فیض آباد چوک پر 22دنوں تک پھیلے دھرنے کے دوران نظر آئی تھی۔

سیاسی مبصرین کا ایک مؤثر حصہ جو عموماََ نواز شریف کے مقابلے میں عمران خان کا مداح رہا ہے،اس تعبیر سے اتفاق نہیں کرتا۔ ایسے کئی مبصرین نے ذاتی تجربات کے ذریعے اصرار کیا ہے کہ حکومتِ پنجاب اگر ذرا چوکسی دکھاتی تو گزشتہ ہفتے کے آخری ایام کے دوران ہوئے ہنگاموں پر ’’ریاستی رٹ کی بحالی‘‘ والے رویے کو بروئے کارلاکرقابو پایا جاسکتا تھا۔پنجاب کی پولیس اور انتظامیہ لیکن مؤثر اور متحرک رہ نمائی سے محروم نظر آئی۔

’’رہ نمائی‘‘ کے بارے میں اٹھائے سوالات نے ایک بار پھر وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کی انتظامی صلاحیتوں کو توجہ کا مرکز بنادیا ہے۔ ایک بہت ہی معتبر ذریعے سے خبر مجھے یہ ملی ہے کہ پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کے بنچوں پر بیٹھے 26(جی ہاں مجھے 25یا 27نہیں 26بتایا گیا ہے) افراد اب ایک گروپ کی صورت یکجاہوکر ان کی تبدیلی کا مطالبہ کرنے کی ترکیبیں ڈھونڈ رہے ہیں۔

ایک بار پھر یہ خواہش جاگ رہی ہے کہ پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ چودھری پرویز الٰہی کو سونپنے کی راہ نکالی جائے۔ چودھری صاحب کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ اُمید بھی باندھی جارہی ہے کہ نواز شریف صاحب کے اڈیالہ جیل لوٹ جانے کی صورت میں ان کے نام سے منسوب ہوئی جماعت کی ایک کثیر تعداد ان کی حکومت سے اگر برملا نہیں توخاموشی سے تعاون کرنے کو تیار ہوجائے گی۔اگر یہ ہوگیا تو تحریک انصاف کے نام نہاد اصولی اور بنیادی اراکین چندماہ بعد پنجاب حکومت کے بارے میں ویسا ہی محسوس کرتے پائے جائیں گے جو پیپلز پارٹی کے ازلی ’’جیالے‘‘ 1993سے 1996تک منظور وٹو کی پنجاب میں وزارتِ اعلیٰ کے بارے میں سوچا کرتے تھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *