منت سماجت کے خطرات

ایسا لگ رہا تھا کہ وہ لمحہ آ گیا ہے جس کا انتظار تھا۔ ججوں نے ڈر کا گھیرا توڑ دیا تھا۔ وزیر اعظم کے سخت الفاظ نے  قوم کو  سہارا دیا۔  یہ سوچا جا رہا تھا کہ سول ملٹری قیادت ایک پیج پر ہے۔

لیکن جب سب سے اہم لمحہ آن پہنچا تو  حکومت نے ہتھیار ڈال دیے۔ یقینا یہ پہلا موقع نہیں تھا جب ریاست کو پر تشدد عسکریت پسندی کی وجہ سے گھٹنے ٹیکنے پڑے، لیکن سرنڈر کی شرائط اتنی ذلت آمیز نہیں تھیں۔ اور آسیہ بی بی کا معاملہ ، سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے  اس کو بے گناہ قرار دیے جانے کے باوجود ابھی خاتمہ سے بہت دور ہے۔

 بات صرف معاہدے کی شقوں تک محدود نہیں ہے  اصل میں جو چیز زیادہ معنی رکھتی ہے وہ یہ ہے کہ حکومت ان انتہا پسند علما کے سامنے جھک گئی ہے جنہوں نے کھل کر ججوں کو قتل کرنے اور آرمی چیف کے خلاف کھلی بغاوت کے اعلانات کیے۔ ان کی سول اور ملٹری قیادت کو ہٹانے کی باتیں غداری کے زمرے میں آتی ہیں۔  حکومت کا یہ دعوی ہے کہ اس  معاہدے نے امن کی بحالی میں مدد کی، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اس کی شکست نے ریاست کی طاقت کو کمزور کر دیا ہے  اور مذہبی جماعتوں کو زیادہ طاقت بخشی ہے۔

کوئی بھی انسانی حقوق کی وفاقی وزیر شیریں مزاری سے اس بات پر اختلاف نہیں کر سکتا  کہ  ''خون ریزی سے بچنے کے لیے سرنڈر کرنا غیر ریاستی عناصر کو ایک غلط پیغام کی حیثیت رکھتا ہے اور جمہوری طریقے سے  پر امن احتجاج کے تصور کو کمزور کر رہا ہے۔ حکومتی گروپ میں وہ چند ایک عقلمند اور سمجھدار شخصیت سمجھی جاتی ہیں ، وہ حکومتی گروپ جس نے اپنے آپ کو تضادات میں گھیر رکھا ہے۔ اس ہفتے میں پیش آنے والے مسئلے پر ہونے والے معاملات نے حکومتی گروپ کے اندر کی تقسیم کو واضح کر دیا ہے۔

یقینا  سرنڈر کی پالیسی کام کرتی دکھائی نہیں دیتی کیونکہ صورتحال اب بھی نازک ہے اور ٹی ایل پی پیچھے ہٹنے سے انکار پر مصر ہے۔ اس کے بعد فساد پیدا کرنے والےل افراد پر کریک ڈاون  بھی خادم رضوی کو روکنے میں کامیاب نہیں ہو پائے گا جنہوں نے حکومت کو  آسیہ کو ملک چھوڑنے  سے روکنے کے معاہدے کے ذریعے اپنی پوزیشن مضبوط کر لی ہے ۔  یہ معاہدہ آسیہ کے ڈیتھ وارنٹ پر دستخط کی حیثیت رکھتا ہے۔

زیادہ پر خطر چیز یہ ہے کہ یہ معاملہ تمام مذہبی گروپوں جن میں مذہبی سیاسی جماعتیں بھی شامل ہیں کے لیے اہمیت رکھتا ہے اور سب مذہبی گروپوں نے سڑکوں پر آنے کی دھمکی دے رکھی ہے۔ توہین مذہب کا قانون اسلامی سیاسی جماعتوں کے خلاف جذبات پر بھی کنٹرول حاصل کر چکا ہے باوجود اس حقیقت کے کہ الیکشن میں عوام نے مذہبی جماعتوں کو مسترد کر دیا تھا۔ یہ معاملہ صرف بریلوی گروہوں جیسے کہ ٹی ایل پی تک محدود نہیں رہا۔ آسیہ بی بی کا عدالتی فیصلہ تمام فرقوں کو ایک پیج پر لے آیا ہے  جس سے حکومت کے لیے  درپیش چیلنجز سے نمٹنا مشکل تر ہو چکا ہے۔

پچھلے ہفتے جو ہوا وہ کوئی حیران کرنے والی بات نہیں تھی۔ ٹی ایل پی  کی رہنمائی میں مذہبی گروپس نے اس کیس کو ایک انتہائی جذباتی معاملے میں بدل دیا تھا۔ اس معاملے کو گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے غریب عیسائی عورت کا دفاع کرنے کی وجہ سے ایک سیکیورٹی گارڈ کے ہاتھوں قتل کے ساتھ سامنے لایا گیا۔ قاتل ممتاز قادری کی پھانسی نے بھی بریلوی عسکریت پسندی  کو بڑھاوا دیا جس کی نمائندگی ٹی ایل پی کر رہی ہے۔

یہ تحریک مکمل طور پر  توہین مذہب کے مسئلہ پر مبنی ہے۔ اس کے حمایتی ملک میں پھیلے ہوئے صرف بریلوی مدرسوں سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ اسے شہری اور دیہی آبادی خاص طور پر پنجاب کے کم تعلیم یافتہ غریب طبقات کی حمایت بھی حاصل ہے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی مذہبی انتہاپسندی کے ساتھ یہ نیا رحجان زیادہ خطرناک ہے کیوں کہ یہ لوگوں کے جذبات کو مشتعل  کرتا ہے۔ ان علما کی طرف سے استعمال کی جانے والی گندی زبان اور تشدد کی سر عام حوصلہ افزائی نے نہ صرف اقلیبی مذہبی کمیونیٹیز بلکہ اعتدال پسند مسلمانوں کی زندگیوں کو بھی تشدد کے نشانے پر لاکھڑا کیا ہے۔

ان کے پچھلے سال اسلام آباد کے محاصرے نے اس گروہ کی شہرت   کو ممکن بنایا ہے۔  ریاست کے سرینڈر نے اس گروہ کو  مزید مضبوط کر دیا جس کی اس کو انتخابات سے پہلے ضرورت تھی۔ یہ  عام تاثر کہ دارالحکومت میں   حکومت اور ٹی ایل پی کے بیچ معاہدے کے پیچھے سیکیورٹی ایجنسیاں تھیں،بھی ان کے سیاسی منظر نامے  پر ظاہر ہونے  کی ایک وجہ ہو سکتا ہے۔ اگرچہ ٹی ایل پی نے قومی اسمبلی کی ایک نشست بھی نہیں  جیتی، لیکن  ملک بھر سے 2 ملین سے زائد ووٹ حاصل کر کے  اس نے اپنی سیاسی قوت کا مظاہرہ کیا ۔

طاقت کا یہ نیا  احساس حالیہ احتجاج  میں ظاہر ہوا جس نے ملک کو تقریبا جام کر کے رکھ دیا اور حکومت کو ایک متنازعہ 5 نکاتی معاہدے پر دستخط پر  مجبور کیا گیا  جس کی قانونی حیثیت متنازعہ تھی۔ اس گروہ کے مطالبے پورے کرنا جو سپریم کورٹ کے حکم کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہے حکومت اور ریاست کے اختیار کو مزید کمزور کرے گا۔

یہ واضح تھا کہ وارننگ کے باوجود انتظامیہ نے تشدد کو روکنے کے لیے  اقدامات نہیں  کیے ۔ حالات کے ساتھ نمٹنے کا کوئی واضح منصوبہ یا حکمت عملی نہیں تھی۔ اس نا اہلی کی وجوہات میں سے ایک وجہ پی ٹی آئی کی مذہبی انتہا پسندی کے لیے نرم گوشہ ہے۔ یہ واحد سیاسی پارٹی تھی جس نے ٹی ایل پی کے اسلام آباد کے محاصرے کو جائز قرار دیا اور وزیر قانون کو ہٹانے کے مطالبے کی حمایت کی۔

کچھ سینئر پی ٹی آئی قائدین نے انتہا پسند  فرقہ واریت پر مبنی گروہوں کی ریلیوں میں بھی شرکت کی اور انتخابات میں مذہب کارڈ استعمال کیا ۔ کوئی پنجاب کے صوبائی وزیر اطلاعات کے ممتاز قادری کے مقبرے کا دورہ کرنے اور سزایافتہ قاتل کو خراج تحسین پیش کرنے کے تماشے کو کیسے بھول سکتا ہے؟ تو یہ صرف حکومت کی اہلیت کا سوال نہیں تھا بلکہ پی ٹی آئی کے اپنے بھی پوشیدہ نظریات تھے جو اس کے ذمہ دار رہے ہیں۔

یہ یقینا ایک خود ساختہ تحریک نہیں تھی جس نے ملک کو مفلوج کر دیا۔ ٹی ایل پی  اس وقت سے احتجاج کے لیے پوری طرح تیار تھی جب اکتوبر کے اوائل میں سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کیا تھا ۔ آگ کی طرح پھیلتے ہوئے تشدد نے قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو حیرانی میں ڈال دیا۔ آئی ایس پی آر چیف کی طرف سے  تشدد کی کاروائیوں کے بعد بھی یہ بیان کہ فوج مداخلت نہیں کرے گی،  مزید حیرت اور تجسس کا باعث تھا ۔ مزید حیرت کی بات یہ تھی کہ یہ بیان اس وقت آیا جب کہ ٹی ایل پی قیادت آرمی کی صفوں میں کھلی بغاوت کی حوصلہ افزائی کر رہی تھی ۔

بلا شبہ لوگوں کے حقوق کی حفاظت کرنا اور قانون کی حاکمیت برقرار رکھنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ لیکن پر تشدد  انتہا پسندی  کے معاملہ ریاست  کے لیے پریشانی کا باعث ہونا چاہیے  اور جمہوری نظام کے باقی ستونوں کو بھی یہ معاملہ سنجیدگی سے لینا چاہیے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *