بینکنگ فراڈ: ایف آئی اے اور اسٹیٹ بینک حکام کی رائے میں اختلاف

اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے حکام نے ملک میں بڑے پیمانے پر بینکنگ نظام کو درپیش خطرات کے حوالے سے ملاقات کی۔

رپورٹ کے مطابق اس سلسلے میں ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کی سربراہی میں ایک ٹیم نے ایف آئی اے کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا اور حال ہی میں سامنے آنے والے دھوکہ دہی کے واقعات پر گفتگو کی۔

اس موقع پر ایف آئی اے کی جانب سے اسٹیٹ بینک کے حکام کو ایک ہزار 5 سو 76 شکایات کی تفصیلات فراہم کی گئیں، ملاقات میں ایف آئی ٹیم کی سربراہی ڈائریکٹر جنرل بشیر میمن نے کی۔

ذرائع کے مطابق ملک میں ہونے والے بینکنگ فراڈ کے حوالے سے دونوں اداروں کے عہدیداروں کے موقف میں واضح فرق تھا، ملاقات میں ایف آئی کے ڈائریکٹر سائبر کرائم ونگ کمانڈر (ر) محمد شعیب بھی موجود تھے۔

دوسری جانب ایف آئی کے سینئر اہلکار نے بتایا کہ اکاؤنٹس سے رقم چوری ہونے کے معاملے پر بینک الاسلامی نے باضابطہ طور پر کراچی میں ایف آئی اے کے دفتر میں شکایت درج کروائی ہے۔

جس پر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی سائبر مجرموں کی جانب سے حملوں کے باعث ملک میں موجود تقریباً تمام ہی بینکوں کا ڈیٹا متاثر ہوا ہے جس سے تمام اکاؤنٹس کو خطرہ ہے اس کے لیے انہوں نے معاملے کی فوری تحقیقات پر زور دیا۔

جیسا کہ ایس بی پی نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ بینکنگ کے نظام میں خطرات موجود ہیں کیونکہ ڈیجیٹل بینکنگ میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے، اس سلسلے میں ڈائریکٹر سائبر کرائم ونگ کی سربراہی میں ایف آئی اے کی ٹیم آئندہ ہفتے کراچی آئے گی اور بینکنگ شعبے کے سربراہان سے ملاقات کرے گی۔

اس ضمن میں ایک ایف آئی اے عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ عوام کے ہیک ہونے والے اکاؤنٹس کی معلومات کی وجہ سے دونوں اداروں کے موقف میں فرق ہے، کیوں کہ بینکنگ نظام کی بنیاد ہی رازداری پر ہے، لیکن ہم کہیں گے کہ آج کل کے ڈیجیٹل دور میں کچھ بھی پوشیدہ رکھنا ممکن نہیں اس لیے بہتر ہے کہ وارننگ جاری کی جائے، ان کا کہنا تھا بینک کو اپنا حفاظتی نظام بہتر بنانا چاہیے۔

ادھر اسٹیٹ بینک کے عہدیدار کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ دھوکہ دہی، فراڈ، اور سائبر حملے 3 مختلف چیزیں ہیں ،یہاں معاملہ دھوکہ دہی اور بینکنگ فراڈ کا ہے لیکن لازمی نہیں کہ یہ سائبر حملوں کے ذریعے کیا گیا ہو، ملک میں بینکنگ کا شعبہ محفوظ ہے اور بینکنگ نظام پر بہت زیادہ سائبر حملے نہیں کیے گئے۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس طرح کے واقعات بھرپور میڈیا کوریج اور سوشل میڈیا کی دستیابی کے باعث منظر عام پر آگئے لیکن لازمی نہیں کہ ان سب کا تعلق بینکنگ فراڈ سے ہو۔

اسی طرح لوگوں کو جعلی کالز بھی موصول ہوتی ہیں جس میں موبائل فون کمپنیوں کی جانب سے انعام کا اعلان کیا جاتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ کمپنی دھوکہ دہی میں ملوث ہے، لیکن پھر بھی اسٹیٹ بینک نے ایف آئی اے کے ساتھ مل کر اس معاملے کو حل کرنے اور درج کروائی جانے والی شکایات کی تحقیقات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *