’کے الیکٹرک کو فروخت سے قبل واجبات کا معاملہ حل کرنا ہوگا‘

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی نے کہا ہے کہ کے الیکٹرک کی شہنگائی الیکٹرک کو فروخت سے پہلے کمپنی کو تمام واجبات کے معاملے کو حل کرنا ہوگا۔

سینیٹر فدا محمد کی سربراہی میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں کے الیکٹرک اور دیگر سرکاری اداروں کے درمیان جاری مالی تنازع کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔

کے الیکٹرک انتظامیہ نے بتایا کہ کمپنی مختلف مد میں حکومت کی 50 ارب روپے کی واجب الادا ہے لیکن اسی دوران مختلف سرکاری محکموں اور کمپنیوں کو بجلی کمپنی کے 65 ارب روپے ادا کرنے ہیں۔

اس ضمن میں ایک تجویز دی گئی کہ تمام اداروں پر زیر التوا ادائیگیوں کے لیے قرضے کا تبادلہ ہونا چاہیے جبکہ کمیٹی ارکان نے اس تجویز کو سراہا لیکن بیوروکریسی نے اس کی مخالفت کی۔

کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ تھا تنازع کے باعث کے الیکٹرک اور سینٹرل پاور پرچیز کمپنی کے درمیان بجلی کی خریداری کا کوئی معاہدہ نہیں ہوسکا جبکہ کے الیکٹرک نے تین سال تک جمود کو برقرار رکھنے کے لیے سندھ ہائیکورٹ سے ایک حکم امتناع حاصل کیا تھا۔

اجلاس کے دوران سیکریٹری توانائی عرفان الٰہی کا کہنا تھا کہ کے الیکٹرک کو نیشنل ڈسپیچ اور ٹرانسمیشن کمپنی، سینٹرل پاور پرچیز کمپنی اور سوئی سدرن گیس کمپنی اور دیگر اداروں کو رقم کی ادائیگی کرنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف کے الیکٹرک کو ادائیگی کرنی ہے تو دوسری طرف کچھ سبسڈی کی رقم ہے جو وزارت خزانہ نے دینی ہے، اس کے علاوہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج (کے ڈبلیو ایس بی) کے بل زیر التوا ہیں لیکن وفاقی حکومت کو کیوں ان بلوں کی ادائیگی کرنی چاہیے‘۔

بحرانی صورتحال سے بچنے کے حوالے سے ایک سوال پر سیکریٹری توانائی کا کہنا تھا کہ اس صورتحال سے نکلنے کا بہترین طریقہ کے الیکٹرک اور دیگر حکومتی اداروں کے درمیان دو طرفہ معاہدے کا ہونا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ ہماری تجویز ہے کہ کے الیکٹرک اور ایس ایس جی سی اور دیگر اداروں کے درمیان تمام معاملات ٹھیک کرنے کے لیے دو طرفہ معاہدہ ہونا چاہیے لیکن میں یہ تجویز دوں گا کہ یہ اس وقت ہی ممکن ہے کہ اگر سینیٹ کمیٹی اقدامات کرے اور وزارت خزانہ کو ہدایت دیں کہ وہ کے الیکٹرک، پاور ڈویژن اور پیٹرولیم ڈویژن کا مشترکہ اجلاس منعقد کریں‘۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *