سردیوں کا احترام کیجئے!

نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ لگ بھگ آدھا نومبر گزر جانے کے باوجود کئی لوگ سویٹر نہیں پہن رہے۔ گرم پانی سے نہیں نہا رہے۔ مونگ پھلی نہیں خرید رہے۔ پنکھے نہیں بند کر رہے۔ رضائیاں نہیں نکال رہے۔ کمبلوں کا استعمال بھی شروع نہیں کیا۔ گرم کپڑے نکال کر دھوپ نہیں لگوا رہے۔ خشک میوہ جات کی دکانوں پر نہیں جا رہے۔ سوپ نہیں پی رہے۔ اُبلے انڈے نہیں کھا رہے۔ ائیر کولروں پر پلاسٹک شیٹ نہیں باندھ رہے۔ ہیٹر نہیں چلا رہے۔ جوشاندہ نہیں پی رہے۔ دھوپ میں نہیں بیٹھ رہے۔ کوٹ نہیں ڈرائی کلین کروا رہے۔ لنڈا بازار کا چکر نہیں لگا رہے۔ دستانے نہیں خرید رہے۔ اونی ٹوپیاں نہیں لے رہے۔ گھر کی چھت پر بار بی کیو نہیں کر رہے۔ سردی سے کپکپا نہیں رہے۔ دانت نہیں بجا رہے۔ ہاتھ نہیں رگڑ رہے۔ مٹھی بند کر کے پھونکیں نہیں مار رہے۔ بھنے ہوئے چنے نہیں کھا رہے۔ تارے میرے کے تیل کی مالش نہیں کروا رہے اور موٹر سائیکل چلاتے ہوئے کسی ٹرک یا بس کے سائلنسر کا قرب بھی حاصل نہیں کر رہے۔
با وثوق ذرائع کے مطابق یہ خوفناک حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ ابھی تک کئی نا معلوم افراد مالٹے بھی نہیں کھا رہے۔ گاجریں بھی نہیں خرید رہے۔ مولیاں بھی نہیں ٹرائی کر رہے۔ مچھلی کی دکانوں کا رخ بھی نہیں کر رہے۔ گاڑیوں کے اے سی بھی نہیں بند کر رہے۔ چادریں بھی نہیں لپیٹ رہے۔ کمرے کی کھڑکیوں کے شیشے بھی نہیں بند کر رہے... اور تو اور دودھ جلیبی کو بھی نظر انداز کر رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں موجودہ موسم میں مختلف اوقات میں ٹی شرٹس بھی پہنے دیکھا گیا ہے اور پھلوں کی دکانوں پر آم کی ڈیمانڈ کرتے ہوئے بھی۔ سورس بتاتے ہیں کہ ایسے لوگ اب تک گنے کا رس بھی پیتے ہوئے پائے گئے ہیں اور کچھ تو ایسے ہیں جو سر عام مینتھول والا صابن‘ شیمپو اور ٹوتھ پیسٹ خریدتے پھر رہے ہیں۔
یہ گستاخانِ سرما ابھی تک فریج کا پانی استعمال کر رہے ہیں۔ کولڈ ڈرنکس بھی اس طرح پیتے نظر آتے ہیں جیسے شدید گرمیاں چل رہی ہوں۔برف کا استعمال بھی نہیں چھوڑا۔ انہوں نے ابھی تک چہرے پر لوشن بھی نہیں لگانا شروع کیا۔ ویزلین بھی نہیں خریدی اور چھت کے پنکھوں پر اخبار بھی نہیں چڑھایا۔ دل کانپ رہا ہے لیکن یہ تلخ بات بتائے بغیر چارہ بھی نہیں۔ تو لیجئے سنئے... اندر کی خبر ہے کہ ایسے متعدد لوگ روزانہ نہا رہے ہیں۔ کچی لسی پی رہے ہیں اور تربوز کی تلاش میں بھی سرگرداں پائے گئے ہیں۔ مجھے شک ہے کہ میرے محلے دار اشفاق بیٹریوں والے بھی اِن میں شامل ہیں کیونکہ کل وہ سیڑھی لگائے اپنے گھر کے اے سی کا آئوٹر چیک کر رہے تھے۔ گلی میں سے گزرتے ہوئے میری اُن پر نظر پڑی تو میں نے ڈرتے ڈرتے وجہ پوچھی‘ جواب ملا ''کولنگ نہیں کر رہا شائد گیس ختم ہو گئی ہے‘‘۔
یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ شائد ابھی سردی شروع ہی نہیں ہوئی‘ حالانکہ سردیاں شروع ہو چکی ہیں۔ اس بارے میں راسپوٹین نے کیا خوب کہا تھا ''دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے‘‘۔ نومبر بے شک اپریل میں آئے اسے سردی کا مہینہ ہی سمجھنا چاہیے۔ اس کی عزت کرنی چاہیے اور اسے پورا پروٹوکول دینا چاہیے۔ یاد رہے عظیم لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں یا سردیوں میں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے سردیوں کی پروا نہیں کی وہ برباد ہو گئیں۔ منکرینِ سرما کی یہ دلیل ہے کہ سردیوں میں دن چھوٹے ہو جاتے ہیں ۔ لا علموں کو یہ نہیں پتا کہ صرف دن ہی نہیں چھوٹے ہوتے... سننا چاہتے ہیں تو سن لیں‘ بجلی اور پانی کے بل بھی چھوٹے ہو جاتے ہیں۔ اخراجات بھی چھوٹے ہو جاتے ہیں۔ دفتری اوقات بھی چھوٹے ہو جاتے ہیں... اور سب سے بڑی بات چھپکلیاں‘ کاکروچز اور دیگر حشرات الارض زیر زمین چلے جاتے ہیں۔
سردیوں کا احسان مانئے کہ یہ دوریاں ختم کرنے کا موسم ہے۔ نومبر اور سردی کے مہینے کی اہمیت تو گیتوں اور شعروں میں بھی جا بجا نظر آتی ہے۔ مثلاً ''اُسے کہنا نومبر آ گیا ہے...نیلے نیلے نومبر پہ چاند جب آئے... بھیگا بھیگا سا یہ نومبر ہے... میرے سردی کے دن کتنے اچھے تھے دن... سردی آئی ہے آئی ہے سردی آئی ہے‘‘... وغیرہ وغیرہ۔ جن لوگوں نے ابھی تک سرما کا استقبال نہیں کیا اُنہیں اپنی فرینڈز لسٹ سے نکال دینا چاہیے۔ لیکن اس سے پہلے ایک کوشش کر لینی چاہیے، شائد یہ اسی طرح سدھر جائیں۔ میں نے اس مقصد کے لیے کئی دوستوں کو نہایت مفید لیکچر دیئے‘ سمجھایا کہ سردی آ چکی ہے لہٰذا اب ہمیں قلفی گرم کر کے کھانی چاہیے۔ لیکن ظاہری بات ہے سر پھرے دوست ہیں، کہتے ہیں سردی کہاں ابھی تو بہار جیسا موسم ہے۔ یہ نالائق نہیں جانتے کہ یہ بہار بہت جلد بیمار کرنے کی صلاحیتوں سے مالا مال ہے۔ سردی آنا اور سردی لگنا دو مختلف چیزیں ہیں۔ سردی لگ نہ رہی ہو تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ آئی ہی نہیں۔ لگے یا نہ لگے لیکن ٹھوس حقیقت یہی ہے کہ سردی تو آ چکی ہے۔ میرے ایک کولیگ کا کہنا ہے کہ نومبر کی بجائے دسمبر میں جرسی پہنوں گا۔ میں نے اسے سمجھایا کہ چلو یکم نومبر سے نہ سہی‘ دس نومبر سے ہی جرسی پہن لو۔ اس نے کچھ سوچا ‘ پھر نفی میں سر ہلا دیا۔ میں نے پانچ دن مزید بڑھا دیے۔ اس کی طرف سے پھر انکار ہو گیا۔ اب کی بار میں نے دل پر پتھر رکھ کر بیس نومبر کی تاریخ دی‘ لیکن جب وہ اس پر بھی نہیں مانا تو میں بھی مایوس ہو گیا‘ کیونکہ اس سے زیادہ 'وارا‘ ہی نہیں کھاتا۔ نومبر کی اتنی انسلٹ مجھ سے کبھی برداشت نہیں ہوتی۔ نومبر کے بارے میں تو بڑے بڑے مفکرین کے اقوال موجود ہیں۔ مثلاً ارسطو اپنی کتاب 'مینوں ٹھنڈ لگدی‘ میں لکھتا ہے 'سردی بہترین انتقام ہے‘۔ 
اصولی طور پر ہیلمٹ کی طرح یکم نومبر سے جرسیاں پہننے کی بھی پابندی ہونی چاہیے ۔ جو بندہ سردیوں کی خلاف ورزی کرتا نظر آئے اس کے گھر ای چالان بھیجنا چاہیے۔ ایسے لوگوں کی نشاندہی کرنے والوں کو انعام دینا چاہیے جو ابھی تک کانجی پیئے جا رہے ہیں۔ میری تجویز ہے کہ ایسے گمراہ لوگوں پر دفعہ 10-11-18 کے تحت مقدمات درج ہونے چاہئیں جنہیں سردیوں کا کچھ احترام ہی نہیں۔ غضب خدا کا یعنی ابھی تک بغیر جرابوں کے بوٹ پہن رہے ہیں‘ دودھ سوڈے پیئے جا رہے ہیں‘ ٹھنڈے فالودے سے لطف اندوز ہوا جا رہا ہے‘ آئس کریم کھائی جا رہی ہے‘ کھوئے ملائی والی قلفیاں کھائی جا رہی ہیں۔ میرے خیال میں ریاست کو پوری طاقت کے ساتھ اِن سے نمٹنا چاہیے۔ ملک میں فلو اور زکام کی بڑی وجہ بھی یہی لوگ ہیں کیونکہ انہی کی وجہ سے عام لوگ سردی لگنے کے باوجود شرمندگی کے باعث جرسی نہیں پہنتے اور ایسے ہی پھرتے رہتے ہیں۔ لائقِ تحسین ہیں وہ لوگ جنہوں نے نہ صرف سردی کی آواز پر لبیک کہا بلکہ کپڑے استری کرتے ہوئے گرم شرٹ سے ہاتھ بھی سینکنے شروع کر دیے۔ یہ قیمتی لوگ جانتے ہیں کہ رضائی لینے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ تصور کیا جائے گویا رضائی کے باہر فائرنگ ہو رہی ہے لہٰذا ہاتھ‘ منہ‘ پیر اور گردن سمیت رضائی میں لپیٹ لینا چاہئے‘ حتیٰ کہ سر کا کوئی بال بھی رضائی سے باہر نہیں رہنا چاہیے‘ کیونکہ اسے بھی ٹھنڈ لگ سکتی ہے۔ میرا ذاتی نظریہ یہ ہے کہ ایسے لوگوں کی بدولت ہی سردیاں ہر دفعہ آ جاتی ہیں‘ ورنہ کب کی رخصت ہو چکی ہوتیں‘ قصۂ ماضی بن چکی ہوتیں۔ ماشاء اللہ ابھی تھوڑی دیر پہلے ایسے ہی ایک محترم دکان دار کو دیکھ کر آ رہا ہوں جنہوں نے اپنی لوہے کی کرسی کے نیچے چولہا رکھوا لیا ہے اور اب ہر گاہک سے انتہائی گرم جوشی سے پیش آ رہے ہیں۔
اصولی طور پر ہیلمٹ کی طرح یکم نومبر سے جرسیاں پہننے کی بھی پابندی ہونی چاہیے ۔ جو بندہ سردیوں کی خلاف ورزی کرتا نظر آئے اس کے گھر ای چالان بھیجنا چاہیے۔ ایسے لوگوں کی نشاندہی کرنے والوں کو انعام دینا چاہیے جو ابھی تک کانجی پیئے جا رہے ہیں۔ میری تجویز ہے کہ ایسے گمراہ لوگوں پر دفعہ 10-11-18 کے تحت مقدمات درج ہونے چاہئیں جنہیں سردیوں کا کچھ احترام ہی نہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *