مذہبی جبر کی فتوحات‎

 اس سارے معاملات کو پورے سیاق و سباق سے دیکھنا چاہیے۔
بات تو دو قومی نظریے سے شروع ہوئی چاہیے ۔ مولانا ابوالکلام آزاد کے اس انٹرویو سے ہو نی چاہیے جس میں انھوں نے کمال کے فیوچر ویژن کا مظاہرہ کرتے ہوۓ بلا مبالغہ انہی واقعات کی پیشنگوئی کی تھی جن سے ہم آج دوچار ہیں ۔ لیکن بات بہت دور نکل جاۓ گی۔اور برادرم اجمل شاہ دین کے مطابق چو مکھی لڑائ لڑنا کوئ عقل مندی نہیں ۔ اس لیے بات کا آغاز ہم دوسرے مارشل لاء سے کرتے ہیں ۔ 
عرض یہ ہے کہ مذہبی جبر کی اندھیری طویل رات کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب ضیاء الحق اسلام " نافذ" کرنے کے درپے ہوا تھا۔ دنیا کی اس " پہلی " نظریاتی ریاست کے امیر المومنین نے اپنے فکری رہنماؤں سے یہی سیکھا تھا کہ اسلامی مملکت  سزائیں نافذ کرنے کا نام ہے۔ حکمرانوں کے لیے یہ اس لیے بھی مرغوب ہے کہ اس کے لیے انھیں عوام کو اپنے پلے  سےکچھ دینا نہیں پڑتا بس کچھ کوڑے ، کچھ پھانسیاں اور کچھ عقوبت خانے آباد کرنے پڑتے ہیں ۔ اس دور کی نام نہاد مذہبی اصلاحات شاہنشاہ اکبر کے دین الٰہی کی طرح اپنی موت  آپ مر جاتیں لیکن برا ہو امریکا بہادر کا جسے سوویت روس کو پھنسانے کا بہترین موقع ہاتھ میں آیا۔اور اس سلسلے میں ہمیشہ کی طرح ہمارے فوجی حکمران امریکہ کی وفاداری پر سب کچھ نچھاور کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔یہ ضیاء الحق ہی تھے جنہوں نے امریکی تھنک ٹینکس کو افغانستان اور پاکستان کے عوام کی اس کمزوری سے آگاہ کیا کہ وہ مذہب کے نام پر کند چھری سے بھی ذبح ہو جائیں کے۔چنانچہ سرخ اور سبز ،دہریت  اور خدا پرستی کے درمیان مقابلے کی داستانیں گھڑی گئیں۔ اورامریکا کے ساتھ مل کر روس اور افغانستان کی فوجوں کے خلاف جنگ وقت سب سے پڑا جہاد قرار دیا گیا۔ اصل میں امریکی اور ضیا دونوں جانتے تھے کہ تقسیم ہند ہو یا احمدیوں کا معاملہ یا سیاست میں گڑ بڑ کرنے اور ٹیکنیکل جھرلو پھیرنے کا محفوظ ترین طریقہ ، مذہبی کارڈ بڑی کامیابی سے استعمال کیا جا چکا ہے ۔ اس کی بڑی وجہ عوام کی مذہب کے بارے میں جہالت اور مذہبی طبقے پر اندھا اعتماد ہے۔ چنانچہ اوپر کی تینوں مہموں میں اپنے تمام تر اختلافات کے باوجود تمام مذہبی فرقے مشترکہ دشمن کی وجہ سے متحد ہو گئے۔ یوں نام نہاد افغان جہاد نے مذہبی طبقے کو بہت مضبوط کیا۔ جہاد کے نام پر اتنا طوفان بدتمیزی مچا کہ اس کے نتیجے میں رواداری، برداشت ، حریت فکر اور آزادی اظہار رائے کی کوئی موثر آواز نہ اٹھائی جا سکی۔دراصل انھیں ایک لمبی اننگز کھیلنی تھی ،اس لیے طویل مدتی انتظامات  کیے گیے۔ بلکہ ایسے ایسے قانون بنانے گئے، نصاب تعلیم میں ایسے ایسے بیانیے داخل کیے گئے ، ایسی نئی روایات کو رواج دیا گیا جس سے جمہوری اقدار کو کچلنے اور ان پر نت نئی قدغنیں لگنے کے راستے کھلتے گۓ ۔   گستاخ رسول کی سزا کا قانون اس سلسلے کی ایک نمایندہ مثال ہے۔اس کو نافذ کرنے میں اسی حکمت و دانائی اور اخلاص کا مظاہرہ کیا گیا جس کا اظہار حدود آرڈیننس اور دوسرے نام نہاد شرعی قوانین  ٹھونسنے میں کیا گیا۔  اس حوالے سے جو قانون بنایا گیا وہ فقہ حنفی ہی نہیں پوری اسلامی فقہ کے سوۓ فہم کی بدترین مثال تھا۔ ہمارے فقہاء کبھی اتنے کج فھم نہیں رہے کہ وہ کسی مسلمان کے بارے میں یہ سمجھتے ہوں کہ وہ مسلمان ہوتے ہوئے اس ہستی کی شان میں گستاخی کرے گا جس سےمحبت و عقیدت اس کے ایمان کا جزو لاینفک ہے۔  اور نہ ہی وہ اس تضاد کا شکار تھے کہ ایک غیر مسلم ، جو پیغمبر اسلام کو رسول  ماننے ہی  سے انکاری  ہے، سے عقیدت و احترام کا تقاضا کیاجا سکتا  ہے ۔ البتہ شب و شتم  کا معاملہ یقیناً قابل گرفت ہےمگر اس میں بھی توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔  لیکن ہمارے ہاں کا قانون اس طرح سے نافذ العمل  ہے کہ کوئ بھی شخص اگر بد نیت ہے تو کسی پر بھی الزام لگا کر انتقام کی آگ بجھا سکتا ہے یا اپنے مذموم مقاصد پورے کر سکتا ہے۔ چنانچہ دنیا نے عجیب تماشا دیکھا کہ اس قانون کے نافذ ہونے کے بعد پاکستان جیسا ملک بھی گستاخی رسول کے جرائم  کی آماجگاہ بن گیا۔ اعدادو شمار اٹھا کر دیکھ لیں ، اتنے  مقدمات  قائم کیے گئے کہ پورے برصغیر کی تاریخ میں اتنے قلیل عرصے میں اتنی تعداد میں اس طرح کے واقعات رپورٹ نہیں ہوئے۔ اس قانون کے سوےَ استعمال کا یہ عالم ہے کہ متعدد غیرمسلموں نے تو اسے سیاسی پناہ حاصل کرنے کے نسخے کے طور پر بھی استعمال کیا۔ اور پاکستانی مسلمان  بظاہراس قانون کے اتنے شیدائی ہوئے کہ حدود آرڈیننس اگرچہ نافذ ہے لیکن کسی  "سچے" مسلمان نے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ اس کے تحت چور کے ہاتھ کاٹے جاءیں یا قاتل کوقصاص میں قتل کیا جاۓ ۔ حتیٰ کہ  دہشت گردوں کے ہاتھوں ہزاروں پاکستانی شہید ہوئے لیکن کسی مجرم کو اسلامی قوانین کے تحت سزا  دینے کی بات نہ کی گئی۔ سچ تو یہ ہے کہ کسی عالم نے آج تک یہ مطالبہ نہیں کیا کہ بھئی یہ حدود آرڈیننس کس مرض کی دواہے؟اس کے تحت مجرموں کو نشان عبرت کیوں نہیں بنایا جاتا؟
 مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب بلوچستان میں ایک بیوروکریٹ کے گھر سے کروڑوں روپے برآمد ہوئے تو جناب جاوید احمد  صاحب غامدی واحد علم دین ہیں جنہوں نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ جرم ثابت ہونے پر مجرم پر شرعی حد جاری کی جانے۔ ان کے سوا کسی عالم دین  نےیہ مطالبہ نہ کیا۔البتہ مقام حیرت ہے کہ جملہ مذہبی طبقےکی ساری دلچسپیاں گستاخی رسول کی سزا پر عملدرآمد تک محدود رہی ہیں۔ وہ بھی ان ملزموں یا مجرموں تک جن سے جرم کا مرتکب ہونا یقینی ہی نہیں تھا۔چنانچہ ہم یہ نتیجہ اخذ کرنے پر مجبور ہیں کہ یہ پالیسی اس لیے ا ختیار کی گئی کہ اس  نوعیت کے مقدمے کو اچھال کر سیاسی اور عوامی مقبولیت ضرور حاصل ہو سکتی تھی۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے معاشرے میں ان علماء کو صرف اسی جرم ہی کے مجرم نظر آتے ہیں ؟ کیاشریعت کے نفاذ کے لیے صرف ایک ہی قانون رہ گیا ہے ؟ کیا پاکستان میں لوگ باقی تمام شرعی تقاضے پورے کر رہے ہیں ، ان سے اس کے سوا کسی اور جرم کاصدور نہیں ہو رہا؟  ہمارے نزدیک اس کی ایک ہی وجہ ہے اور وہ وزیراعظم عمران خان نے درست بیان کی ہے کیونکہ وہ اس ہتھیار کا استعمال ماضی میں خود بھی کر چکے ہیں۔ اصل میں اس قانون کے ذریعے سےعوام الناس کے جذبات سے انتہائی  کامیابی سے کھیلا جا سکتا ہے ۔ اس کے ذریعے  سےکسی بھی سیاسی ، مذہبی ،فوجی یا سماجی شخصیت کوہیرو سے زیرو کیا سکتا ہے ، اسے فرعون اور ابو جہل کی فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے ، اس کے ذریعے سے پورے ملک میں آگ لگائی جاسکتی ہے ، اس کے ذریعے سے تخت اچھالے جا سکتے ہیں ۔ کیا آپ ماضی میں کسی ایسی سیاسی جماعت کی مثال دے سکتے ہیں جو محض چند دھرنوں  کے  ذریعے سے گالیوں کے میزائل برسا کر  لاکھوں ووٹ حاصل کر لے؟  اسی لیے جب سپریم کورٹ کا آسیہ بی بی کی بریت کا فیصلہ سامنے آیا تو صرف حضرت گالیوں والی سرکار ہی نہیں ،ہر فرقے اور ہر مذہبی جماعت کے لیڈر نے اپنے اپنے مورچے میں بیٹھ کر فتووں کی مشین گنوں کا رخ اس فیصلے کے خلاف کردیا۔ چنانچہ  مولانا سمیع الحق نے اپنی زندگی کی آخری تقریر اسی موضوع پر کی ، مولانا فضل الرحمان، اہل حدیثوں کے ابتسام الہٰی ظہیر ، جماعت اسلامی کے سراب الحق،اوہ معاف کیجیے گا سراج الحق، وقاق المدارس کے کرتا دھرتا مولانا صاحب ، سب نے سوچا کہ گالیوں کا تڑکا لگا کر تحریک لبیک اگر بائیس لاکھ ووٹ لے کر پاکستان کی چوتھی بڑی جماعت بن سکتی ہے تو اس بہتی گنگا میں ہم کیوں پیچھے رہیں۔ہم کیوں اپنے ووٹ بنک میں کمی برداشت کریں ؟
ادھرحکمران تحریک انصاف اس حقیقت سے اچھی طرح واقف ہے کہ تحریک لبیک کو اس قدر طاقتور بنانے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے اور وہ اس سےبھی آگاہ ہے یہ کس قدر موثر ہتھیار ہے۔ اس لیے لگتا یہی ہے کہ جب اس تنظیم نے اپنے اصل خالقوں کے خلاف بھی بغاوت کا علم بلند کر دیا تو وزیراعظم نے "کمال کی سیاسی چال "چلی اوراس پوٹینشل خطرے کو راستے سے ہٹانے کا پروگرام بنایا اور قوم سے مخاطب ہو کر نعرہ مستانہ بلند کر دیا۔ مگر ایسا کرتے ہویے انھوں اپنے حقیقی "بڑوں " سے کوءی مشورہ نہیں کیا تھا۔ وہ  تو تیر کمان سے نکل گیا توانھیں علم ہوا کی طالبان کی طرح بڑے اپنے اس "قیمتی اثاثے" کو چند گالیوں کے عوض ضایع کرنا گھاٹے کا سودا سمجھتے ہیں ۔چنانچہ اسٹیبلشمنٹ کو وزیراعظم کا موقف سامنے آنے کے باوجود اپنا موقف دینا پڑا جس میں عدالت کے فیصلے کے حق میں کوئی بات نہیں کی گئی اور نہ تحریک لبیک کے انتہائی نامناسب رویے پر کوئی ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا۔ حالانکہ بیچارے وزیراعظم صاحب ناموس عدالت و فوج پر قربان ہونے کو تیار ہو گئے۔ لیکن جب بقول وزیراعظم ان کی حکومت کو خطرہ لاحق ہو گیا تو انھوں نے وہی کیا جس میں موصوف یدطولی رکھتے ہیں یعنی یو ٹرن۔ 
 جب چند دنوں کی حکومت یہ دیکھے کہ مذہبی جبر کا یہ عالم ہے کہ  چیف آف آرمی اسٹاف نے کفر کے فتووں کا مقابلہ عمرہ  اور میلاد کی محافل منعقد کرکے  کیا ہے تو وہ سمجھ گئے کہ ہم کسی کھیت کی مولی  نہیں ۔   ۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *