سی پیک پر حکومتی موقف کی تبدیلی

پچھلے ہفتے چائنہ کے دورے کے اختتام پر پاکستان اور چین نے جو مشترکہ اعلامیہ  جاری کیا  وہ سی پیک کے آغاز سے اب تک کا  سب سے مفصل بیان تھا ۔ ضروری نہیں کہ یہ حکومت کے لیے کامیابی کی علامت ہو، جو عمران خان کے اپنے الفاظ میں آئی ایم ایف پروگرام سے بچنے کے لیے فوری مدد تلاش کرنے گئی تھی ۔ یہ پاک چین تعلقات  میں سی پیک کے حوالے سے سب سے بڑی تبدیلی ہے۔

چین کے ساتھ تعلقات کی نوعیت وقت کے ساتھ کس سمت جا رہی ہے یہ جاننے کے لیے اس  اعلامیہ کا موازنہ پچھلے اعلامیہ سے کیا جا سکتا ہے۔ 2003 میں پرویز مشرف نے چین کا دورہ کیا اور دونوں ملکوں نے دوطرفہ تعاون کی  جہت  پر مشترکہ بیان جاری کیا، جس میں ''باہمی طور پر فائدہ مند معاشی اور تجارتی تعاون'' کا عزم ظاہر کیا گیا ۔

2005 میں چین کے صدر وین جیانباؤ نے پاکستان کا دورہ کیا اور دونوں ممالک نے دوستی، تعاون اور اچھے ہمسایہ تعلقات کے معاہدے پر دستخط کیے اور  اسی طرح  پہلے پاک چین فری ٹریڈ ایگریمنٹ پر بھی بات چیت شروع ہوئی۔

یہ تین معاہدے اس تعلق کی جڑ ہیں جس کے گرد  تعلقات مختلف طریقے سے پروان چڑھ رہے ہیں، ۔ یہ 2000 کی دہائی کے آغاز کی بات ہے جب چین کے ساتھ اک بار پھر پاکستان کے تعلقات میں بہتری آئی جو اس سے قبل محض  سٹریجک تعلقات تک محدود تھے  جن کی بنیاد 1951 میں پڑی پہلی دفع سفارتی تعلقات کی صورت میں پڑی تھی۔

اس میٹنگ کے بعد جاری کی گئی مشترکہ سٹیٹمنٹ میں  ''زراعت، جنگلات اور ماہی گیری میں مکمل تعاون'' کا اعلان کیا گیا ، اسی طرح اس میں ''بڑے قدرتی وسائل''، '' زرعی ٹیکنالوجی  کے متعلقہ انٹرپرائزز اور ڈیپارٹمنٹس کے مابین تعاون، زرعی اور جنگلاتی مصنوعات کی پراسیسنگ،  زرعی مشینری کی تیاری ،  اور آف شور فشنگ اور اکوا کلچر سے متعلقہ معاملات میں تعاون شامل ہے۔

اس  اعلامیہ میں اندسٹریل سیکٹر کے بیچ  خاص تعاون،  کا بھی ذکر کیا گیا  تا کہ اس میں انڈسٹریل ذون، انڈسٹریل ہاربر اور ایکسپورٹ فری زون  کو شامل کیا جا سکے  اور دونوں ممالک کے پرائیویٹ سیکٹر  کے بیچ تعاون کی فضا پیدا کر کے ٹیکسٹائل مینوفیکچرنگ اور دوسرے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں پر کام شروع کیا جا سکے۔

مختصرا 2003 کی میٹنگ میں جس چیز کی بحث ہو  رہی تھی  وہ  اس چیز کی شروعات تھی جو بالاخر سی پیک کے نام سے ایک طویل المعدتی منصوبہ کی شکل اختیار کر رہی ہے۔ حالیہ مشترکہ بیان  اسی آغاز کا ایک سلسلہ ہے  اور اس کا پورا زور صنعتی حلقوں کے قیام ، زرعی ٹیکنا لوجی اور کاشتکاری اور سمندری معیشت  کو مضبوط کرنے پر ہے۔

دوستی کا معاہدہ جو 2005 میں سائن کیا گیا اس  عام معیار کا معاہدہ تھا جو چین نے دوسری علاقائی قوتوں کے ساتھ بھی کیا تھا ۔ پہلا معاہدہ 2001 میں روس کے ساتھ تھا۔ اس  معاہدے میں یہ  واضح کیا  گیا تھا کہ چین اور اس کے ہمسایہ ممالک ایک دوسرے کی  خود مختاری کا احترام کریں گے ایک دوسرے  پر معاشی دباؤ  ڈالنے کی کوشش نہیں کریں گے ، اور یو این  چارٹرکے مطابق ایک دوسرے کی عزت اور ایک دوسرے کے ساتھ کام کریں گے، اور تائیوان کے معاملے میں چین کی ون چائنہ پالیسی سے اتفاق کریں گے۔ پاکستان اور چین کے ہر مشترکہ اعلامیہ میں  ان بنیادی اصولوں کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے۔

تازہ ترین اعلامیہ میں ایک چیز نئی ہے۔  ا س میں لکھا ہے: ''دونوں ممالک نے اتفاق کیا کہ جے سی پی او اے ملٹی لیٹرلزم کا ایک اہم نتیجہ ہے اور گفت و شنید , اور سفارتکاری کے ذریعے پیچیدہ معاملات کے تصفیے کے لیے ایک اچھا نمونہ ہے۔'' واضح طور پر  چین ایران اور امریکہ کے بیچ بڑھتی ہوئی کشیدگی پر پریشان ہے۔  اس اعلامیہ سے یہ پیغام بھی ملتا ہے کہ چین  اس مشکل صورتحال میں پاکستان کو سعودی عرب کی طرف جھکتا دیکھ رہا ہے  اور امریکی دباو کے تحت ایران کو تنہائی کا شکار کرنے والے پراپیگنڈے کا حصہ بن جائے۔

پاک چین ایف ٹی اے پر 2006 میں دستخط کیے گئے اور اگلا مشترکہ بیان 2008 میں تب کے صدر آصف زرداری کے اس سال اکتوبر میں کے دورے کے بعد آیا جب معاشی بحران ملک کو گھیرے ہوئے تھے۔ اس بیان نے 2005 کے دوستی کے معاہدے کی  توثیق ہوئی   کیونکہ اس اعلامیہ میں دہشت گردی، انتہاپسندی اور علیحدگی پسندی  جیسے تمام معاملات کی مخالفت کا عزم ظاہر کیا گیا ۔ موجودہ اعلامیہ اس کے بر عکس ہے کیونکہ اس میں  ان مسائل  کے خلا ف مل کر کوشش کرنے اور ترقیاتی پروگرامز اور معاشی تعاون کو زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔

 اس دورے کے دوران  ذراعت سے لے کر کرکٹ تک ہر معاملے کو کور کرتے ہوئے 12 مختلف یاداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ اس کے بعد 2011 میں روپےاور یان کی ایکسچینج کا معاہدہ ہوا  جس میں یہ طے پایا کہ دونوں ممالک مقامی کرنسی کے ذریعے باہمی تجارت کریں گے۔

یہ موجودہ سی پیک منصوبے کا ایک پس منظر تھا  جس کے لینز سے آج کل پاک چین تعلقات کی ہر جہت کو دیکھا جاتا ہے۔ سی پیک  کی بنیاد اس تاریخ پر قائم ہے  اور اسی کے ذریعے یہ طے کیا گیا ہے کہ ایگریکلچرل کو آپریشن اور ٹورازم ڈویلپمنٹ    کی کیا تفصیلات ہوں گی۔  یہ ذیلی منصوبے   اس موقع پر   عملی شکل میں ڈھل گئے  اور پچھلے سال انہیں عملی شکل دینے کا حتمی اعلان کیا گیا۔

تب سے پاکستان سیاسی عدم استحکام شکار رہا اوراس دوران عام انتخابات بھی ہوئے۔  اس الیکشن سے ایک نئی حکومت اقتدار میں آئی جس نے اپنے ابتدائی دنوں میں زیادہ شفافیت لانے کے ساتھ تمام سی پیک منصوبوں پر نظر ثانی کا اعلان کیا ۔  بیجنگ کا دورہ عمران خان کے لیے افسوسناک حد تک پریشان کن تھا ، ان کی باڈی لینگوئج پریشان کن تھی اور چہرے پر پریشانی کے آثار نمایاں تھے۔  شنگھائی ایکسپو پر انہوں نے ایک کاغذ کے ٹکڑے پر  لکھی تقریر پڑھی  جب کہ اس سے پہلے وہ تمام وزرا اعظم  پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں پرچی والا وزیر اعظم کہا کرتے تھے۔

چین کا سٹیج بہت زیادہ معاہدے، ایگریمنٹس اور مفاہمتیں موجود ہیں جنہیں ایک ساتھ  تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔  اس تعلق کے پیچھے  جو مومنٹم ہے اسے اب روکنا  ناممکن بن چکا ہے۔ کوئی بھی شخص چین کی طرف سے کیے جانے والے اقدامات کودیکھ کر اس مومنٹم کا اندازہ لگا  سکتا ہے  اگرچہ کچھ معاملات میں پاکستانی سیاستدانوں کے بیانات کو چینی عہدیدار جھٹلا چکے ہیں۔ تازہ ترین مشترکہ اعلامیہ پاک چین تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز یا  پیش رفت نہیں ہے، لیکن یقینا  اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب گئیر تبدیل ہو رہے ہیں  اور طویل المدتی تعاون  کے لیے بہت سے پلان شروع ہونے کو ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *