پانچ ہزار پر بغاوت

یہ  ایک قابل ذکر واقعہ ہے کہ پاکستان میں سب سے طاقتور مشہور بغاوتوں میں سے ایک 5000 روپے کی مالیت کی اشیا کی وجہ سے برپا ہوئی۔ یقینا 50 سال پہلے یہ ایک بڑی رقم تھی  لیکن اس کے باوجود  ایوب خان کی دور حکومت کی دھائی  کے امیرانہ طبقہ کے مقابلے میں یہ  چھوٹی اور معمولی رقم تھی۔

البتہ راوالپنڈی کے گورڈن کالج کے طلبا کے گروہ جو پاکستان کے ڈیوٹی فری   کیپیٹل لنڈی کوتل میں داخل ہو گئے تھے کے لیے ایک بہت بڑی رقم تھی۔ یہ طلبا 1968 کے نومبر کے اوائل میں اس شہر میں داخل ہوئے تھے اور 5000 کی خریداری کی تھی لیکن ان سے یہ چیزیں چھین لی گئیں۔  تکنیکی طور پر انہوں نے  قانون کی خلاف ورزی  کی تھی لیکن اس بات سے اچھی طرح با خبر تھے کہ کوئی بھی با اثر  شخص قبائلی علاقوں میں  جی بھر کر خریداری کر سکتا تھا اور  خریدا ہوا سامان بغیر کسی مشکل کے گھر تک لا سکتا تھا۔

انہوں نے اپنے ساتھی طلبا سے شکایت اور مشورہ کیا  اور سب نے ملک کر 7 نومبر 1968 کو احتجاج کا فیصلہ کیا۔  اسی دن  اسلام آباد کے باہر پولی ٹیکنیک کے طلبا  بھی ایک خاص دورہ  پر تھے جہاں  ایوب حکومت سے الگ ہونے والے ایک رہنما نے شاندار تقریر کرنا تھی۔

ذوالفقار علی بھٹو کو پولی ٹیکنیک پر تقریر کا موقع دینے سے انکار کر دیا گیا اور آخر کار وہ راوالپندڈی کے انٹر کونٹینینٹل ہوٹل پر گئے جہاں گورڈن کالج سے ایک بڑا  ڈیلیگیشن انہیں خوش آمدید کہنے کے لیے اکٹھا ہوا تھا۔

پولیس نے  زیادہ ہی جارحانہ رد عمل کا مظاہرہ کیا۔ ایک نوجوان کو مار دیا گیا۔ محدود احتجاج راولپنڈی میں وسیع  ہونے لگا اور 4 ماہ کے اندر ایوب دور حکومت کا خاتمہ ہو گیا  اور اس کے فورا بعد ملک کی 21 سال کی اآمریت کے کھیل کے بعد جمہوریت کی راہ کھلنا شروع ہوئی۔

یہ طلبا قیادت کی اس سال کی دنیا کے کسی بھی حصے کی ایک بڑی کامیابی تھی جو پیرس میں بھی شروع ہو چکی تھی اور پوری دنیا میں یہ سلسلہ پھیلنے لگا ۔ زیادہ تر مواقع پر تبدیلی  کے ایجنڈا کے ساتھ یہ  سلسلہ شروع ہوتا تھا ۔

پاکستان کے معاملے میں احتجاج کرنے والے  طلبا  کو اندازہ نہیں تھا کہ اس کا نتیجہ کیا نکلے گا ۔ جیسے جیسے جلوس میں لوگ شامل ہوتے گئے،  اور طلبا بھی ہر طرف سے آنے لگے،یہاں تک کہ مشرقی پاکستان کے بھی مظلوم طبقہ اس احتجاج میں شامل ہو گیا   تو معاملات طلبا کی سمجھ سے باہر ہونے لگے۔

شدت پسند طلبا ڈھاکا میں احتجاج کا حصہ بننے لگے اور ایک  ماہ کے اندر یہ واضح ہونے لگا کہ کچھ بڑا ہونے کو ہے۔ پاکستان کے  ڈکٹیٹر کے دورہ نے اس احتجاج کو مزید شدت بخشی  اور پورے صوبے میں پھیل گیا جس کا حتمی نتیجہ بنگلہ دیش کے قیام کی صورت میں سامنے آیا۔ اسی دوران مغربی پاکستان جو ابھی ایک یونٹ تھا، کے شہر پشاور میں ایوب خان پر قاتلانہ حملہ ہوا ۔ یہ واقعہ  احتجاج سے ایک دو دن قبل پیش آیا تھا۔

اس کے بعد احتجاج دوسرے بڑے شہروں تک جن میں کراچی اور لاہور بھی شامل تھے، یہ احتجاج تیزی سے بڑھنے لگا۔ چھوٹے شہروں تک یہ احتجاج  پھل گیا  لیکن ایسٹ پاکستان میں ایسا نہیں ہوا۔  جہاں مولانا بھاشانی پہلے سیاسی لیڈر تھے جو اس مزاحمتی تحریک کی رہنمائی کی باگ ڈور سنبھالنے لگے۔

مغربی پاکستان میں بھی بہت سی  ہڑتالیں ہوتی تھیں،  جس سے طلبا کو شہہ ملتی تھی ۔ اس سے قبل ماضی میں رشوت خاوری اور دباو کی پالیسی   کی وجہ سے سٹیٹس کو برقرار تھی۔ لیکن 1968 اور1969 میں کچھ  نیا ہونے والا تھا  اور فروری میں ایوب نے سیاست سے نکلنے کا اعلان کیا۔ اگلے ماہ آرمی چیف یحیٰی خان  اقتدار پر قابض ہو گئے۔ یحییٰ  کا اقتدار اگرچہ محدود مدت تک تھا لیکن اس میں ایک تاریخی حادثہ پیش آیا۔ انہوں نے پاکستان کے پہلے عام انتخابات کی صدارت کی جو یونیورسل اڈلٹ فرنچائز کی بنیاد پر تھے، اور پھر اکثریتی پارٹی کو  اقتدار دینے سے انکارکر دیا اس معاملے میں بھٹو خاموشی  اختیار کیے ہوئے ملوث رہے۔  افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ مغربی پاکستان میں طلبا کو ان احتجاجی تحریکوں سے لا علم رکھا جاتا ہے  اور  مغربی پاکستان کے عوام نے مشرقی پاکستان کے طلبا کے قتل و غارت کے واقعات پر احتجاج کبھی نہ کیا۔

ایک دہائی کے ایک چوتھائی حصہ کے دوران دوسری بار بر صغیر کی تقسیم  کے بعد دونوں اطراف میں ایک نئی امید کے ساتھ زندگی کا آغاز کیا گیا  لیکن فوجی بغاوت بار بار ہوتی رہی۔ جولائی 1977 کے بعد کے چند سال پاکستان میں  فوجی اقتدار کی وجہ سے بہت خوفناک حالات رہے۔ ایک معصوم عورت کے قتل کے لیے احتجاج کانیا دور شروع ہوا  اور حکومت نے ایک بار پھر  احتجاج کرنے والوں سے سختی سے نمٹنے کی پالیسی اختیار کی۔

68 ء کے دور احتجاج میں بغاوت کرنے والے لوگ درست سمت پر تھے  اگرچہ بعد میں آنے والی جمہوریت  ایسی نہیں تھی جس کی خواہش کی جا سکتی۔ جمہوریت کے مفادات کم ہوتے گئے اور نقصانات بڑھتے گئے ۔ اس وقت کی بغاوت سے  فوجی اقتدار ختم ہو کر الیکشن کی راہ ہموار ہوئی  اور سٹیٹس کو کا خاتمہ ہو گیا۔ یہ بغاوت پہلی یا دوسری نہیں تھی  لیکن ہمارے ملک کی تاریخ میں یہ ایک بہت ہی اہم اور نا قابل فراموش حصہ کے طور پر یاد رکھی جائے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *