سابق بریگیڈیئرز کی ریٹائرمنٹ کے بعد بحالی کے خلاف درخواست

اسلام آباد: لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ میں 2 سابق بریگیڈیئرز نے ریٹائرمنٹ کے بعد بحالی کے احکامات کے خلاف پٹیشن دائر کردی۔

غیر معمولی کیس میں دونوں افسران نے دعویٰ کیا کہ بحالی سے ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد ملنے والی مراعات پر منفی اثرات پڑیں گے۔

بریگیڈیئر سہیل اکبر خان اور غلام مرتضیٰ قریشی کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں بریگیڈیئر (ر) واصف خان نیازی نے پٹیشن دائر کیں جو پاک فوج کے سابق جج ایڈووکیٹ جنرل بھی رہ چکے ہیں۔

بریگیڈیئر سہیل اکبر خان ملٹری انٹیلی جنس کورپس میں بھی کام کرچکے ہیں اور کراچی میں سیکٹر کمانڈر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں جبکہ بریگیڈیئر قریشی الیکٹریکل اینڈ میکینکل انجینیئرنگ (ای ایم ای) کورپس کے افسر کے طور پر اپنے فرائض نبھا چکے ہیں۔

اپنی درخواست میں بریگیڈیئر سہیل اکبر خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے 7 اکتوبر 1988 کو فوج میں انفینٹری ریجیمنٹ میں شمولیت اختیار کی تھی اور ان کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے انہیں دسمبر 1966 کو ملٹری انٹیلی جنس کورپس میں تعینات کیا گیا تھا۔

بعد ازاں انہیں اقوام متحدہ کے ماتحت بیرون ملک بھی بھیجا گیا جہاں سے واپسی پر انہوں نے دوبارہ پروفیشنل کورس میں شمولیت اختیار کی تھی۔

پٹیشن کے مطابق انہوں نے اگست 2014 سے اپریل 2016 تک کراچی کے سیکٹر کمانڈر کے عہدے پر بھی کام کیا جس پر انہیں ستارہ جرات سے بھی نوازا گیا تھا۔

بعد ازاں انہیں جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) بھیج دیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں 30 اپریل 2018 کو ریٹائرمنٹ کے احکامات ملے تھے بعد ازاں انہیں جی ایچ کیو کی جانب سے بحال کردیا گیا۔

افسر نے دعویٰ کیا کہ ان کی بحالی کے احکامات غیر قانونی ہیں۔

پٹیشن میں بتایا گیا کہ وفاقی حکومت کو پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی افسر کو ریٹائر کرسکتی ہے۔

اسی طرح بریگیڈیئر قریشی کا بھی کیس سامنے آیا جس میں انہیں متعلقہ حکام کی جانب سے ریٹائرمنٹ پر بھیجا گیا تاہم انہیں واپس بحال کردیا گیا۔

انہوں نے اپنی پٹیشن میں بتایا کہ انہیں ای ایم ای کورپس میں 1986 میں بھرتی کیا گیا تھا، انہوں نے بھی اقوام متحدہ کے لیے کام کیا اور بعد ازاں ہیوی انڈسٹریز ٹیکسیلا میں اپنے فرائض انجام دیے۔

درخواست گزاروں نے عدالت سے ان کے بحالی کے احکامات کو روکنے اور انہیں ریٹائرمنٹ کے بعد کے مراعات دینے کی التجاء کی۔

لاہور ہائیکورٹ نے پٹیشنز کو سننے کے بعد وزارت دفاع کو نوٹس ارسال کردیے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *