حلوائی کی دکان پر نانا جی کا فاتحہ

اس بات پر بحث نہایت ہی فضول حرکت ہے کہ عمران خان کا دورۂ چین کامیاب تھا یا ناکام۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ چین کوئی سعودی عرب نہیں کہ فوراً ہی ڈالروں کی بہار لگا دے۔ چینی ایسے معاملات میں بڑے ٹھنڈے ہیں اور جھٹ سے کسی فوری ردعمل کا ا ظہار نہیں کرتے۔ اس لیے اس دورے کے نتائج فوری طور پر اخذ کرنے کے بجائے تھوڑا انتظار کیا جائے۔ دوسری بات یہ کہ چینی کبھی بھی پیسے ٹکے کی امداد کے بجائے ٹھوس معاشی مدد کرنے پر یقین رکھتے ہیں تاکہ ان کا دیا گیا پیسہ غتربود ہونے کے بجائے ملکی معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کر سکے اور ان کی رقم ڈوبنے سے بچ جائے۔ تیسری اور آخری بات یہ کہ پاکستان میں بجٹ ہو‘ حکمرانوں کا غیر ملکی دورہ ہو یا کوئی سیاسی قدم ہو۔ حامیوں کے نزدیک بہترین‘ کامیاب اور بے مثال ہوتا ہے جبکہ اپوزیشن کے نزدیک یہ ناکام‘ خراب ترین بلکہ بدترین ہوتا ہے۔ درمیان میں کوئی مقام ایسا نہیں کہ اسے بین بین قرار دیا جائے۔ ہم سیاسی طور پر انتہا پسند ہیں۔ بلکہ صرف سیاسی طورپر ہی کیوں؟ سو‘ وزیراعظم پاکستان عمران خان کا یہ دورہ پی ٹی آئی والوں کے نزدیک بڑا کامیاب تھا اور اسد عمر نے اس دورہ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے ‘جبکہ مسلم لیگ والوں کے نزدیک یہ ایک ناکام ترین دورہ تھا اور اسد عمر نے بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایمانداری کی بات ہے کہ مجھے مسلم لیگ ن والوں کے ردعمل سے سو فیصد اختلاف کے باوجود ان کی بات سے پورا اتفاق بھی ہے۔ اب بھلا آپ کہیں گے کہ یہ کیسا مجہول اور منافقانہ تبصرہ ہے۔ آپ بھی ٹھیک سوچ رہے ہیں اور میں بھی درست کہہ رہا ہوں۔
میں اس بات سے تو اتفاق نہیں کرتا کہ یہ دورہ ناکام تھا۔ تجارت کو ڈالر کے بجائے مقامی کرنسیوں میں کرنے کے اقدام سے جہاں زرمبادلہ کے روز بروز گھٹتے ہوئے ذخائرپر دباؤ کم ہوگا‘ وہیں پاکستان کے سب سے بڑے تجارتی شریک کار چین کے ساتھ مقامی کرنسیوں میں تجارت سے پاکستان کو چین سے درآمد کردہ اشیا کی ادائیگی کے لیے ڈالر سے نجات مل جائے تو یہ پاکستان کی دگرگوں معاشی حالت کے لیے کسی نعمت غیر مترقبہ سے کم نہ ہوگی۔ پاکستان اس وقت چین سے پندرہ ارب ڈالر سے زائد کی امپورٹ کرتا ہے۔ پاکستان کا چین کے ساتھ تجارتی توازن بے شک بہت خراب ہے اور پندرہ ارب ڈالر کی درآمد کے مقابلے میں پاکستان چین کو دو ارب ڈالر سے بھی کم قیمت کی اشیا برآمد کرتا ہے‘ لیکن فی الوقت جبکہ پاکستان کو سالانہ تیس ارب ڈالر سے زیادہ کا تجارتی خسارہ لاحق ہے‘ چین کو سالانہ پندرہ ارب ڈالر کے مساوی رقم کی ادائیگی مقامی کرنسی میں ہو جائے تو ڈالروں کی کمی کا جو دباؤ ملک پر ہے وہ کم ہو جائے گا اور فی الوقت اس برے حالات میں یہ بھی غنیمت ہے۔اب رہ گئی بات مسلم لیگ ن والوں سے اس دورہ کی ناکامی سے اتفاق کی‘ تو ایمانداری کی بات ہے کہ اگر اس دورے میں اسد عمر کی کارکردگی کا مفرور اسحاق ڈار کی کارکردگی سے موازنہ کروں تو یہ دورہ یقینا ناکام ٹھہرتا ہے۔ اپنے اسحاق ڈار کو فریق ثانی کو غچہ دے کر پیسے اینٹھنے کا جو فن قدرت نے ودیعت کر رکھا تھا ‘وہ اسد عمر جیسے ہما شما کو کہاں نصیب ہو سکتا ہے۔ اسحاق ڈار کو قدرت نے یہ صلاحیت وقف کر رکھی تھی کہ وہ فریق ثانی کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اپنا الو سیدھا کر لیں۔ ایک بار پنجابی فلموں کے ایک مشہور ہیرو نے ایک مشہور گلوکارہ سے شادی کرلی۔ خیر شادی نے کیا چلنا تھا؟ طلاق ہو گئی۔ بعد میں کسی نے اس ہیرو سے پوچھا: خان صاحب! آپ نے ''ان‘‘ سے شادی کیسے کرلی؟خان صاحب نے ایک لمحہ توقف کیا‘ پھر کہنے لگے: اللہ جانے مجھے کیا ہو گیا تھا؟ مجھے خود آج تک سمجھ نہیں آئی۔ اس نے میری آنکھوں میں اُلّو کا سرمہ ڈال دیا تھا۔ مفرور اسحاق ڈار صاحب بھی قرضہ لیتے وقت دوسرے کی آنکھوں میں اُلّو کا سرمہ ڈال دیتے تھے۔ قرض دینے والا بعد میں سوچتا تھا کہ اس نے کیا کرلیا ہے‘ لیکن تب تک چڑیاں کھیت چگ کر جا چکی ہوتی تھیں۔
اسحاق ڈار قرض لیتے وقت قرض دینے والے کی ہر بات تسلیم کر لیتے تھے۔ ان کا طریقہ کار بھی یہی تھا کہ جب ہم نے ادائیگی کرنی ہی نہیں تو پھر شرطیں ماننے میں کیا حرج ہے؟ دنیا میں بلند ترین شرح منافع پر بیچے جانے والے بانڈز‘ بلند ترین شرح سود پر حاصل کئے گئے قرضے اور سات سال بعد ادائیگی شروع ہونے 
والے میٹرو اور اورنج ٹرین کے قرضے۔ اکثر قرضوں کی ادائیگی کی پہلی قسط 2022ء اور 2023ء میں شروع ہونی تھی‘ یعنی اس مفروضے پر کہ اگر مسلم لیگ ن 2018ء کا الیکشن جیت بھی گئی‘ تو وہ کسی قسم کی ادائیگی نہ کرے‘ بلکہ 2023ء میں الیکشن جیتنے والے اس قرضے کی ادائیگی شروع کریں اور جب ادائیگی شروع کریں‘ تو پہاڑ جیسا سات سالوں کا سود اور پھر اگلے بیس سال وہ ان قرضوں کو اتارتے اتارتے درگور ہو جائیں۔
ایک میراثی کسی سود خور مہاجن کے پاس گیا اور اسے کہنے لگا کہ اسے دو من گندم ادھار چاہئے وہ چھ ماہ بعد اس کی ادائیگی کر دے گا۔ مہاجن کو اندازہ تھا کہ یہ میراثی جس کے پاس گروی رکھنے کو بھی کچھ نہیں اس کا سارا ادھار کھا جائے گا اور اسے کوئی وصولی نہیں ہوگی‘ لیکن مہاجن اسے صاف انکار کر کے اپنا کاروبار بھی خراب نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس نے اسے کہا کہ وہ اسے دو من گندم ادھار دینے کے لیے تیار ہے۔ یہ کہہ کر مہاجن نے بالٹی اٹھائی اور میراثی کو کہا کہ یہ دس سیر کی بالٹی ہے۔ دو من میں آٹھ بالٹیاں آئیں گی۔ یہ کہہ کر مہاجن نے گندم کے ڈھیر میں سے ایک بالٹی بھر کر نکالی اور ایک طرف ڈال دی‘ پھر دوسری بالٹی بھری‘ لیکن پوری بھرنے کے بجائے تھوڑی کم بھری اور پہلی بالٹی کے اوپر الٹا دی] پھر تیسری بالٹی بھری‘ لیکن بھری کہاں‘ دس پندرہ فیصد خالی بھری اور ڈال دی۔ غرض چوتھی‘ پانچوں اور آٹھویں بالٹی کے الٹنے تک آخری بالٹی آدھی تک کی نوبت آ گئی۔ میراثی نے بتدریج کم ہوتی ہوئی گندم کی مقدار پر کوئی اعتراض نہ کیا۔ میراثی کا خیال تھا کہ اس نے کونسا ادائیگی کرنی ہے؟ جو مل جائے غنیمت ہے۔ سو وہ خاموش رہا اور دو من جو حقیقت میں ڈیڑھ من سے بھی کہیں کم تھی اٹھانے کے لیے آگے بڑھا ‘تو مہاجن نے کہا کہ وہ اسے گندم نہیں دے رہا۔ میراثی نے پوچھا کہ کیوں؟ تو مہاجن کہنے لگا: اگر تم نے ادائیگی کرنی ہوتی تو تم گندم پوری تول کر لیتے اور ہر بالٹی کی کم ہوتی ہوئی مقدار پر اعتراض کرتے۔ تم مسلسل کم ہوتی ہوئی گندم پر اعتراض اور احتجاج کرتے‘ مگر تم نے دو من کے بجائے اس ڈیڑھ من سے بھی کم گندم کو دو من کی ادائیگی کے عوض لیتے ہوئے اس کے کم وزن پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم نے اس گندم کی ادائیگی کرنی ہی نہیں۔ تمہاری نیت ہی خراب ہے۔ اس لیے میں تم کو یہ گندم نہیں دے رہا۔اپنے اسحاق ڈار اینڈ کمپنی جب کسی سے قرض لیتے تو ان کی نیت ہی یہی تھی کہ یہ قرضہ کم از کم ہم نے تو نہیں اُتارنا۔ یہ سارا قرضہ پاکستان کی آئندہ نسلوں نے اُتارنا ہے‘ لہٰذا وہ ادائیگی کے خوف سے بے فکر ہو کر قرض لیتے رہے اور ہر شرط اور ہر گارنٹی پر قرض لے کر اللّوں تللّوں اور ذاتی موج میلے میں اڑاتے رہے۔ مختلف ترقیاتی پراجیکٹس میں کک بیکس اور کمیشن سے بیرون ملک جائیدادیں بناتے رہے اور ان ترقیاتی پراجیکٹس کے طفیل عام آدمی کو ملک میں ترقی ہوتے ہوئے بھی نظر آتی رہی۔ اس سارے موج میلے کے طفیل ہر طرف رونق لگی رہی۔ کہیں میٹرو بنتی نظر آتی رہی اور کہیں اورنج ٹرین بنتی ہوئی نظر آتی رہی۔ کہیں موٹروے بن رہے تھے اور کہیں صاف پانی سکیم جیسی کمپنیوں کی رونق لگی رہی۔ اشتہارات اور پراپیگنڈے نے سونے پر سہاگہ پھیرے رکھا۔ ہر طرف ہرا ہرا نظر آتا رہا۔ جب گئے تو پتا چلا ہر شے پر قرضہ ہے اور خزانہ خالی ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بلند شرح سود اور دیگر نامعقول شرطوں کو بلاتامل مان کر قرض لینے پر عالمی‘ معاشی اداروں نے اعتراض کیوں نہ کیا کہ ہم یہ قرض واپس نہیں کریں گے؟ قرض دینے والے یہ خون نچوڑ قسم کے ادارے کیا اس مہاجن سے بھی گئے گزرے تھے جس نے میراثی کو ادھار گندم دینے سے انکار کر دیا تھا؟ تو بات دراصل یہ ہے کہ نہ تو یہ ادارے مہاجن سے کم عقل کے مالک ہیں اور نہ ہی اسحاق ڈار کی ذاتی ویلیو اس میراثی سے زیادہ ہے‘ لیکن اسحاق ڈار کو اس غریب میراثی پر صرف ایک فوقیت حاصل تھی اور وہ یہ کہ اس میراثی کے برعکس اسحاق ڈار کے پاس 
ضمانت فراہم کرنے کے لیے مملکت خداداد پاکستان کی گارنٹی تھی اور گروی رکھنے کے لیے موٹروے‘ ایئر پورٹس اور دیگر ریاستی ملکیتی جائیدادیں۔ سو قرض دینے والوں کو اس سے کیا غرض کہ قرض لینے والا میراثی ہے یا اسحاق ڈار۔ انہیں تو مملکت خداداد پاکستان کی گارنٹی میسر ہے اور ادائیگی کے لیے آئندہ نسلیں۔
ایسی صورتحال کے لیے اردو محاورہ ہے کہ ''حلوائی کی دکان پر نانا جی کا فاتحہ‘‘۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *